پیارے سہیل صاحب!

پیارے سہیل صاحب مجھے معلوم ہے آپ آج بھی ویسے ہی مسکراتے دیکھ رہے ہیں اور آپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی ہے، آدھی مسکراہٹ واضح آدھی مونچھوں کے پیچھے چھپی ہے۔

 آپ سر اثبات میں ہلاکر کہہ رہے سرور آپ کہاں رہ گئے۔ آپ میری تدفین پر بھی نہیں آئے۔ سہیل صاحب اتنی طاقت کہاں سے لاتا۔ آپ بھٹو ہاؤس میں بلاتے، صبح کے ناشتے پر دوپہر کے کھانے پر بلاتے اور میں نہ آتا تو آپ کی شکایت حق بجانب ہوتی۔ آپ کے مسکراتے چہرے کو کب میں پھیکا ہوتے دیکھ سکتا، بس اسی لیے بیمار پڑگیا۔ ہاں انور بھائی نے بھی آج کل خوب تنگ کیا ہوا۔ لیکن دیکھیے آج آگیا ہوں آپ کے پاس اور وہیں بیٹھ کر آپ سے مخاطب ہوں۔ آپ تو زماں و مکاں سے بالا سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں۔ اور میں یاد کرنے کی کو شش کر رہا ہوں کہ سب سے پہلے آپ سے کہاں ملاقات ہوئی تھی۔

یہ ایسا ہے جیسے انسان کسی ماں جائے کے بارے میں سوچے کہ اس سے پہلی ملاقات کہاں ہوئی تھی۔ شاید جنگ فورم کا ایک مذاکرہ تھا۔ سن 1993کا تھا، اور ثریا شہاب برلن آئی ہوئی تھیں اس مذاکرے میں آپ سے پہلی تفصیلی ملاقات ہوئی تھی۔ ورنہ برلن میں رہتے ہوئے آپ سے سرسری ملاقات تو ہوتی ہی رہتی تھی۔ ٹی ایس فوڈ کی پہلی شاپ میں اور جلسوں میں جن کا آپ اہتمام کیا کرتے تھے۔ بھٹو ہاؤس کی بنیاد رکھتے وقت آپ کس قدر متحرک تھے، کس خلوص اور محبت سے اس کی ایک ایک اینٹ سجارہے تھے۔ کتنے مشاعرے،  سیاسی جلسے، تقریبات اور تصویری نمائش وہاں منعقد ہوئیں۔ اور پھر وہی صحبت برہم۔

آپ کے ابو جان برلن تشریف لائے ان کی علمی قابلیت سے بندہ مرعوب ہوا اورپتہ چلا کہ سہیل انور خاں جس خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں وہ علمی اور باشعور گھرانا ہے۔ آپ کے والد صاحب کی کتاب بھی آپ نے دی تھی۔ جس سے آپ کے اور آپ کے گھرانے کے بارے میں بہت کچھ جاننے کو ملا۔ آپ نے طارق محود صاحب کے ساتھ مل کر جو کچھ برلن کو دیا، سیاسی شعور، علمی قدر ومنزلت، مل جل کر رہنے، اتفاق و اتحاد وہ سب کچھ آپ کی یادوں سے ہمشہ جڑا رہے گا۔ یہ بات تمام علمی، عتدل سیاسی اور ترقی پسند افراد میں روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پیپلزپارٹی ایک معتدل اور علمی شعوری بالیدگی کی حامل سیاسی جماعت ہے۔ سہیل انور خان اور ان کے جیسے تمام سیاسی شعور کے حامل افراد اسی وجہ سے اس سیاسی جماعت کے منشور پر کام کرتے رہے اور کرتے رہیں گے۔

باوجود معمولی اختلافات یا دیگر سوچ کہ تمام ہی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اس پارٹی کا منشور اور عوام کی بہتر زندگی آزادانہ سوچ کی جو جدوجہد اس سیاسی سوچ کے سوتے سے پھوٹی ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ اس بارے میں اعتراضات اٹھائے جاسکتے ہیں کہ اس کے منشور پر کتنا عمل کیا جاتاہے یا کس نے کب کتنا اس پر عمل کے موقع کو گنوایا یا کوتاہی کی گئی یا نہیں مگر اس کا منشور بہرحال ایک اہم اور مستند دستاویز ہے جو اس پارٹی کے رجحانات اور عوام دوستی کا ایک پیمانہ ہے۔ سہیل صاحب گو کہ آپ صرف پیپلزپارٹی پارٹی کے ساتھ ہی منسلک رہے اور کتنے ہی پارٹی کے عہدیداروں اور سیاستدانوں کو برلن مدعو کیا۔ کئی ایک یادگار ملاقاتیں کروائیں۔ جن میں رحمان ملک صاحب اور جہانگیر بدر صاحب سے ملاقاتیں آج بھی ہماری یادوں میں خوشبو بکھیرنے کا باعث ہیں۔

مگر آپ نے اپنے پروگرام اور اسٹیج کو صرف ایک پارٹی سے وابستہ افراد یا ایک نظریہ فکر کے لوگوں کے لیے محدود نہیں رکھا بلکہ اسے وسعت دی اور اسے تمام طبقہ فکر اور نظریہ کے لیے کھول دیا۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ کھلے دل اور ذہن کے مالک تھے۔ جس کا دل شفاف آئینے کی طرح اور دماغ تعصب سے پاک تھا۔ اور سیاسی کام کے ساتھ آپ نے اور طارق صاحب نے جو سماجی کام کیے اور برلن، جرمنی اور پاکستان تک اس کو پھیلایا۔ اس سے محبت، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ ملا۔ آپ نے اپنے طرز عمل سے بتایا کہ سیاست اصل میں سماجی بہبود کا نام ہے۔ کتنے ہی افراد کی آپ خاموشی سے مالی مدد کیا کرتے تھے۔ اور جب سیلاب یا زلزلے کی مشکلات میں پاکستان میں لوگوں کو مدد کی ضرورت تھی تو آپ دونوں نے یہاں سے چندہ اکٹھا کیا اور پاکستان سازوسامان بھجوایا۔ مجھے یاد ہے آپ نے چندے اکٹھے کرنے کے لیے ایک پروگرام ترتیب دیا اور میں نے اپنی پینٹنگز نیلام کرنے کے لیے پیش کیں۔ اور آپ کی پکار پر میری آڑی ٹیڑھی پینٹنگز کو ایسی پذیرائی ملی کے ہاتھوں ہاتھ بک گئیں اور بہت سارا چندہ جمع ہوا۔

کبھی عید ملن پارٹی پر آپ نے سارے برلن کو اکٹھا کیا توکبھی کسی اور موقعے پر۔
سہیل انور خان ایک دور کا نام ہے ایک  زندگی سے بھرپور شخصیت، سیاست کیا تو اسے اس کی معراج کو پہنچادیا۔ کاروبار کیا تو اسے لا متناہی وسعت دی۔ اعلی خیالات اور ذہانت کے مالک۔ میرے دوست، ساتھی، ہر کسی کے دکھ درد میں کام آنے والے۔ سماجی بہبود کے امور میں پیش پیش، علمی، کاروباری، سیاسی شخصیت انسان دوست سہیل انور خان۔
استدعا برائے دعائے ایصال ثواب ہے۔ اللہ تعالی آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین۔ برلن کے کلاڈو کے قبرستان میں آپ اور طارق صاحب دونوں اس طرح پہلو بہ پہلو محو خواب ہیں جیسے زندگی بھر ساتھ ساتھ رہے۔ ٹی ایس فوڈ اب ابدی انٹر پرائز بن چکا ہے۔