ہمارے ہاں انصاف کا نظام طاقتور کو نہیں پکڑ سکتا: عمران خان
- جمعرات 06 / مئ / 2021
- 5000
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام طاقتور ڈاکوؤں کو نہیں پکڑ سکتا جس کی وجہ سے امیر ترین محلات میں رہنے والے لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس معاشرے میں امیر کم اور غریب زیادہ ہوں وہ معاشرہ کبھی اوپر نہیں جاتا۔ ایلیٹ کلاس نے ملک کو ہر طرح سے اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے، ایک نظام بن گیا ہے جس میں عام آدمی کے لیے کوئی نہیں سوچتا کہ وہ کیسے زندگی گزارے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے ہمارا انصاف کا نظام طاقتور ڈاکوؤں کو نہیں پکڑ سکتا۔ وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا جو عام آدمی کو اوپر لانے کی کوشش نہیں کرتا، چھوٹا سا معاشرہ جس میں امیروں کا چھوٹا سا جزیرہ ہو اور نیچے غریبوں کا سمندر وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ مدینے کی ریاست قائم ہوتے ہی دودھ کی نہریں نہیں بہہ گئی تھیں، انہوں نے سب سے پہلے 2 کام کیے تھے جن میں سے ایک قانون کی بالادستی قائم کرنا شامل ہے کہ صرف غریب جیلوں میں نہیں جائیں گے۔ آج پاکستان میں شور مچا ہوا ہے، 30 سال سے حکومت کرنے والے شور مچا رہے ہیں، وہ احتساب کے لیے تیار نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ قانون سے اوپر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے نام سے ایک یونین بنی ہوئی ہے کہ ہمیں این آر او دے دو باقی عام لوگوں کو جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دو۔ اس کے علاوہ مدینے کی ریاست کو فلاحی ریاست بنایا گیا تھا، وہ کامیابی کا ماڈل ہے اور ہماری بھی یہی جنگ ہے کہ طاقتور کو قانون کے نیچے لے کر آنا ہے اور کمزور طبقے کو اوپر اٹھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے لاہور کو کچی آبادی بنتے دیکھا ہے، تنخواہ دار طبقے کے لیے گھر بنانا بہت مشکل ہوگیا ہے، وہ کیا کرے، اس لیے یہاں کچی آبادیاں بنیں۔ حکومت سبسڈی دے کر گھر فراہم کر رہی ہے، غریب شخص جو کرائے کے گھر میں رہ رہا ہے وہ اب اتنا ہی کرایہ دے کر اپنے گھر کا مالک بن سکے گا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے عام آدمی اپنے گھر کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا، اپنا گھر ایک بہت بڑی سیکیورٹی ہے، لوگوں کو ڈر ہوتا ہے کہ کرایہ نہ دیا تو گھر سے نکال دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچی آبادی کو بھی ہم ملائیشیا اور ترکی کے ماڈل پر تبدیل کریں گے۔