2022 انتخابات کا سال ہوسکتا ہے

وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے اس انکشاف کے بعد کہ وزیر اعظم کو کام نہ کرنے دیا گیا تو وہ اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں، ’معتبر‘ صحافیوں کی ایسی پیش گوئیوں میں اضافہ ہؤا جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری نہیں کریں گی۔  اس خبروں اور قیاس آرائیوں کے ماحول میں آج وزیر اعظم عمران خان نے بیرو ن ملک سفیروں سے خطاب میں پاکستانی تارکین وطن  سےدرمندی کا اظہار کیا ۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے  ایک پریس کانفرنس میں   آئی ایم ایف کی شرائط  پر محاصل اور بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ  سے انکار کیا ہے۔

وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کی باتوں کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو  ان میں ایک  خاص سیاسی ایجنڈے  کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اڑھائی تین برس مخالفین پر برسنے اور اچانک پاکستان کے  جنت نظیر بن جانے کے  خواب دکھاتے ہوئے اب  عمران خان کو محسوس ہونے لگا ہے  کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری اور  ان سے پیدا ہونے والی شید عوامی ناراضی   ان کی مقبولیت کے لئے شدید خطرہ بن رہی ہے۔ عوام نے معاشی بہبود کے لئے تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کی قیادت سے بڑی امیدیں وابستہ کی  تھیں لیکن مرکز و صوبوں میں پارٹی کی حکومتیں کسی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکیں۔  ایسے ماحول میں اب عمران خان اور تحریک انصاف  ایسے معاشی اقدامات  کی کوشش کررہے ہیں جو ان  کی حکومت کے  دوران  اختیا رکی گئی بچت  حکمت عملی کے  برعکس سرکاری وسائل  ترقیاتی اور دیگر شعبوں میں صرف کرنے کا اشارہ دے رہے ہیں تاکہ معاشی تعطل کی صورت حال تبدیل ہوسکے۔ جلد ہی قومی بجٹ میں بعض ایسی سہولتوں کا اعلان کیا جائے گا جن کے تحت  صنعتوں، زراعت اور  تعمیراتی شعبہ کو مزید مراعات  دی جائیں گی۔ اس کا اشارہ بھی وزیر خزانہ شوکت ترین کی پریس کانفرنس میں سامنے آیا ہے جو اب یہ اقرار کررہے ہیں  کہ زراعت کو توجہ نہ دے کر   حکومت نے سنگین غلطی کی تھی تاہم اب اس کی تلافی کی جائے گی۔

انتخابات کے مقصد سے بجٹ تیار کرنے اور معیشت میں بدلاؤ  کی یہ حکمت عملی  کسی بھی سابقہ حکومت کی پالیسیوں کا عکس ہے۔ پاکستان ایسے تجربے بہت بار کرچکا ہے جس کی وجہ سے معیشت میں  کسی ایک خاص ڈھب سے بہتری  کے مواقع دیکھنے میں نہیں آتے۔  طاقت ور گروہوں معاشی کو وزیر اعظم عمران خان اب تک مافیاز قرار دے کر ان کے خلاف سخت اقدام کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں ۔ تاہم یہ سارے شعبے ماضی کے تجربات کی روشنی میں جانتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت جسے مقررہ وقت کے  بعد عوام کے سامنے جانا ہوتا ہے، معیشت کو ان کی مرضی کے مطابق چلانے پر ہی راضی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے   شوکت ترین جیسے تجربہ کار اور مشکل حالات میں سہولت کی معجزہ نمائیاں دکھانے کے دعوے دار  کو خزانہ کی اہم وزارت سونپی ہے۔ اب پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنا وہ منصوبہ صحافیوں کے سامنے پیش کیا ہے  جس  کے تحت حکومت بچت کی بجائے  صرف کرنے، ٹیکس بڑھانے کی بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے، عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط ماننے کی بجائے ،سہولت سے آمدنی میں اضافہ  کرے گی۔  ان  اقدامات سے ادائیگیوں  کے توازن  میں عدم توازن یعنی خسارہ کا رجحان دیکھنے  میں آئے گا۔  اس ایک اشاریے کو عمران خان اور ان کی حکومت اب تک اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے، اپنی دیانت داری اور سابقہ حکومتوں کی بدعنوانی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ اب اس دلیل کو رد کرنے کے لئے کوئی نیا سیاسی پینترا اختیار کیاجائے گا ۔حکومت کی نئی مالی پالیسی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایسے عوامل پیدا کرنے سے گریز کیا جائے جن  سے  مہنگائی میں اضافہ ہو اور عوام مسلسل حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دینے پر مجبور ہوں۔

سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی سربراہی میں حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ جس مالی منصوبہ پر اتفاق کیا تھا اس کے تحت  بجلی کے  نرخوں اور پیٹرولیم مصنوعات  کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے مالی اہداف حاصل کرنے  کا وعدہ کیا گیاتھا۔ خاص طور سے  بجلی کے شعبہ میں  گردشی قرضہ کم کرنے  پر اتفاق ہؤا تھا۔ اب وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ انہوں نے آئی ایم ایف تک یہ پیغام   پہنچایا ہے کہ  حکومت کے لئے  اس کی شرائط پر سرکاری آمدنی بڑھانا ممکن نہیں ہے  کیوں کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کی وجہ سے ملکی معیشت انحطاط کا شکار ہوئی  ہے۔ اب اگر عوام پر مزید محاصل کا بوجھ لادا گیا تو اس کے سنگین سیاسی نتائج ہوں گے۔ حکومت یہ سیاسی قیمت ادا کرنا نہیں چاہتی۔ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت کے مسائل کو ہمدردی سے سنا ہے۔ تاہم  وزیر خزانہ  نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام سے علیحدہ نہیں ہوگاکیوں کہ  اس ادارے کے ساتھ تعاون سے ملکی معیشت کو عالمی طور سے اعتبار کی سند حاصل ہوتی ہے۔

پریس کانفرنس میں تو شوکت ترین نے یہی تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ  حکومت  آئی ایم ایف کی شرائط پر عوام کو زیر بار نہیں کرسکتی اور یہ دوٹوک  پیغام عالمی مالیاتی ادارے تک پہنچا دیا گیا ہے ۔ تاہم ان کی باتوں سے واضح ہوتا  ہے کہ حکومت  نے ایک طرف عوام کو مطمئن کرنا ہے  اور دوسری طرف وہ آئی ایم ایف کو بھی ناراض کرنے کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتی۔  آئی ایم ایف کو جو متبادل معاشی منصوبہ فراہم کیا جائے گا اس میں کووڈ۔19 کی  تیسری لہر کے معاشی اثرات کا حوالہ دے کر مزید وقت طلب کیا جائے   گا اور سہولتیں مانگی جائیں گی۔  ان خطوط پر حکومت شاید کچھ وقتی ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے تاہم یہ حکمت عملی پائیدار نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اسے دو سے تین سال  تک توسیع دی جاسکتی ہے۔ اسی لئے اس قیاس کو تقویت ملتی ہے کہ حکومت سال رواں کے بجٹ میں معاشی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے   صنعت و زراعت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ سے عوام کو سہولت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

 اس پالیسی کے نتائج سامنے آنے کے بعد  اسمبلیاں توڑ کر انتخابات کروانے کا اعلان کیا جائے گا ۔  حکومت  اس کے دو فائدے  سمیٹ سکے گی۔ ایک: اپنی معاشی ناکامیوں کے باوصف عوام کو تاثر دیا جائے گا کہ درحقیقت اس کی معاشی پالیسیاں کامیاب رہی ہیں جن کے ثمرات اب عوام تک پہنچنے لگے ہیں۔ یہ بتانے کی زحمت نہیں کی جائے گی کہ حکومت کوئی ٹھوس معاشی منصوبہ اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور  معاشی ’مافیاز ‘کی سرپرستی اور انہیں مراعات دینے کے پرانے طریقہ سے ہی عوام کو وقتی سہولت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دوئم:اچانک اسمبلیاں توڑ کر اپوزیشن کو  ایک ایسے وقت میں انتخاب لڑنے کی دعوت  دی جائے گی جب حکومت کو یقین ہوگا کہ معاشی حالات کو اس نے اپنی کامیابی کے لئے سازگار بنا لیا ہے۔ شوکت ترین نے وزیر خزانہ بننے سے پہلے وزیر اعظم سے متعدد ملاقاتیں کی تھیں۔  ان ملاقاتوں میں انہوں نے  انتخاب جیتنے کے لئے معاشی حالات  بہترکرنے کا وعدہ ضرور کیا ہوگا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوں گے اور مستقبل کی کسی بھی حکومت کو موجودہ حکومت کے معاشی اصراف  کی قیمت کون سے مشکل فیصلوں کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔

