مذہب کا خیالی پُلاؤ

کتاب اللہ کہتی ہے:

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خُدا اور آخرت  پر ایمان  رکھتے ہیں، حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔ وہ خُدا کو اور مومنوں کو چکمہ دیتے ہیں  مگر اپنے سوا وہ کسی کو چکمہ نہیں دیتے  اور وہ اس بات سے بے خبر ہیں۔  البقر۔ ۹

لیکن المیہ یہ ہے کہ  اس قماش کے  لوگوں کو اگر یہ آیت یاد دلا کر اُن کی بے عملی کی طرف اشارہ کیا جائے  تو وہ اسے اسلام پر حملہ قرار دیتے ہیں ، وہ اسے ذاتی توہین سمجھتے ہیں ور پھر وہ ہتھے سے ہی اُکھڑ جاتے ہیں۔ اور اسلام کو جو امن کا دین ہے بد امنی اور دہشت گردی کا دین بنا دیتے ہیں۔  ہم سب اس ضمن میں خطاوار اور مجرم ہیں۔ہمارا المیہ من حیث القوم یہ ہے کہ ہم بہتر برس میں اسلامی معاشرتی، معاشی اور انتظامی قوانین کے مطابق پاکستان کو  ایک متقی معاشرہ نہیں بنا سکے  بلکہ ہمارا معاشرہ نیچے سے اوپر تک، دائیں سے بائیں تک اور شمال سے جنوب تک  کرپشن کے کیچڑ میں لت پت ہے اور اس کے باوجود  ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم  عاشقانِ رسول ﷺ ہیں۔

 جی  ہاں اپنے مونہہ میاں مٹھو بننا برا آسان ہے مگر  اسلامی قوانین کے تنے ہوئے رسے پر چلنا  جان جوکھوں کا کام ہے۔  اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ آسمان سے پہلی وحی اُس وقت اُتری جب نبی اکرم ﷺ کی عمر چالیس برس تھی اور پھر تئیس (۳۲)  سال تک معرکہ نبوت جاری رہا اور تریسٹھ سال کی عمر میں  مکہ فتح  کر کے  اسلامی ریاست قائم کر کے آپ ﷺ  خالقِ حقیقی کے پاس چلے گئے۔ صرف ۳۲ سال، صرف ۳۲ سال  ستر یا بہتر سال نہیں۔ تب ایک مسجد تھی۔ مسجدِ بنوی مگر اب  پاکستان شریف میں دس لاکھ کے لگ بھگ مسجدیں ہیں ،  اسلام  کا  کا نعرہ  ہر روز چار دانِگ پاکستان میں گونجنے کے باوجود  اسلام کا علمی و عملی  نظام  ابھی  گھٹنوں کے بل چل رہا ہے۔  ہم پاکستان کو ایک سچ مُچ کی اسلامی ریاست نہیں بنا سکے  اور وہ اس لیے  کہ ہم خود کو  محمد ﷺ کا  وہ  وفادار مسلمان نہیں بنا سکے جس کے اعمال سے قل ھواللہ احد کی صدا آتی ہو۔  ہمارا اسلام وہ خیالی پلاؤ ہے جو صرف  فرقہ واریت کی پلیٹوں میں کھایا جاتا ہے اور ساتھ ہی ایک دوسرے پر تبرے بھیجے جاتے ہیں، ایک دوسرے کو پادری، خنزیر اور  بے غیرت تک کے خطابات دیے جاتے ہیں اور وہ بھی  منبرِ رسول ﷺ پر بیٹھ کر۔ 

