طارق مرزا کی کتاب ’دُنیا رنگ رنگیلی‘ کے فکری تجربے
سیاحت جب ایک حساس دل رکھنے والے لکھاری کی دیرینہ خواہش ہو تو اس کی تکمیل ادب میں ’دنیا رنگ رنگیلی‘ جیسے سفر نامے کا اضافہ کردیتی ہے۔ طارق محمود مرزا کا یہ سفر نامہ نیوزی لینڈ، جاپان اور تھائی لینڈ کی سیر کا احوال بیان کرتا ہے۔
نیوزی لینڈ کی سیر کے دوران مصنف جہاں کوئنز ٹاؤن اور گلی نورکی کے خوبصورت مناظر دیکھ کر سبحان تیری قدرت کا ورد کرتا دکھائی دیتا ہے وہیں اس کے تجربے فکر ی نوعیت کے ہیں۔ وہ ان ممالک کے امن کو یہاں کے لوگوں کا قانون کی بالا دستی پر ایمان، احترامِ انسانیت، باہمی رواداری اور عد م تعصب کو قرار دیتا ہے۔ مصنف کا اپنا تعلق چونکہ پاکستان سے ہے جو ہمیشہ سے ہی نازک دور سے گزرتا رہا ہے اور ایسے ادوار سے گزرنے کی قیمت اس ملک کے عوام ہی ادا کرتے رہے ہیں چنانچہ اپنے لوگوں کی تکالیف کا احساس مصنف کے لاشعور میں چھپا بیٹھا ہے۔ اس لیے جب وہ نیوزی لینڈ کے پرامن ماحول میں لوگوں کو زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے دیکھتا ہے تو”درد کی ایک لہر اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔“
وہ امن اور اس کے ثمرات کو اپنے لوگوں کا مقدر بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ مصنف کے اندر تجسس کا عنصر نمایاں ہے جواسے لوگوں سے ملنے اور ان سے سوال و جواب کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ گلی نورکی کے ایک فارم ہاؤس کی طرف بے اختیار گاڑی موڑ دینااس کی ایک مثال ہے۔ فارم ہاؤس کسی کی ذاتی پراپرٹی ہے اور اس میں بلا اجازت داخلہ معیوب سمجھا جاتا ہے، مالکان اس کا برا بھی منا سکتے ہیں لیکن مصنف کا تجسس ان امکانات پر بھاری پڑتا ہے۔ چنانچہ کچھ جاننے کی خواہش میں اس کی ملاقات فارم ہاؤس کے مالکان ماریا اورفرینک سے ہوتی ہے۔ گلی نورکی ان کا آبائی گاؤں ہے۔ وہ کچھ سال آکلینڈ اور ولنگٹن جیسے بڑے شہروں میں گزار چکے ہیں لیکن پھر بڑے شہروں کی انتہائی مصروف اور ہیجان انگیز زندگی سے بھاگ کر سکون کی خواہش میں ہمیشہ کے لیے اپنے آبائی گاؤں میں آکر آباد ہوگئے۔ ماریااور فرینک کے بچے نہیں ہیں۔ ماریا کے خیال میں ”انسان کو ایک ہی زندگی ملتی ہے۔ اس ایک اور مختصر زندگی کو انسان بڑے بوڑھوں اور بچوں کو سنبھالنے میں صرف کر دے تو زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع کب ملے گا۔“
مصنف ماریا کی اس سوچ پر تبصرہ کرنے سے پرہیز کرتا ہے اور اسے ہر شخص کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق گردانتا ہے۔ یہ واقعہ بہر حال اس بات کی مخبری کرتا ہے کہ مشرق اور مغرب میں بسنے والے اپنی سوچوں اور رویوں میں انتہائی حدوں کو چھوتے نظر آتے ہیں۔ مشرق میں اولاد کی خواہش نے بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ کھڑا کر رکھا ہے تو مغرب میں اولاد پیدا نہ کرنے اور صرف اپنے لیے زندگی گزارنے کی سوچ نے کم آبادی کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ چناچہ گلینورکی اور نیوزی لینڈ کی آبادی بڑھنے کی بجائے گھٹ رہی ہے۔ تاہم آبادی کی کمی اور وسائل کی زیادتی نے یہاں کے لوگوں کی زندگی کو پرسکون اور پر آسائش ضرور بنا رکھا ہے۔ اپنی نسل بڑھانے کا اختیار شاید اللہ تعالٰی نے اسی لیے انسان کے اختیار میں رکھا ہے کہ وہ اپنی آبادی اور وسائل میں اپنی مرضی و منشا سے توازن قائم رکھے اس معاملے میں مالکِ کائنات کی طرف سے انسان پر کوئی رو ک ٹوک یا قدغن نہیں ہے۔