شوکت ترین نے پریس کانفرنس میں   تصادم کی  موجودہ پالیسی کو تبدیل کرنے کے دو اشارے بھی دیے ہیں۔ ایک تو انہوں نے کہا  ہے کہ وزیر اعظم اور حکومت نیب کے طریقہ کار کے بارے میں معاملات پرغور کررہے ہیں۔  یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ نیب کو ملک کے بڑے بزنس  کے خلاف سرگرمی سے روکنے کا اہتمام کیا جائے گا۔ حکومت پہلے بھی یہ اشارے دے چکی ہے کہ تاجروں اور صنعتکاروں کو نیب کے چنگل سے بچایا جائے گا۔ وزیر خزانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ سیاسی مفاہمت اور تعاون پر یقین رکھتے ہیں۔  اس لئے وہ مسلم لیگ (ن)  پیپلز پارٹی یا کسی بھی اپوزیشن پارٹی کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کو چور لٹیروں کا گروہ قرار دینے والی حکومت کے سب سے اہم وزیر کا یہ بیان  موجودہ سیاسی ماحول میں بے حد اہم ہے۔ اگرچہ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ حکومت کس حد تک اس  پالیسی  پر عمل کرسکتی ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کا بیانیہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے علاوہ شریف  اور زرداری خاندان کے  کے خلاف اعلان جنگ پر استوار ہے۔ عمران خان کے لئے کسی نئی  کامیابی کے لئے اس نعرے سے دست برداری   سیاسی  طور سےہلاکت خیز ہوسکتی ہے۔

دوسری طر ف بیرون ملک سفیروں سے وزیر اعظم عمران خان کا خطاب بھی دراصل اپنے سیاسی بیس کو  مطمئن کرنے کی کوشش ہے۔ اس تقریر میں انہوں نے بیرون ملک سفارت خانوں کو تارکین وطن پاکستانیوں کا ممد و معاون اور انہیں سہولت فراہم کرنے والا  ادارہ بننے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کی ترسیلات ہی کی وجہ سے  پاکستان معاشی  طور سے   کسی بڑے بحران سے بچا ہؤا ہے ۔ انہوں نے سفیروں کو دہائیوں پرانا   مغرور اور سخت  گیر رویہ تبدیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وہ  تارکین وطن کی شکایات کا سخت  نوٹس لیں گے ۔ اس حوالے سے انہوں نے سعودی عرب میں پاکستان کے سابق سفیر اور متعدد سفارت کاروں کے خلاف کارروائی کا حوالہ بھی دیا۔

کسی ملک کے سفارتی مشن بنیادی طور سے دو ملکوں کے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے قائم ہوتے ہیں۔ کسی دوسرے ملک میں آباد  تارکین وطن کودی جانے والی قونصلر سہولتیں سفارت خانوں کا ثانوی کردار ہوتا ہے۔   اگر حکومت اب سفارت خانوں کو محض تارکین وطن  کا’خادم‘ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے تو شاید یہ وسیع تر ملکی مفاد کے لئے مناسب نہیں ہوگا۔ تاہم اس بیان کو بھی عمران خان کی سیاسی مجبوری اور مقبولیت کے گرتے ہوئے گراف کی روشنی میں ہی دیکھنا چاہئے۔ یہ تقریر بھی  نئے انتخاب کی تیاری کا اشارہ ہوسکتی ہے۔   عمران خان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں روائیتی طور سے مقبول رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایک بار پھر اس گروہ کو اپنے سحر میں جکڑ کر ایک طرف مالی ترسیلات میں اضافہ  سے معاشی فائدہ حاصل کیا جائے ، دوسرے سیاسی  حمایت کے لئے اس گروہ کے پاکستان میں اثر و رسوخ کو استعمال کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آئیندہ  انتخاب سے پہلے تحریک انصاف تارکین وطن کو ووٹ دینے  کی سہولت دے کر اپنےرسوخ میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔

عمران خان کب اسمبلیاں توڑ کر انتخاب کروانے کا اعلان کریں گے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے  کے لئے اگلے ماہ پیش ہونے والے بجٹ اور اس کے اثرات کا جائزہ لینا ہوگا۔ تاہم اس وقت جو  اشارے دیے جارہے ہیں، ان کے مطابق 2022 انتخابات کا سال ہوسکتا ہے۔