کیا یہ منبرِ رسول ﷺ کی توہین نہیں ہے؟  کہ ہم اُسے اپنے بد کلامی سے پلید کرتے ہیں اور پھر اپنی بد کلامی پر فخر کرتے ہیں اور اردگرد بیٹھا جہلا کا ہجوم اس پر  نعرہ  تکبیر بلند کر کے خطیب کی بلائیں لیتا ہے۔   ہم یہ بالکل بھول جاتے ہیں کہ ہمارا دامن اعمال سے خالی ہے۔  کیا رسول اللہ ﷺ کی غلامی کا دم بھرنا  اور عمل اُس محبت کے بر عکس کرنا وہی چکمہ نہیں ہے جس کا ذکر سورہ  بقر کی محولہ بالا آیات میں کیا گیا ہے۔  لیکن ہم  یہ بالکل بھول جاتے ہیں  کہ کہنا کچھ اور کرنا کچھ منافقت ہے اور منافق کو دوزخ کی بد ترین سزا کی  وعید سنائی گئی ہے۔مگر   بد قسمتی سے ہمارے یہاں اس منافقت کو باقاعدہ ادارے کی شکل دے دی گئی ہے اور اسے دین کی جگہ نافذ کردیا گیا ہے حالانکہ کتاب اللہ نے واشگاف کہ رکھا ہے کہ (لما تقولون ما لا تفعلون) کہ تم جس بات پر عمل نہیں کرتے اُسے زبان پر لاتے کیوں ہو۔  لیکن ہم نے اپنہ خالی اور کھوکھلے عقیدوں کو دین سمجھ رکھا ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ دنیا بھر کے دیگر مذاہب کے لوگ ہمارے  اس پہروپیے پن  کی عزت کریں، اُس کے احترام میں سر کو خم رکھیں، اور ہمیں دنیا کی بہترین اُمت سمجھیں۔  اس کے لیے ہمیں پہلے وہ معاشرہ بنانا  پڑے گا جو گواہی دے کہ اسلام سچ مچ امن کا دین ہے دہشت گردی اور بد امنی کا دین نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اسلام کا دعویٰ کرنے والے جس شخص کے اعمال سے سیرتِ طیبہ کہ مہک نہیں آتی جو  خلقِ محمد ﷺ کا جیتا جاگتا نمونہ نہیں ہے وہ اسلام اور محمد ﷺ کا غدار ہے  کیونکہ اسلام محض زبانی جمع خرچ کا نام نہیں، اس کی  گواہی تو اعمال سے دینی پڑتی ہے جو  ہم نے سیکھا ہی نہیں۔ یعنی مسلمان موجود ہی نہیں۔  اقبال اس ضمن میں بڑے پتے کی بات کہتے ہیں:

نماز و روزہ و قربانی و حج

یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے

اسلام موجود ہے  مگر وہ کتابوں میں ہے اور مسلمان مزاروں اور قبرستانوں  میں آباد ہیں۔ یہ بات خواجہ نقشبند ؒ نے اس وقت کہی جب کسی نے سوال کیا تھا کہ اسلام کہاں ہے اور مسلمان  کن قریوں میں بستے ہیں۔  جب اعمال رخصت ہو جائیں تو  مسلمانوں کے گھر قبریں بن جاتے ہیں کیونکہ اسلام زندگی ہے اور  سیرتِ محمدی ﷺ کا اتباع اُس کی گواہی اور کسی بھی کرپٹ معاشرے میں وہ گواہی موجود ہی نہیں ہوتی اور اکا دکا لوگ جو راہِ راست پر ہوتے ہیں وہ  اس گیہوں کی طرح ہوتے ہیں جو گھن کے ساتھ ہی پِس جاتا ہے ۔ اسلام ہر شخص کا نجی معاملہ ہے اور جب تک وہ خود کو اللہ کے رنگ میں نہ رنگ لے وہ اسلامی معاشرت کا حصہ نہیں بن سکتا  خواہ وہ توحید اور رسالت کے کتنے ہی نعرے بلند کرتا رہے،  کتنی ہی نعتیں اور درود پڑھتا رہے کیونکہ اس کا رُخ محمد ﷺ اور محمدیت کی طرف نہیں ہوتا بلکہ اُس کی  منافقانہ جہالت کی طرف ہوتا ہے۔  ہم لوگ محمد  ﷺ کے  پیغامِ حق  کو  اپنی روز مرہ زندگی میں  وہ حیثیت نہیں دیتے  جو اُس مقدس نام کا حق ہے اور وہ حق یہ ہے کہ تعلیماتِ رسول ﷺ پر  سو فی صد عمل کیا جائے  جو ہم نہیں کرتے۔