ماحولیاتی آلودگی ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے اس کا تعلق جہاں درختوں کی کمی سے ہے وہیں اس کی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی بھی ہے۔ جب بڑھتی ہوئی آبادی کا عفریت کھیتوں کھلیانوں اور جنگلات کو نگل جائے گا تو یہ طے شدہ امر ہے کہ آلودگی میں اضافہ ہو گا۔ مصنف کو نیوزی لینڈ میں درختوں کی بھرمار نظر آئی اور ہونی بھی چاہیے تھی کیونکہ نیوزی لینڈ کا تیس فیصد رقبہ جنگلات پرمشتمل ہے جس میں سالانہ اعشاریہ تین فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں بے تحاشا جنگلات کے باوجود درختوں کو اُگانے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے جبکہ درخت کاٹنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے بعد مصنف کا دھیان اپنے آبائی وطن کی طرف لوٹ جاتا ہے جہاں جنگلات میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ درختوں کو کاٹ کر ہاوسنگ کالونیوں کی تعمیر زوروں پر ہے۔ مصنف اس کی وجہ ہماری مختلف ترجیحات کو قرار دیتا ہے۔ یہ مختلف ترجیحات جو بھی گْل کھلائیں گی اس کا خمیازہ ایک دن ہم سب کو بھگتنا پڑے گا۔
نیوزی لینڈ کے قصبے ایرو ٹاؤن کو انیسویں صدی کے طرز پر برقرار رکھنے کی کوشش نے یہاں کے ”کھلے پن،دیہی رنگ ڈھنگ اور فطری حسن کر برقرار رکھا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ 1991 میں کامن ویلتھ ممالک کی پچاسویں سالگرہ جب ایرو ٹاؤن میں منعقد ہوئی تو ا س کانفرنس کے شرکا ایرو ٹاؤن کی فطری خوبصورتی کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے اور انہوں نے اسے اسی حالت میں قائم و دائم رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ سر سبز و شاداب وادیاں، گھنے جنگلات، درخت، پودے اور پھول زمین کا زیور ہیں۔ یہ زمین کو خوبصورت فطری مناظرسے مزیّن کرتے ہیں اور جن علاقوں میں زمین کے اس زیور کی لوٹ مار نہیں کی گئی وہ فطری حسن کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ایرو ٹاؤن کاشمار ایسے ہی علاقوں میں کیا جاسکتا ہے۔ شہروں کے تجارتی و صنعتی علاقوں میں بدلتے ماحول میں ایرو ٹاؤن یہ پیغام دیتا نظر آتا ہے کہ ترقی کی خواہش میں زمین کو اس کے فطری حسن سے محروم نہ کیا جائے تو جہاں ایک طرف اس مشینی دور میں انسان کی جمالیاتی حس کو تسکین دیتے ایرو ٹاؤن ہر جگہ نظر آ سکتے ہیں۔
