نیب میں افسران بڑے بڑے فراڈ کر رہے ہیں: سپریم کورٹ

  • منگل 04 / مئ / 2021
  • 4330

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے ایک مرتبہ پھر قومی احتساب بیورو کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں نیب افسران اسسٹنٹ ‏ڈائریکٹر فاخر شیخ اور ترویش کی جانب سے ملزمان سے ایک کروڑ رشوت لینے پر سندھ ہائی کورٹ کے دوبارہ انکوائری کے حکم کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نیب اپیل ‏پر سماعت کی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ نیب میں موجود افسران بڑے بڑے فراڈ کررہے ہیں اور چیئرمین نیب خاموش ‏ہیں۔  انہوں نے ریمارکس دیے کہ نیب افسران کو ادارہ چلانا ہی نہیں ‏آتا۔  چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیب کا ادارہ کیا کررہا ہے صرف تماشا بنایا ہوا ‏ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ چیئرمین نیب تو سپریم کورٹ کے سابق ‏جج رہے ہیں، وہ ‏بغیر انکوائری کسی ملازم کا کیسے فارغ کرسکتے ہیں۔  ڈپٹی پراسیکوٹر ‏نیب عمران الحق نے مؤقف اختیار کیا کہ اسسٹنٹ ‏ڈائریکٹر فاخر شیخ اور ترویش کے ‏خلاف انکوائری کی گئی۔  انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 3 ماہ میں دوبارہ انکوائری مکمل کرنے ‏کا حکم دیا تھا۔

دوران سماعت ‏چیف جسٹس گلزار احمد ڈپٹی پراسیکویٹر نیب عمران الحق پر برہم ہوئے اور ریمارکس دیے کہ 2018 سے معاملہ چل رہا ہے ابھی تک انکوائری ہی مکمل نہیں کی۔  چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب ‏ایسے لوگوں کو تنخواہ اور غلط کام کرنے کا موقع بھی دیتا ہے جبکہ نیب افسران کو ادارہ ‏چلانا ہی نہیں آتا۔ نیب نے 3 ماہ کے کام کے لیے 3 سال لگا دیے۔

اس ‏کیس میں 3 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک نیب نے کچھ نہیں کیا کیونکہ جان بوجھ کر نیب ‏کے ‏لوگوں نے گھپلا کیا تاکہ کیس خراب ہوجائے۔  بعدازاں عدالتی آبزرویشنز کے بعد نیب نے ‏اپنے طور پر انکوائری مکمل کرنے کے لیے کیس واپس ‏لے لیا۔

گزشتہ برس جولائی میں سپریم کورٹ نے نیب پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور ریمارکس دیے تھے کہ نیب کا دفتر خود کرپشن ریفرنسز کے فیصلے میں تاخیر کا ذمہ دار ہے کیونکہ اس کے افسران میں صلاحیت نہیں ہے۔