امریکہ نے کورونا ویکسین کے پیٹنٹ ختم کرنے کی حمایت کر دی
- جمعرات 06 / مئ / 2021
- 5670
امریکہ نے کووڈ-19 سے بچاؤ کی ویکسین کے پیٹنٹ یعنی ویکسین تیار کرنے کے جملہ حقوق ختم کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ویکسین کی کمی اور اس ضمن میں عدم مساوات کو ختم کرنا ہے۔
صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے اس اقدام کو عالمی وبا کے خلاف جنگ میں ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ کورونا ویکسین کی تیاری اور اس کی فروخت کے حوالے سے چند مخصوص کمپنیاں ہی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں رجسٹرڈ ہیں اور انہی کے پاس یہ لائسنس ہے کہ وہ اسے تیار اور فروخت کر سکتی ہیں۔ ان کمپنیوں میں امریکی دوا ساز کمپنیاں 'فائزر' اور 'موڈرنا' بھی شامل ہیں جو اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہیں۔
البتہ، اس تجویز پر عمل درآمد کے بعد دیگر ممالک کی کمپنیاں بھی ویکسین کے فارمولے کو استعمال کر کے اسے تیار اور فروخت کر سکیں گی تاکہ ویکسین کی فراہمی میں تیزی لائی جا سکے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) بھی عرصہ دراز سے پیٹنٹ حقوق ختم کرنے پر زور دے رہا تھا۔ تاہم بڑی دوا ساز کمپنیاں اس تجویز کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔
امریکہ کی نمائندہ برائے تجارت سفیر کیتھرین ٹائی نے ایک بیان میں بائیڈن انتظامیہ کے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا ایک غیر معمولی صورتِ حال ہے اور ان حالات میں غیر معمولی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ صدر بائیڈن کی انتظامیہ انٹیلیکچوئل پراپرٹی حقوق کے تحفظ کی علم بردار ہے لیکن اس عالمی وبا کے خاتمے کے لیے اس سے دست بردار ہونے کے حق میں ہے۔
حالیہ مہینوں میں کورونا وائرس کی کئی ممالک میں مسلسل بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے تناظر میں صدر بائیڈن پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ اپنی الیکشن مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کے مطابق ویکسین کے پیٹنٹ ختم کریں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک دنیا بھر میں ویکسین کی ایک اعشاریہ دو ارب خوراکیں لوگوں کو دی جا چکی ہیں۔ تاہم مختلف ممالک میں ویکسین لگانے کی شرح میں بہت زیادہ فرق ہے۔ کچھ ممالک میں نصف سے زیادہ آبادی کو ویکسین دی جا چکی ہے جبکہ کئی ممالک اسے بھی ہیں جہاں ابھی تک ایک بھی خوراک نہیں دی گئی ہے۔