میڈیا پر بندشوں میں اضافہ کیوں؟

ویسے تو نئی حکومت کے قیام سے ہی پاکستان میں میڈیا کو متعدد قسم کی بندشوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن ورلڈ پریس ڈے کے موقع پر شائع ہونے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گذشتہ سوا سال(جنوری2020سے اپریل 2021) کے دوران میڈیا پر نشر اور شائع ہونے والے مواد کو پہلے سے کہیں زیادہ پابندیوں کا سامنا ہے۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال صحافیوں کے قتل، جسمانی تشدد، غیر قانونی حراست، دھمکیاں اور گرفتاریاں جاری رہنے کے ساتھ ساتھ میڈیاکے مواد کو براہ راست کنڑول کرنے کی کوششوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق ریگولیٹری اداروں کی جانب سے ہدایات پورے پلیٹ فارمز پر پابندیوں اور قانونی نتائج سخت کرنے والے قواعد تیار کرنے کی کوششوں کی وجہ سے ایسا ماحول پیداہوا ہے جہاں میڈیا سینسرہو رہا ہے اور صحافیوں کو خود اپنے آپ کو سینسر کرنا پڑ رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریگولیٹری ادارے حکومت کے لئے مواد پر بندشیں عائد کرنے کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں۔

ملک میں ہونے والی اہم پیش رفتوں کی کوریج پر پیمرا کی جانب سے مکمل پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں جس کی وجہ سے میڈیا اپنے ناظرین کو صحیح صورت حال سے آگاہ رکھنے میں ناکام رہا ہے۔صرف 2021کے پہلے چند مہنیوں میں ہی پیمرا نے نیب کے حوالے سے کوریج پر ہدایات جاری کیں، تحریک لبیک پاکستان کی کوریج پر جزوی پابندی عائد کی اور صحافیوں کو کابینہ اجلاسوں کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹنگ کرنے سے منع کیا۔اس کے علاوہ جنوری 2021 میں بی بی سی ورلڈ سروس کی جانب سے آج ٹی وی پر نشر ہونے والے اردو پروگرام سیربین کا سلسلہ بھی ریگولیٹری اداروں کی مداخلت کے باعث ختم کر دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ مذکورہ پروگرام کی نشریات کا سلسلہ 2014سے جاری تھا۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر گزشتہ سات دہائیوں سے مختلف حیلے بہانوں  اور ہتھکنڈوں سے حملے کئے جاتے رہے ہیں۔متعدد بار اس حق کے غلط استعمال کا بہانہ بنا کر فوجی آمروں اور غیر جمہوری سیاسی حکمرانوں نے میڈیا کی آزادی کا گلہ گھونٹا ہے۔ آزادانہ اظہاررائے سے خوف زدہ کسی بھی حکمران نے میڈیا کی آزادی کو پنپنے نہیں دیا۔آمروں اور آمروں کے پروردہ حکمرانوں نے ہاں میں ہاں نہ ملانے والے لکھاری،اینکرز اور میڈیا ہاؤسز کو ہر دور میں زیر عتاب رکھا۔ پاکستان میں میڈیا پر بندشوں کے حوالے سے آزادی صحافت کی عالمی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرزبھی حکومت پر زور دے چکی ہے کہ وہ میڈیا کے صحافتی فیصلوں میں مداخلت نہ کرے کیوں کہ ایسا کرنابنیادی طور پر جمہوریت مخالف ہے اور یہ مداخلت پاکستان کی تاریخ میں آمریت کے بدترین برسوں کی یاد تازہ کرتی ہے۔ تاہم اس کے باوجود موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کے صحافتی فیصلوں میں ریاستی و حکومتی سطح پر کئی قسم کی قدغنیں لگتی رہی ہیں۔حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی  ریاستی و حکومتی سطح پر کئی ایک ایسے مرئی اور غیر مرئی اقدامات اٹھائے گئے جس سے صحافت پر ایک عجیب طرز کی سنسر شپ مسلط ہو گئی۔اگرچہ یہ بات درست ہے کہ عالمی حالات کے برعکس پاکستان میں صحافیوں اور بلاگرز کے خلاف جان لیواپرتشدد واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نئے پاکستان میں میڈیا آزاد ہونے کی بجائے کئی طرح کی قدغنوں کا شکار ہو گیا۔آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ نئے پاکستان میں میڈیا کو نئے انداز سے قابو کرنے کی کوششیں کی گئیں۔کہیں پرجان کی دھمکیوں کی بجائے کام بند کرانے کی دھمکیاں دے کر مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے گئے تو کہیں عملی طور پر کام بند کرا کے تنقید کرنے والوں کی زبان بندی کر دی گئی۔کہیں قومی مفاد کے نام پر سرکاری بیانیے کی مخالفت کرنے والے نیوز چینلز کو کیبل پر غائب کر دیا گیا تو کہیں اخبارات کی ترسیل اور اشتہارات کی تقسیم پر اثر انداز ہو کر مخالف آوازوں کو خوش اسلوبی سے دبا دیا گیا۔

