لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی
- جمعہ 07 / مئ / 2021
- 4210
لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے۔ انہیں یہ اجازت طبی بنیاد پر دی گئی ہے۔
شہباز شریف نے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کے لیے اپنا نام بلیک لسٹ سے نکلوانے سے متعلق درخواست دائر کی تھی جسے منظور کرتے ہوئے مشروط طور پر باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی اور بلیک لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
عدالت نے شہباز شریف کو ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دے دی. لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے. قبل ازیں دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا فروری 2019 میں شہباز شریف کی ضمانت ہوئی جس کے بعد حکومت نے نام ای سی ایل میں ڈال دیا۔ لیکن ہائی کورٹ نے مارچ 2019 نام ای سی ایل سے نکال دیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے نیا طریقہ نکالا اور نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف، برطانیہ میں ڈاکٹر مارٹن سے چیک اپ کے لیے وقت لے چکے ہیں اور ان کی کل کی فلائٹ بک ہے۔ شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بلیک لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے صدر مسلم لیگ (ن) کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔ امجد پرویز نے دلائل دیےکہ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنا غیر قانونی ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف کا نام کسی بلیک لسٹ میں ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ درخوست مفروضے کی بنیاد پر ہے اور بغیر ہدایات لیے میں عدالت کی معاونت نہیں کر سکتا۔ جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے ہدایت کی کہ وہ ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔
لاہور ہائیکورٹ میں مختصر وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہدایات نہیں لے سکا، لوگ چھٹی کرکے جا چکے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس چھٹیوں کے بعد رکھ لیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ انہوں نے ریٹرن ٹکٹ کیوں نہیں لی۔ جس پر ان کے وکیل نے جواب دیا کہ کورونا کی وجہ سے ریٹرن ٹکٹ فوری ملنا ممکن نہیں ہے لیکن اگر عدالت چاہتی ہے کہ واپسی کے وقت کا بتایا جائے تو اس حوالے سے یقین دہانی کرانے کو تیار ہیں۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ کے طلب کرنے پر شہباز شریف، مریم اورنگزیب اور عطا تارڑ کے ہمراہ لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کے میڈیکل میں کہیں نہیں بتایا کہ کوئی ایمرجینسی ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ پوچھا یہ تھا کہ کیا بلیک لسٹ میں نام ہے؟ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ ایک ایسا شخص جس کا نام ای سی ایل میں نہیں ہے اور بلیک لسٹ کا معلوم نہیں، اس پر وفاقی حکومت کے تحفظات کیا ہیں؟ جسٹس علی باقر نجفی نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ شہباز شریف واپس نہیں آئیں گے۔ کیا وفاقی حکومت کو کوئی گارنٹی چاہیے؟
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ درخوست گزار پہلے بھی ملک سے جا کر واپس آچکے ہیں۔ دوران سماعت انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہمیں وقت دیا جائے تاکہ ہم دیگر اداروں سے مشاورت کرلیں۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ شہباز شریف نے عدالت میں گارنٹی دی تھی، اس میں تین باتیں طے ہوئی تھیں، ایک شرط کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ جمع کروائی جائے گی، نواز شریف کی طبعیت بہتر ہوگی تو واپس آئیں گے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ نواز شریف کا نہیں ہے۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ شہباز شریف منی لانڈرنگ کیس کے مرکزی ملزم ہیں جبکہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ جسٹس علی باقر نجفی نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ آپ کو باہر جانے کی کیا ایمرجینسی ہے؟ جس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ وہ کینسر کے مریض رہے ہیں اور مرض کا علاج نیو یارک اور لندن میں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے کہا گیا کہ ڈاکٹر مارٹن سے ریگولر چیک اپ کراتا رہوں جبکہ جیل میں ہونے کی وجہ سے علاج میں تعطل آیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ جیل میں ہونے والے میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹ کی روشنی میں فوری علاج کی ضرورت ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا وطن واپس آنے کا کب تک کا ارادہ ہے۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ جیسے ہی ڈاکٹرز نے علاج کے بعد جانے کا کہا میں فوراً واپس آجاؤں گا، میں پہلے بھی عدالت سے نہیں بھاگا تھا۔
جسٹس علی باقر نجفی کا استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف اپنی واپسی کی کوئی ضمانت دے سکتے ہیں۔ امجد پرویز نے شہباز شریف کی 3 جولائی کو پاکستان واپسی کی بھی ٹکٹ پیش کی۔