بھارت میں یومیہ 4 لاکھ سے زائد کورونا کیسز کا نیا ریکاڈ

  • ہفتہ 01 / مئ / 2021
  • 5000

بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے کیسز کی تعداد پہلی مرتبہ 4 لاکھ سے تجاوز کرگئی۔ وبا کی صورت حال کے پیش نظر متعدد ممالک بھارت کے لئے سفری پابندیوں پر غور کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت وائرس کی دوسری لہر کی شدید لپیٹ میں ہے 10 روز قبل ہی 3 لاکھ کیسز کی حد عبور ہوئی تھی اور اب ایک روز میں  4 لاکھ ایک ہزار 993 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ڈیٹا کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 ہزار 523 تھی جس کے بعد ملک میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 11 ہزار 853 افراد وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے کورونا ویکسین بنانے والے ملک میں اب محدود تعداد میں ویکسین دستیاب ہے جس سے انفیکشن کی دوسری لہر کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔  ہسپتال اور مردہ خانے بھر چکے ہیں جبکہ وائرس کا شکار افراد کے اہلخانہ دواؤں اور آکسیجن کی تلاش میں ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کے مرکزی تجارتی شہر احمدآباد میں سینکڑوں افراد کو ویکسین کے لیے قطار میں کھڑے دیکھا گیا۔ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست دہلی کے وزیر اعلی نے لوگوں سے ویکسین مراکز میں قطار نہ لگانے کی ہدایت کی اور وعدہ کیا کہ مزید ویکسین 'ایک یا دو روز میں' پہنچے گی۔

بھارت کی مشرقی ریاست اڑیسہ نے کہا تھا کہ اسے ڈیڑھ لاکھ خوراکوں کی کھیپ موصول ہوئی ہے تاہم لاک ڈاؤن پابندیوں اور نقل و حمل کی روک تھام کی وجہ سے وہ صرف چند لوگوں کو ویکسین لگانے کی اجازت دیں گے۔ احمد آباد کے جنوب میں 190 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 16 کورونا وائرس کے مریض اور دو عملے کی موت ہوگئی، یہ ہسپتالوں میں ہلاکت خیز حادثات کے سلسلے میں تازہ ترین ہے۔

دارالحکومت نئی دہلی کے ایک سکھ گردوارے میں عبادت کرتے ہوئے خود کی تصاویر شائع کرنے کے چند گھنٹوں بعد نریندر مودی نے ٹوئٹر پر ہسپتال میں آتشزدگی سے ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ چند ماہرین نے بڑے پیمانے پر مذہبی اجتماعات اور سیاسی جلسوں کو بھارت کی دوسری لہر کی شدت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

مودی انتظامیہ کے قائم کردہ سائنسی مشیروں کے ایک فورم نے مارچ کے اوائل میں ہی بھارتی عہدیداروں کو ملک میں نئے اور زیادہ تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی قسم  کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ فورم کے چار سائنسدانوں نے کہا ہے کہ انتباہ کے باوجود وفاقی حکومت نے وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے پابندیاں عائد کرنے کی کوشش نہیں کی۔

نریندر مودی، بھارتیا جنتا پارٹی کے قائدین اور اپوزیشن کے سیاست دانوں کی ریلیوں اور دیگر مذہبی اجتماعات میں لاکھوں افراد نے شرکت کی جس میں لوگوں نے ماسک بھی نہین پہنے۔ بھارت میں کورونا کیسز کی کل تعداد ایک کروڑ 90 لاکھ ہے۔ فروری کے آخر سے بھارت میں پھیلی دوسری لہر سے اب تک 77 لاکھ کیسز کا اضافہ ہوا ہے۔

کیسز میں اضافے کے نتیجے میں امریکی صدر جو بائیڈن نے بھارت پر نئی سفری پابندیاں عائد کرتے ہوئے زیادہ تر غیر امریکی شہریوں کو امریکا میں داخلے سے روک دیا۔ دوسرے ممالک اور خطوں بشمول برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور سنگاپور نے بھی بھارت پر اسی طرح کی سفری پابندیاں عائد کردی ہیں جبکہ کینیڈا، ہانگ کانگ اور نیوزی لینڈ نے بھارت سے تمام کمرشل پروازوں کو معطل کردیا ہے۔