این اے 249 میں دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ

  • جمعرات 06 / مئ / 2021
  • 4520

کراچی میں قومی اسمبلی 249 کے ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر تنازعہ کے بعد مسلم لیگ (ن)، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان، پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی)، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کردیا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے ریٹرننگ افسر (آر او) پر متعلقہ حلقے کے فارم 45 اور 46 کی عدم فراہمی اور ووٹوں کے تھیلے کی سیل ٹوٹنے کا الزام عائد گیا جس کے بعد انہوں نے احتجاجاً ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا ہے۔  اس دوران 10 بج کر 15 منٹ پر ووٹوں کے گنتی کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا تھا۔

بعدازاں تقریباً 12 بجے این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل شروع ہوا۔ چار بجے تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق این اے 249 میں 19 پولنگ اسٹیشنز کی گنتی مکمل ہوگئی تھی۔ دوبارہ کی گئی گنتی کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل کے 21 ووٹ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسمعیل کے 11 ووٹ مسترد ہوئے۔

علاوہ ازیں تحریک انصاف کے امجد آفریدی کے 23 ووٹ مسترد ہوئے۔ اس حوالے سےبتایا گیا کہ حلقے میں گنتی کا عمل بلا تعطل جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پی ایس پی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم پاکستان اور دو آزاد اُمیدواروں نے مشترکہ درخواست جمع کراتے ہوئے دوبارہ گنتی کے عمل کا بائیکاٹ کیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما مفتاح اسمٰعیل نے بتایا کہ ایم کیو ایم-پاکستان، پی ایس پی، پی ٹی آئی نے این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کیا اور الیکشن کمیشن کے دفتر سے باہر آگئیں۔ کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ لیکن پیپلز پارٹی (پی پی پی)، تحریک لیبک پاکستان (ٹی ایل پی) اور آزاد امیدوار اندر موجود ہیں۔

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ میں اکیلا بائیکاٹ نہیں کررہا باقی پارٹیاں بھی نکل کرآگئی ہیں۔ صبح بھی آر او نے کہا کہ فارم 46 نہیں دیں گے لیکن ہمیں کم از کم فارم پر دستخط تو دکھائیں۔ جب ووٹوں کا پہلا بیگ کھولا گیا تو وہ سیل نہیں تھا اور ہمارے اعتراض پر بتایا گیا کہ سیل گر گئی ہوگی۔ ہم الیکشن کمیشن میں جائیں گے اور کہیں گے دوبارہ گنتی پر جو مذاق ہورہا ہے اسے رکوائیں۔

مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ غیر استعمال شدہ بیلٹ گننے نہیں دیے اور دستخط کی جانچ پڑتال بھی نہیں کرنے دی گئی۔  آر او نے آج بھی فارم 45 اور 46 دینے سےمنع کردیا اور مکمل آڈٹ کرنے سے انکار کیا گیا۔  جو فارم 45 ملے تھے اس میں 167 پر دستخط نہیں تھے جبکہ آر او کاؤنٹر فائل بھی نہیں دکھا رہا تو ایسے میں گنتی بے کار ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ دھاندلی کی وجہ سے ضمنی الیکشن کالعدم قرار دیا جائے۔  درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن سے پہلے 17 ہزار افراد کے ووٹ دیگر شہروں کو منتقل کیے گئے اور من پسند افسران کو محکمہ تعلیم سے پریذائیڈنگ افسر بنایا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ پیپلزپارٹی نے اپنے امیدوار کو جتوانے کے لیے ترقیاتی منصوبے شروع کیے اور کئی پولنگ اسٹیشنز پر فارم 45 پولنگ ایجنٹس کو نہیں دیے گئے۔

خیال رہے کہ 4 مئی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی قومی اسمبلی کے حلقہ 249 میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست منظور کر لی تھی۔  الیکشن کمیشن نے حکم دیا تھا کہ 6 مئی کو صبح 9 بجے ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوگی جس کے لیے تمام جماعتیں آر او آفس پہنچ جائیں۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل نے 16 ہزار 156 ووٹ حاصل کرنے کے بعد کراچی میں این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں بہت کم مارجن سے کامیابی حاصل کی تھی۔ مفتاح اسمٰعیل نے 15 ہزار 473 ووٹوں کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