 ہمارے معاشرے میں مسلمانوں کی غالب اکثریت کے نام محمد، احمد، حامد، محمود ، یسین اور  طاہٰ ہوتے ہیں لیکن ہمارے اعمال ہماری کرپشن، ہماری اشیا میں ملاوٹ، ہماری منافع خوری، ہماری قانون شکنی، ہماری بد کلامی، ہمارای سرِ راہ ڈاکہ کی وارداتیں ، ہماری رشوت  خور ای اور ہماری  منافقت ہمارے ناموں کی ہنسی اُڑا رہے ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان  کو یہ اختیار کس نے دیا پے کہ محمد کے نام کا بیج سینے پر سجا کر کم سن بچیوں کو اغوا کریں اور انہیں جنسی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کردیں۔ ایسے قبیح اعمال پر منبر و محراب کی طرف سے  جیسی سرزنش ہونی چاہیے ویسی نہیں ہوتی اس لیے کہ منبر و محراب کا کام نمازیں اور ناظرہ قران پڑھا کر دام کھرے کرنا نہیں بلکہ  معاشرے کو محمدیت کے رنگ میں رنگنا ہے، اپنے بچوں کو خلقِ عظیم سکھانا ہے جو ان سے بہتر برس میں نہیں ہوسکا جب کہ کسی معاشرے کو مکمل طور پر بدلنے کے لیے  ۳۲ سال درکار ہوتے ہیں۔ یہ خُدا کا مقرر کیا ہوا عرصہ ہے جس کی گواہی اسلام کی آمد اور اس کے  عملی  نفاذ کی تاریخ میں رقم ہے۔

 ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اہلِ مغرب نے تو نبی اکرم ﷺ کا زمانہ نہیں دیکھا۔ اُن کے سامنے تو وہ کروڑوں محمد ، احمد، حامد اور محمود ہیں جنہوں نے اپنے نام نبی ﷺ کے نام پر رکھے ہوئے اور  وہ اپنے اعمال سے  سیرتِ طیبہ  کی پیروی سے انحراف کرتے ہیں۔ لوگ توا عمال دیکھتے ہیں۔ اور آج کے مسلمانوں کے اعمال دیکھ کر وہ  کیا جانیں کہ محمد ﷺ کون تھے اور اُن کا مرتبہ اور مقام کیا ہے۔  مسلمان ہونے کے لیے  خُود  کو فقرِ محمدی کے رنگ میں رنگنا پڑتا ہے اور محمد ﷺ وہ شخصیت ہیں جن کے صادق اور امین ہونے کی گواہی  کفارِ مکہ بھی دیتے تھے  لیکن آج جن لوگوں نے محمد کا نام چرا رکھا ہے وہ اپنے گمراہی کے عمل سے محمد و ﷺ کی شان میں  گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔  وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ وہ  اپنے ناقص اعمال  سے کس قدر گستاخی اور بے ادبی  کے مرتکب ہوتے ہیں ؛ ہمارے اسلاف کہ گئے ہیں:

ہزر بار بشویم دہن ز مشک و گلاب

ہنوز نامِ تو گفتن کمال بے ادبی ست

اور آج کا مسلمان  بے عملی کی  گستاخی اور بے ادبی کو تو اپنا حق سمجھتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ دوسرے مذہب کے لوگ  پیغمبرِ آخر الزماں  نبی ﷺ کی  تعظیم و تکریم کریں ۔  اور ایسا ممکن نہیں۔ اس ساری صورتِ حال کا ذمہ دار آج کا مسلمان ہے  کیونکہ وہ خود نعروں اور نعتوں سے گزر کر  اعمالِ صالح  کی اقلیم تک رسائی حاصل نہیں کرسکا  اور جب تک ایسا ہوتا رہے کا  لوگ ان  بے عمل مسلمانوں کی  عزت نہیں کریں گے:

بمصطفےٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

کہ گر بہ او نرسیدی تمام بو لہبی ست

کوئی شخص نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی نہیں کرسکتا۔ سورج کی طرف مونہہ کر کے تھوکا جائے تو اپنا مونہہ آلودہ ہوتا۔ نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے سب بڑا اور مخفی راز ہیں اور اللہ کے رازوں  کو  مسترد کرنا انسانوں کے بس کی بات ہے ہی نہیں۔  مغربی دنیا میں اسلام کے خلاف جو کچھ کہاجاتا ہے وہ مسلمانوں کے اپنے بد اعمال کا پرتو ہے۔ اگر مسلمان راہِ راست پر آ جائیں تو پھر کبھی ایسا نہیں ہوگا۔ یہ میرا ایمان ہے۔  اور اب جو چاہے مجھے  میرے طرزِ فکر پر گالی دے مگر میرا اللہ میرے ساتھ ہے  اور حرا کی روشنی میں مجھے  وہ سب کچھ دکھائی دے رہا ہے جو جہالت کے اندھوں کو نظر نہیں آتا۔

وما علینا البلاغ