کرونا کاعلاج اور عدم شفافیت کا نظام
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 02 / مئ / 2021
- 4510
پاکستان میں حکمرانی کا بحران ہمیشہ سے رہا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد خیال تھا کہ جس انداز سے سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات مرکز سے صوبوں میں منتقل ہوں گے تو اس کا ایک بڑا نتیجہ صوبائی اور مقامی سطح پر منصفانہ او رشفاف حکمرانی کے تناظر میں دیکھنے کو ملے گا۔
مرکز سے اختیارات صوبوں اور صوبوں سے ضلعی یا تحصیل سطح پر ایک مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام ہی بنیادی طور پر ہماری سیاسی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ریاستی و حکومتی نظام کی ترجیحات میں مرکزیت پر مبنی حکمرانی کا نظام ہمارے سارے حکمرانی کے نظام کو بدترین انداز میں متاثر کررہا ہے۔ اس کی ایک بڑی بھاری قیمت ہمیں عوامی مفادات کے تناظر میں استحصال پر مبنی معاشرہ یا نظام کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے جو لوگوں میں ریاست ا ور حکومت کے بارے میں موجود اعتماد کے رشتے کو بداعتمادی میں تبدیل کرتا ہے۔
اس وقت دنیا مجموعی طور پر ایک بہت ہی بڑے بحران یعنی کرونا جیسے موزی وبا سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ خود پاکستان بھی اس مرض سے محفوظ نہیں۔ اس وبا نے مجموعی طور پر ہمارے حکمرانی کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سب سے بڑا بحران ہمیں شعبہ صحت کے تناظر میں دیکھنے کو ملا ہے۔ یعنی کرونا کے بحران نے جو شعبہ سب سے زیادہ نمایاں طور پر خامی کی صورت میں اجاگر کیا ہے وہ ہمارا صحت کا شعبہ تھا۔ اس کا اعترا ف ریاستی و حکومتی سطح سمیت عالمی ادارہ صحت نے بھی کیا ہے۔ ایک طرف حکومتی نظام ہے جو مجموعی طور پر اپنی شفاف صلاحیتوں سے محروم نظر آتا ہے۔ بالخصوص کسی بھی قدرتی آفات یا حادثہ یا وبا کی صورت میں کیا ہمارا صحت کا شعبہ عوامی مفادات یا توقعات کوادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیا وہ تمام ہنگامی اور ضروری اقدامات یا سہولتیں ہمارے پاس میسر ہیں جو ہمیں اس طرح کے حادثات یا وبا سے نمٹنے کے لیے درکار ہوتے ہیں، تو جواب نفی میں ملتا ہے۔
پاکستان جو اس وقت کرونا کے بحران سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے اس میں ایک بڑا مسئلہ عام آدمی کو اس بیماری کے تناظر میں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومتی یا نجی شعبہ کی سطح پر موجود صحت کی سہولتوں سے عام او رکمزور یا غریب آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے میں اپنی بنیادی ذمہ دار ی ادا کرے۔ یہ ریاست یا حکومت کا عوام پر احسان نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔ہسپتالوں میں کمروں کی دستیابی، بستر کی موجودگی، بنیادی ادویات کی فراہمی، اکسیجن کا موجود ہونا، وینٹی لیٹر کا ہونا، ایکسرے یا ٹیسٹوں کو سہولیات کا ہونا، ڈاکٹروں او رنرسوں سمیت پیرا میڈیکل سٹاف بنیادی سہولتیں ہیں۔
اس وقت ہمارا سرکاری صحت کا شعبہ جن محدود وسائل، سہولتوں اور عدم ترجیحات کے باوجود کرونا سے نمٹنے کے لیے جو دن رات کام کررہا ہے اس کی بھی ہر سطح پر پزیرائی اور تعریف ہونی چاہیے۔ ان سرکاری ڈاکٹروں او رعملہ نے ہنگامی بنیادوں پر ایک فوج کی طرح اپنا حق ادا کیا ہے۔کرونا ویکسین کی فراہمی یا دستیابی کے معاملات میں بھی بہتری نظر آرہی ہے او ر خا ص طو رپر جس انداز سے عام اور غریب لوگوں کو ویکسین کی سہولت فراہم کی جارہی ہے وہ واقعی قابل تعریف عمل ہے اور اس میں حکومت پاکستان نے بھی کافی حد تک ذمہ داری کا مظاہرہ کیاہے۔
