وفاقی حکومت کا انتخابی اصلاحات متعارف کروانے کا فیصلہ
- سوموار 03 / مئ / 2021
- 4770
وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا ہےکہ انتخابی اصلاحات نہ ہونے سے آئینی اداروں پر عدم اعتماد کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اس لیے وفاقی حکومت انتخابی اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔
اس پیکج میں 49 سیکشن متعارف، حذف یا تبدیل کیے جارہے ہیں۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ملک زمین یا بلڈنگ سے نہیں بنتے بلکہ عوام اور اس کے اداروں سے بنتے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور نے کہا کہ 2013 کے انتخابات کے بعد حکومت کے پاس دو راستے تھے کہ کوئی انتخابی اصلاحات نہ کریں اور دوسرا موجودہ حالات کے تناظر میں اصلاحات کریں اور آگے بڑھیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے دوسرا راستہ اختیار کیا جس کا تعلق انتخابی اصلاحات ہیں۔
مشیر پارلیمانی امور نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے حالیہ اجلاس میں واضح کیا کہ انتخابی اصلاحات کا معاملہ سب سے پہلے سول سوسائٹی کے سامنے پیش کریں گے۔ اس کے بعد اے پی این ایس، سی پی این ای، پریس کلب کے عہدیداران، بار کونسلز اور بار ایسو سی ایشنز میں انتخابی اصلاحات کا ایجنڈا پیش کریں گے اور بریفنگ دیں گے۔
ملک کے پارلیمانی نظام کو فعال بنانے والے غیر سرکاری اداروں کو بھی بریفنگ دیں گے۔ بابر اعوان نے کہا کہ پاکستان کے پاس دو آپشنز ہیں کہ پاکستان میں ووٹ پر اعتبار پیدا نہ ہونے دیں اور دوسرا آپشنز ہےکہ آئینی اور قانونی ترامیم کے ذریعے دروازے کھولیں۔ انتخابات میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے استعمال کے لیے سیکشن 103 ترمیم کررہے ہیں، یہ پہلی بڑی ریفارم ہوگی۔
بابر اعوان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سیکشن 94 میں ترمیم لارہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کے لیے ہم نے دو اصلاحات تجویز کی ہیں جس کے تحت سیاسی جماعت 10ہزار کی نمائندگی پر رجسٹرڈ ہوگی۔
وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور نے کہا کہ کہ ایک نئی شق شامل کررہے ہیں کہ 213 اے کے تحت سیاسی جماعت سالانہ کنونشن منعقد کرنے کی پابند ہوں گی۔ پولنگ اسٹاف افسران پر اعتراض کی صورت میں تبدیل کیا جا سکے گا یعنی پولنگ اسٹاف افسران پر اگر کسی کو اعتراض ہوگا تو وہ اسے 15 دن میں چیلنج کرسکے گا۔ حلقہ بندیوں کو درست کرنے کے لیے آبادی کی بنیادی پر ہونے والی تقیسم کو دور کریں گے اور رجسٹرڈ ووٹرز کی بنیاد پر حلقہ بندی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام ترامیم میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی ایک جماعت کے مفاد میں ہو۔
اس سے قبل وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے وزرات عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارلیمنٹ میں پہلی تقریر کے دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات میں انتخابی اصلاحات کے لیے کمیشن بنانے پر آمادگی کا اظہار کی اور پہلے دن ہی پارلیمانی کمیٹی بنادی تھی۔ انتخابی دھاندلی کا قصہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے کمیٹی بنائی گئی اور اسی کمیٹی کو سابقہ دور حکومت میں 4 برس لگے تھے۔