آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق ریونیو نہیں بڑھا سکتے: وزیر خزانہ

  • بدھ 05 / مئ / 2021
  • 5040

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ جس طرح سے عالمی مالیاتی ادارہ 'آئی ایم ایف' کہہ رہا ہے ویسے نہیں کرسکتے، ہمیں اپنے طریقے سے ریونیو بڑھانا ہوگا۔

 اس مرتبہ آئی ایم ایف نے ہم پر نہایت سخت شرائط لگائی ہیں جن کی سیاسی قیمت بھی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام سے نکلیں گے نہیں تاہم اس کے طریقہ کار کو تبدیل کریں گے، ہمیں انہیں ثابت کرنا ہے کہ ہم جو اقدامات کریں گے اس سے ریونیو بڑھالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسز کے حوالے سے بھی ایسے ہی اقدامات کریں گے اور اسے بڑھائیں گے تاہم ہم اچانک سے بڑا اضافہ نہیں کرسکتے، تھوڑا تھوڑا اضافہ کرکے ہم آگے جاسکتے ہیں اور آئی ایم ایف کو یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ریونیو ہم نے بڑھانا ہے تاہم جس طرح سے آئی ایم ایف کہہ رہا ہے ویسے نہیں کرسکتے، ہمیں اپنے طریقے سے ریونیو بڑھانا ہوگا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ان کا اور وزیر اعظم کا فلسفہ ہے کہ ملک کو اب مستحکم نمو کی طرف لے کر جانا ہے۔  حکومت نے سخت شرائط کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام کی پیروی کی اور ملک کو استحکام کی طرف لے کر گئے۔ '2008 میں جب میں آئی ایم ایف کے پاس گیا تھا اس وقت ماحول مناسب تھا تاہم اب ماحول کچھ اور ہے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف نے ہم پر سخت شرائط لگائیں جس کی سیاسی قیمت بھی ہے'۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس بحران کے دوران حکومت نے 1200 کھرب روپے کا پیکج دیا جس سے معیشت میں کچھ بہتری دیکھی گئی۔ مارچ میں ریونیو گزشتہ سال سے 46 فیصد بڑھا اور 20 اپریل تک 92 فیصد نمو تھی تاہم اپریل کے آخر میں کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ کم ہوکر 57 فیصد پر آگیا تھا۔ ہمیں کورونا سے خطرہ ہے ورنہ ہماری معاشی بحالی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اس معیشت کو نمو کی جانب لے کر جانا ہے، اس کے لیے ہمیں صنعتوں کو مراعات دینی ہوں گی تاکہ صنعتیں ترقی کریں اور عوام کے لیے روزگار پیدا ہوں۔ کوشش ہے کہ کورونا کا سایہ کم ہو اور ہم ترقی کی پٹری پر واپس چڑھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم قیمتوں میں استحکام، سماجی تحفظ، معاشی استحکام، اخراجات کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ بجٹ میں ایسے پروگرام لائیں گے کہ عام آدمی کو ٹیکس نیٹ میں آنے میں کوئی  پریشانی نہیں اٹھانی پڑے گی۔ ایف بی آر میں عوام کو ہراساں کیا جاتا ہے تاہم ایسی پالیسیز لائیں گے کہ جس سے اس کا خاتمہ ہوگا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 62 فیصد آبادی ہماری دیہاتوں میں رہتی ہے اور ان کا پیشہ زراعت ہے تاہم اس شعبے میں گزشتہ 10 سالوں میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور ہمیں اس پر پیسے خرچ کرنے پڑیں گے اور یہ ہماری ترجیح میں شاملل ہیں۔ ہماری صنعتیں معیار کے مطابق نہیں، برآمدات کی زیادہ تر صنعتیں خاندانی کاروبار ہیں جس کا دو نسلوں بعد بٹوارا ہوجاتا ہے۔