لیکن کرونا جیسے مرض پر ہمارے نجی شعبہ میں جو منافع کمانے کی ڈور لگی ہوئی ہے وہ بھی قابل غور ہے۔ یعنی ہم بطو رقوم لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے موقع پر جو مہذب معاشرہ یا طبقہ کی ذمہ داری ہوتی ہے اس کا واقعی بڑی سطح پر فقدان پایا جاتا ہے۔ مثال کے طو رپر اس وقت آکسیجن کی فراہمی کا مسئلہ ہی دیکھ لیں جیسے ہی لوگوں کی اس بیماری میں بڑی ضرورت بنی تو کیسے اکسیجن سلنڈرکی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ نجی شعبہ جات میں قائم لیبارٹڑی میں ٹیسٹوں کی قیمتوں میں اضافہ، ہسپتالوں کے کمروں سمیت دیگر دی جانے والی سہولتوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ، ڈاکٹروں کی فیس، وینٹی لینٹرزکا کرایہ، بلاوجہ ٹیسٹوں کی طرف لوگوں کو مائل کرنا، زیادہ مریض کی صورتحال خراب نہ ہونے کے باوجود ان کو ہسپتال رکھنے کا رجحان سب کے پیچھے دولت زیادہ سے زیادہ کمانے کا کھیل غالب ہوگیا ہے۔بہت سے مریض گلہ کرتے ہیں کہ ہسپتال انتظامیہ کا مجموعی رویہ انسان دوستی کی بجائے کاروباری بن گیا ہے اور ہر مشکل وقت کو بنیاد بنا کر پیسے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو کچھ کرونا کے نام پر نجی شعبہ جات میں ہورہا ہے اس میں خرابیوں کا ذمہ دار کون ہے۔ نجی شعبہ کی بڑی اہمیت ہے۔ اس سے انکار نہیں او راس شعبہ کو سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ ا ور زیادہ مضبوط ہونا چاہیے۔ لیکن ان نجی شعبہ جات کی کون نگرانی کررہا ہے اور کیسے ان کو قانون اور حکومتی پالیسیوں کے تابع کیا جاسکتا ہے۔ صوبائی سطح پر ہمارے پاس صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشن موجود ہیں۔ پنجاب میں بھی پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کام کررہا ہے۔ اس ادارہ کی بنیادی ذمہ داری میں پنجاب میں صحت کی سہولتوں کو منصفانہ اور شفاف بنانا ہے جو لوگوں کو صحت کی بہتر سہولتوں کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ہم نے اس شعبہ میں بہت زیادہ گرم جوشی دیکھی، کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور ان نجی شعبہ جات کو جوابدہ بنایا گیا۔ کوشش کی جارہی تھی کہ نجی شعبہ کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی میں مادرپدر آزادی نہیں دی جانی چاہیے۔ حکمرانی کے نظام میں نجی شعبہ میں شفافیت کو پیدا کرنے میں ریگولٹری اتھارٹیوں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ان کا نام بنیادی طور پر نجی شعبہ جات کی بنیادی طے شدہ اشاریوں پر نگرانی کے نظام کو شفاف بنانا ہوتا ہے۔یعنی ان نجی شعبوں میں نہ صرف لوگوں کو سہولیات مل رہی ہوں بلکہ ان کی قیمتوں میں بھی توازن ہونا چاہیے۔
لیکن اس وقت کرونا کے مریضوں او ران کے خاندان کے لوگ جس انداز میں نجی شعبوں پر تنقید کررہے ہیں او رجس انداز سے ریاست یا حکومتی نظام کی کمزوریوں کے باعث لوگوں کو نجی ہسپتالوں او رلیبا ٹریوں سے مسائل کا سامنا ہے ان کو ہر صورت میں حل بھی ہونا چاہیے اور یہ معاملہ شفافیت کے طور پر نظر بھی آنا چاہیے۔ علاج کے لیے قیمتوں کا تعین کرنا او ران میں توازن پیدا کرنا او راس بات کو یقینی بنانا کہ نجی شعبے کے لوگ یا ذمہ داران لوگوں کو معاشی استحصال نہ کریں ان صوبائی کمیشن کی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔صوبائی حکومتوں کی یہ بڑی زمہ داری ہے کہ وہ اس ہیلتھ کیئر کمیشن کی مدد سے نجی شعبہ میں قائم ہسپتالوں کی نگرانی اور شفافیت کے نظام کو زیادہ سے زیادہ موثر اور اسے عوامی توقعات کے مطابق چلائے۔ یہ تاثر کسی بھی صورت نہیں ابھرنا چاہیے کہ مشکل وقت میں حکومت اول تو اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتی یا اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی بجائے لوگوں کو نجی شعبوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتی ہے۔ ایسے میں ان اداروں کی نگرانی کا نہ ہونا اور ان میں عملی طور پر شفافیت کے نظام کی عدم موجودگی او رزیادہ لو گوں کو مشکل صورتحال سے دوچار کرتی ہے۔
حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اچھی حکمرانی کے نظام میں ادارہ جاتی سطح پر معاملات کو درست کرنا، اسے ریگولیٹ کرنا، شفافیت پیدا کرنا، سخت اور کڑی نگرانی کرنا او رجو لوگ بھی حکومتی سطح پر موجود قوانین یا پالیسی کی نفی کرے تو اسے جوابدہ بنا کر ہی اچھی حکمرانی اور عوامی مفاد کی سیاست کو طاقت دی جاسکتی ہے۔