وزیراعظم کی انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت

  • ہفتہ 01 / مئ / 2021
  • 6460

وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کے لیے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ 1970 کے الیکشن کے علاوہ تمام انتخابات میں دھاندلی کے دعویٰ کیے گئے اور انتخابی نتائج  پر شک پیدا ہوئے ہیں۔

متعدد ٹوئٹ پیغامات میں انہوں نے کہا ہے کہ ووٹرز کے ٹرن آؤٹ میں نمایاں کمی کے باوجود این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں تمام سیاسی پارٹیاں چیخ چیخ کرکے دھاندلی کا دعویٰ کررہی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ایسا ہی معاملہ ڈسکہ اور سینیٹ انتخاب میں بھی ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ 1970 کے الیکشن کے علاوہ ہر انتخاب میں دھاندلی کے دعویٰ کیے گئے جس سے انتخابی نتائج مشکوک ہوگئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 2013 کے انتخابات میں حلقہ این اے کی 133 نشستوں پر تنازع الیکشن ٹربیونلز کے سامنے پیش ہوا۔ ہم نے 4 حلقوں کی اسکروٹنی کا مطالبہ کیا جس میں دھاندلی ثابت ہوئی۔ جوڈیشل کمیشن نے الیکشن کے ضابطہ اخلاق میں 40 نقائص کی نشاندہی کی۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس کے باوجود بدقسمتی سے کوئی خاطر خواہ اصلاحات عمل میں نہیں آئیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور ٹیکنالوجی کا استعمال ہی انتخابات کی ساکھ کو برقرار رکھنے کا واحد حل ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر ای وی ایم ماڈل میں سے انتخاب کریں جو انتخابات کی ساکھ بحال کرنے کے لیے ہمارے پاس دستیاب ہیں۔

انہوں نے حال ہی میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کو متنازع بنانے کے لیے ہر ممکن  کوشش کی لیکن انتخاب میں بی ای سی ٹیکنالوجی کی بدولت ایک بے قاعدگی بھی سامنے نہیں آسکی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ایک سال سے  اپوزیشن سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور ہمارے موجودہ انتخابی نظام کی اصلاح میں مدد کریں۔  ہماری حکومت پرعزم ہے اور انتخابات میں شفافیت اور اس کی ساکھ بحال کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے انتخابی نظام میں اصلاحات لائیں گے اور اپنی جمہوریت کو مضبوط کریں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار قادر خان مندوخیل کراچی کے حلقہ این اے-249 میں ضمنی انتخاب میں فاتح قرار پائے تھے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی نے ضمنی انتخاب میں دھاندلی کا الزام لگا کر نتیجہ مسترد کردیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا تھا کہ صرف چند سو ووٹوں کے ذریعے مسلم لیگ (ن) سے الیکشن چوری کرلیا گیا۔

حال ہی میں سینیٹ انتخابات میں ووٹ کی مبینہ خرید وفروخت کے دعویٰ زیر گردش رہے تھے۔ جس کےبعد مارچ میں وزیر اعظم عمران خان نے انتخابی اصلاحات اور انتخابات میں کرپٹ پریکٹیسز کے خاتمے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے  بین الجماعتی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی تھی۔