دوسری طرف سبزے اور درختوں کی بہتات فضائی آلودگی کو کم کرنے کا باعث بنے گی۔کروم ویل کے قصبے میں گھومتے ہوئے بھی مصنف کو یوں لگتا ہے جیسے ”وقت رْک سا گیا ہے“کیونکہ یہاں بھی ”جدید دور کی بڑی بڑی عمارتیں ہیں نہ گاڑیوں کا شور شرابہ۔دھوئیں اور گردوغبار کا آزار ہے نہ انسانوں کی گہما گہمی۔یہ شہر ان سب سے پاک ڈیڑھ دو صدی قبل کی زندگی جی رہاہے۔“ ان شہروں یا قصبوں کی یہ خصوصیات کم آبادی کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان کو ایسا رکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور جب کوئی ان علاقوں کی سیر کو آتا ہے تو اسے ایسا لگتا ہے کہ وہ نصف یا ایک صدی قبل کے زمانے میں آگیا ہے۔ انسان کوان چیزوں سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا کی تیزی سے بڑھتی آبادی، درختوں اور جنگلات کو کاٹ کر بڑی بڑی رہائشی عمارتوں کی تعمیر اورصنعتی ترقی کی کیا قیمت ادا کر رہا ہے۔ چنانچہ مصنف اپنے ہاں تیزی سے بڑھتی آبادی اور اس سے کہیں زیادہ تیزی سے کم ہوتے درختوں کے المیے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے آگے اگر بند نہ باندھا گیا تو وطنِ عزیر میں ”چند سالوں میں لوگ ماسک پہن کر گھروں سے نکلیں گے۔“
کروم ویل کے ٹورسٹ انفارمیشن سینٹر میں موجود خاتون نے مصنف کو کروم ویل قصبے کی تاریخ اور پسِ منظر کے متعلق پوچھے گئے سوالات کے تفصیلی جوابات دئیے تو مصنف اس کے اندازِ بیان سے متاثر ہوکر اسے کوئی پروفیسر سمجھا اور مزے کی بات یہ کہ وہ یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر رہ چکی تھی اور”اب وہ اس چھوٹے سے قصبے کے اس چھوٹے سے دفتر میں کام کرتی تھی جہاں صفائی ستھرائی سمیت تمام کام اس کے ذمہ تھے۔“ یونیورسٹی کے پروفیسر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوکر ایک ٹورسٹ انفارمیشن کے دفتر کی ملازمت ایک سیاح کی فکر کو ضرور جھنجھوڑے گی جو ایسے معاشرے میں پلا بڑھا ہو جہاں انسان کے کام اور اخلاق کی کم اور اس کے سٹیٹس، سٹینڈرڈ اور عہدے کی زیادہ قدر کی جاتی ہے۔ جہاں امیر اپنے سے غریب انسان کو انسان نہیں سمجھتا۔ غربت و امارت کا فرق نیوزی لینڈ میں ضرور ہوگا لیکن ”نہ کوئی امیر اپنی امارت کا رعب جما سکتا ہے اور نہ کوئی کم آمدنی والا کسی کے رعب میں آتا ہے۔ عام زندگی میں یہاں سب برابر ہیں۔ یہ اس معاشرے کی خصوصیت اور یہی اس کا طرہّ امتیاز ہے۔“
یہ نیوزی لینڈ کی سیاحت کے فکری تجربوں کی ایک جھلک ہے جن سے تفصیلاََ آگاہی آپ کو طارق محمود مرزا کے سفرنامے ’دنیا رنگ رنگیلی‘کے مطالعہ سے ہی حاصل ہوسکتی ہے جو پاکستان کے نامور اشاعتی ادارے سنگ میل پبلشرز نے شائع کی ہے۔ سیاحت کا ایک مقصد دوسری اقوام کی بودوباش اور طرز حیات سے آگاہی بھی ہوتی ہے کہ انسان ان کی خوبیوں اور اپنی خامیوں یا اپنی خوبیوں اور اْن کی خامیوں سے آگاہی حاصل کرسکے۔ سیکھنے کا عمل دو طرفہ ہوتا ہے کیونکہ کوئی بھی چیز، بات یا تصور مکمل یعنی پرفیکٹ نہیں ہوتا اس میں بہتری اور اصلاح کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے۔ سیاحت اسی اصلاح کی گنجائش کو ڈھونڈنے کا دوسرا نام بھی ہے۔ مصنف کے نیوزی لینڈ کی سیر کے دوران ہونے والے مشاہدات اور ان کے اپنے آبائی وطن سے تقابلی جائزے کا مقصد تنقیدی نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی اس خواہش کا اظہار ہے کہ زندگی اپنی تمام تر نعمتوں اور قدرت کے عطا کردہ خوبصورت فطری مظاہر کے ساتھ اس کے ہم وطنوں کا بھی مقدر بنے۔ جن کو اگرچہ قدرت کی جانب سے یہ تما م نعمتیں حاصل ہیں لیکن ضرورت صرف ان کو بہتر سے بہتر بنانے کی ہے۔