این اے 249 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوگی
- ہفتہ 01 / مئ / 2021
- 8010
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ(ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل کی دوبارہ گنتی کی درخواست منظور کر لی ہے۔
کراچی کے حلقہ این اے249 کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل نے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار کو محض 683 ووٹوں کے فرق سے شکست دی جبکہ 731 ووٹ مسترد کیے گئے تھے۔ مسلم لیگ(ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل نے ضمنی انتخاب کے نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 30اپریل کو ریٹرننگ افسر کو دوبارہ گنتی کی درخواست دی تھی لیکن انہوں نے اسے مسترد کردیا تھا۔
اس کے بعد مفتاح اسماعیل نے الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 95(6) کے تحت الیکشن کمیشن سے حلقے میں ڈالے گئے تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرنے کی درخواست کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ فارم 45 اور فارم 47 میں ریکارڈ کیے گئے کُل ووٹوں میں فرق ہے جبکہ درخواست گزار نے فارم 45 کے فارنزک آڈٹ کی بھی درخواست دائر کی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق نتائج کو حتمی شکل نہیں دی گئی لیکن فتح کا مارجن ڈالے گئے ووٹوں سے 5 فیصد یا 10ہزار ووٹوں سے کم ہونے کی وجہ سے کمیشن محسوس کرتا ہے کہ بادی النظر میں مداخلت کی گنجائش موجود ہے اور دوبارہ گنتی کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔
کمیشن نے کہا کہ تمام امیدواروں کو نوٹس جاری کردیے جائیں اور 4 مئی کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے الیکشن کمیشن میں سماعت ہو گی۔ یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار قادر خان مندوخیل کراچی کے حلقہ این اے-249 کے ضمنی انتخاب میں فاتح قرار پائے تھے۔
غیر حتمی نتیجے کے مطابق ضمنی انتخاب کے دوران مجموعی طور پر 73 ہزار 471 ووٹس ڈالے گئے لیکن انتہائی کم ووٹر ٹرن آؤٹ کے باوجود نتائج انتہائی تاخیر کا شکار ہوئے اور رات بھر نتیجہ نہ آ سکا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسمٰعیل 15 ہزار 473 ووٹ حاصل کر کے دوسرے اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مفتی نذیر احمد کمالوی 11 ہزار 125 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہے۔
غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال چوتھے نمبر پر 9 ہزار 227 ووٹ حاصل کرسکے اور اس سے قبل اس حلقے سے کامیاب ہونے والی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) محض 8 ہزار 922 ووٹ کے ساتھ پانچویں نمبر پر آئی۔