حجر اسود کی جدید تکنیک کے ذریعے لی گئی تصاویر

  • منگل 04 / مئ / 2021
  • 12470

خانہ کعبہ کے  ایک کونے پر نصب جنت سے اتارے گئے پتھر ’حجر اسود‘ کی جدید تکنیک کے ذریعے پہلی بار اعلیٰ کوالٹی کی تصاویر حاصل کی گئی ہیں، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

مختلف اسلامی روایات اور حوالوں کے مطابق ’حجر اسود‘ کو جنت سے زمین پر اتارا گیا تھا اور یہ مقدس پتھر کئی صدی قبل اس وقت اتارا گیا تھا جب حضرت ابراہیم اور ان کے صاحبزادے حضرت اسمٰعیل خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے۔

’حجر اسود‘ کا پتھر خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی سمت کے کونے پر نصب ہے اور عازمین حج فرائض کی ادائیگی کے دوران اس کا بوسہ لیتے ہیں۔ ’حجر اسود‘ بیضے کی شکل کے خالص چاندی کے فریم کے ساتھ خانہ کعبہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

’حجر اسود‘ کی اہمیت کے پیش نظر حرمین شریفین کے انتظامی امور کے ادارے رئاسة شؤون الحرمين نے جدید تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے اس کی اعلیٰ ترین کوالٹی کی تصاویر حاصل کی ہیں، جنہیں پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے۔ ادارے نے ماہرین اور فوٹوگرافی کے اعلیٰ تکنیکی آلات کا استعمال کرتے ہوئے کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد ’حجر اسود‘ کی ایک ایسی تصویر تیار کی جو 49 ہزار میگا پکسل کی ہے۔

ادارے کے مطابق ’حجر اسود‘ کی اعلیٰ ترین کوالٹی کی تصویر تیار کرنے کے لیے اس کی 7 گھنٹے تک عکس بندی کرکے 1050 فاکس اسٹاک پینوراما تصاویر بنائی گئیں، جنہیں ملاکر ایک تصویر بنانے میں 50 گھنٹے کا وقت لگا۔

 

 

جدید تکنیک اور اعلیٰ کوالٹی کے آلات کو استعمال کرنے کے بعد ماہرین نے ’حجر اسود‘ کی 49 ہزار میگا پکسل کی ایک ایسی تصویر تیار کی، جس میں اس کے ہر حصے کو انتہائی قریب سے اصل حالت کی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔ حرمین شریفین کے انتظامی امور کے ادارے کی جانب سے مذکورہ تصاویر کو شیئر کیے جانے کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے انہیں شیئر کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