کووڈ-19 کی روک تھام کے لئے افغان اور ایران سرحد بند کردی گئی
- اتوار 02 / مئ / 2021
- 9460
نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر نے ملک میں کورونا وائرس کی نئی قسم کی روک تھام کے پیش نظر ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحد پر مسافروں کی آمد پر پابندی عائد کردی ہے۔
این سی او سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں وائرس کی مختلف اقسام سامنے آنے اور پاکستان میں مزید نئے وائرس کی درآمد روکنے کے لیے افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی پالیسی کے تحت شہریوں کی پیدل آمد اور بارڈر ٹرمینلز پر مؤثر کووڈ پروٹوکولز کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے جائزہ لیا گیا۔
دونوں ممالک کے ساتھ سرحد میں درج ذیل اقدامات پر عمل کیا جائے گا: نظرثانی شدہ لینڈ بارڈر منیجمنٹ پالیسی 4 اور 5 مئی کی درمیانی شب سے 19 اور 20 مئی کی درمیانی شب تک مؤثر ہوگی اور اس اطلاق صرف مسافروں پر ہوگا۔ این سی او سی کے مطابق ان اقدامات کا افغانستان کے ساتھ دو طرفہ کارگو تجارت پر اطلاق نہیں ہوگا۔
بیان کے مطابق بارڈر ٹرمینلز پورے ہفتے کھلے رہیں گے۔ کووڈ کے قواعد اور ٹیسٹنگ کے پروٹوکولز پر سختی سے عمل کرنے کے لیے سرحد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور طبی عملے کی تعداد بڑھا دی جائے گی۔ این سی او سی نے کہا کہ مسافروں کی آمد پر پابندی 4 اور 5 مئی کی درمیانی شب سے شروع ہوگی لیکن
افغانستان اور ایران میں موجود پاکستان کے شہریوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا جو واپس آنا چاہتے ہیں یا جنہیں ہنگامی بنیاد پر طبی امداد کی ضرورت ہو۔
ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کے قواعد کے تحت باہر سے آنے والے مسافروں کو ٹیسٹ کروانا ہوگا اور ٹیسٹ مثبت آنے والے مسافروں کو قریبی قرنطینہ مراکز میں تبدیل کردیا جائے گا۔ افغانستان سے آنے والے استثنیٰ کے حامل مسافروں کو بھی ٹیسٹ کروانا ہوگا اور مثبت کیس کی صورت میں ایسے مسافروں کو واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا۔
سرحد پر تمام ڈرائیورز اور ان کے معاونین کی تھرمل اسکیننگ بھی ہوگی اور علامات کی صورت میں ان کا ٹیسٹ ہوگا اور مثبت کیسز پر مذکورہ قواعد کے تحت عمل کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ ایران نے 28 اپریل کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد جزوی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