جدید جمہوری ریاستوں کے قیام کے بعدسے اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کو بنیادی انسانی حقوق کی فہرست میں سرفہرست تصور کیا جاتا ہے۔جدیدجمہوری معاشروں میں آزادی اظہار اور میڈیا پرکسی بھی قسم کی قدغن لگانے کو دیگر تمام بنیادی حقوق پر قدغن  کے مترداف سمجھا جاتا ہے۔خیالات و نظریات کا آزادانہ اظہار اورتنقید و اختلاف رائے کا حق کسی بھی جمہوری معاشرے کے بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ معلومات و افکار کے آزادانہ بہاؤ کو یقینی بنانے سے شہریوں کے درمیان دلائل پر مبنی مکالمے کو ترویج حاصل ہوتی ہے جو آگے چل کرمعاشرے میں رواداری و برداشت کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے۔ریاضی کی اصطلاح میں بات کی جائے تو سماج کی فکری،علمی اور مادی نشوونما اظہار رائے کی آزادی کے ڈائریکٹلی پروپرشنل ہے یعنی جن ممالک میں افراد کو جتنی زیادہ آزادی اظہار حاصل ہوتی ہے، وہ قومیں فکری، علمی اور مادی ترقی میں دیگر اقوام سے اتنا ہی آگے نکل جاتی ہیں۔اس کے برعکس جن معاشروں میں اظہار رائے کی آزادی پر نظریے، سلامتی اور مذہب سمیت کسی بھی قسم کی قدغن لگی رہے،وہ معاشرے فکری، علمی اور مادی طور پر پسماندہ رہ جاتے ہیں۔ویسے تو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے آئین میں بھی شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے لیکن آئین کے آرٹیکل19میں اس حق کو مذہب، سلامتی،غیر ممالک کے ساتھ تعلقات، توہین عدالت اور امن عامہ میں بگاڑ کے خدشے سمیت کئی چیزوں کے ساتھ مشروط کر کے کافی حد تک محدود کر دیاگیا ہے۔

فرد کے اظہار رائے کا حق میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کی آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ماس میڈیا یا ذرائع ابلاغ انسان کے دو بنیادی حقوق یعنی جاننے کا حق اور رائے کے اظہار کے حق کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ ماس میڈیا یا ذرائع ابلاغ ہی ہیں جن کی مدد سے ایک ملک یا دنیا کے مختلف حصوں میں بیٹھے ہوئے انسان اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں اور دنیا بھر کی معلومات بھی حاصل کرتے ہیں۔لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ میڈیا کی آزادی دراصل انسان کے جاننے اور اظہار کرنے کے دو بنیادی حقوق کی پاسداری کی ضمانت مہیا کرتی ہے اور میڈیا پر پابندی یا قدغن دراصل ان دو بنیادی انسانی حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے۔اظہار رائے اور جاننے کے حق کا استعمال روایتی (پرنٹ اورالیکٹرانک)میڈیا کے علاوہ بھی کئی ذرائع سے ہوتا ہے جن میں جلسہ جلوس، ڈرامہ، فلم، ادب، شاعری، تقریر و تحریر اورسوشل میڈیا زیادہ اہم ہیں۔عام آدمی کے جاننے اور اظہار رائے کے حق کو یقینی بنانے کے لئے ان مذکورہ ذرائع کی آزادی بھی انتہائی ضروری ہے۔امید ہے کہ حکومتی اور پارٹی موقف پر اپنی بے لاگ رائے کا اظہار کرنے والے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کے حق کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی پوری کوشش کریں گے۔