اینٹی ریپ آرڈیننس پر مؤثر عملدرآمد کا فیصلہ
- جمعرات 06 / مئ / 2021
- 5290
وزارت قانون نے 'اینٹی ریپ آرڈیننس' پر مؤثر انداز میں عملدرآمد اور جرائم پیشہ افراد کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے نادرا اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے تعاون لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کی زیرصدارت اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں نادرا اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر فروغ نسیم نے نادرا حکام کو ہدایت کی کہ وہ ایک جامع سافٹ ویئر ڈیزائن کریں جس میں ریپ کے مرتکب افراد کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ جنسی جرائم میں ملوث افراد سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہوگا۔
وزارت قانون و انصاف نے 'انسداد ریپ آرڈیننس' پر موثر اور حقیقی معنوں میں عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا)، نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی)، قانون نافذ کرنے والے اداروں، نیشنل رسپانس سینٹر سائبر کرائم اور جنسی جرائم کی روک تمام کے حوالے سے قائم عدالتوں کے ساتھ باہمی تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کا مقصد مجرموں کی جدید خطوط پر کڑی نگرانی اور ان جرائم میں ملوث افراد کا باقاعدہ رجسٹر قائم کرنا ہے تاکہ انہیں دوبارہ ایسے جرائم سے باز رکھا جا سکے۔ وفاقی وزیر قانون نے جائیداد کی ورثا کو منتقلی کے حوالے سے 'لیٹر آف ایڈمنسٹریشن' اور 'جانشینی سرٹیفکیٹ' کے اجرا پر نادرا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ نادرا اس ضمن میں بہتر تعاون فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