انتخابی اصلاحات
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 07 / مئ / 2021
- 4400
منصفانہ و شفاف نظام کے لیے انتخابی ساکھ کا سوال بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا انتخابی نظام اپنی سیاسی ساکھ اور شفافیت کا پہلو قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری عمومی سیاسی تاریخ یہ ہی ہے کہ جو بھی انتخابات ہوئے ان کے نتائج کو نہ تو تسلیم کیا گیا بلکہ ان کی حیثیت کو متنازعہ سمجھا گیا۔ جمہوریت اور پارلیمانی نظام کی کامیابی کی اصلاحات پر مبنی ایجنڈا ہوتا ہے۔ لیکن ہماری جمہوری او رپارلیمانی نظام اصلاحات کے ایجنڈے کو سیاسی طاقت دینے میں عملی طور پر ناکام رہا ہے۔ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے دو پہلو اہم ہیں۔ اول 2014میں تحریک انصاف کے دھرنے کے نتیجے میں حکومت نے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جس نے انتخابی اصلاحات کا ڈرافٹ تیار کرنا تھا۔ دوئم انتخابی دھاندلی کے جائزہ کے لیے جو عدالتی کمیشن بنا تھا اس نے انتخابی بے ضابطگیوں پر کمیشن نے 42کے قریب تجاویز دی تھیں۔ لیکن ان د و نوں باتوں پر الیکشن کمیشن کچھ نہیں کرسکا او راس کا نتیجہ 2018کے انتخابات میں بھی انتخابی دھاندلی کا شور دیکھنے کو ملا۔
اس وقت حکومت نے ایک بار پھر انتخابی اصلاحات کا ایک نیا پیکج سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیکج کے تحت انتخابی اصلاحات کا ایجنڈ ا چار نکات پر مبنی ہے۔ ان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین،ای ووٹنگ اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کاحق، بایؤ میٹرک سسٹم اور قانون سازی کا عمل شامل ہے۔قانون سازی کے نکات میں سینیٹ کے انتخابات کو کھلے ووٹ کے ذریعے کرنے کے لیے آئینی ترمیم یعنی صوبائی ارکان اسمبلی اپنی پارٹی کے سربراہ کے حکم پر ووٹ ان کو دکھا کر دیں گے۔اسی طرح غیر ملکی پاکستانیوں کو بھی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دینا بھی حکومتی تجویز کا حصہ ہے۔ اگر وہ انتخاب جیت جاتا ہے تو اسے اپنی غیر ملکی شہریت چھوڑنا ہوگی۔لیکن اس انتخابی اصلاحات کے پیکج پر اس وقت حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جو سیاسی بداعتمادی ہے اس میں حزب اختلاف حکومت سے تعاون کرنے میں سنجیدہ نہیں۔انہوں نے حکومت کی حمایت کرنے سے واضح طور پر انکار کردیا ہے۔اب حکومت نے وفاقی کابینہ کی منظوری سے دو آرڈنینس الیکٹرانک ووٹنگ اور اورسیز کو ووٹ کے حق دینے کو منظور کیا ہے۔بقول فواد چوہدری کے ہم عید کے آخر تک ووٹنگ مشین پر پروٹو ٹائپ ماڈل تیار کر لیا جائے گا۔
ایک مشکل یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے راہنما چوہدری احسن اقبال بضد ہیں کہ ہمیں حکومت پر اعتماد نہیں اور انتخابی اصلاحات کا معاملہ الیکشن کمیشن کو مختص کیا جائے اور وہی تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر انتخابی اصلاحات کو یقینی بنائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر انتخابی اصلاحات عملی طور پر الیکشن کمیشن نے ہی کرنا ہے تو پھر اس پارلیمنٹ کا کیا کردار رہ جاتا ہے۔ انتخابی اصلاحات کی بنیادی ذمہ داری پارلیمنٹ کی ہے اور یہ حق بھی پارلیمنٹ کا ہی ہے کہ وہ اتفاق رائے سے انتخابی اصلاحات کو یقینی بنائے۔یہ عجیب مخمصہ ہے کہ ہماری سیاست او رجمہوریت سے ہی جڑے لوگ اپنی ذمہ داری خود ادا کرنے کی بجائے دوسرے اداروں پر ڈال کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کریں۔انتخابی اصلاحات ایک بڑا مشکل او رپیچیدہ مسئلہ ہے۔کیونکہ اس انتخابی نظام پر ہماری سیاسی او رجمہوری ساکھ جڑی ہوتی ہے۔ انتخابی قوانین، انتخابی اصلاحات میں بہتری لانا اور ان پر عملدرآمد کا منصفانہ اور شفاف طریقہ کار دو مختلف چیزیں ہیں۔ کیونکہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بہتر پالیسی، قانون سازی یا اصلاحات تو کرلیتے ہیں لیکن عملدرآمد کا نظام عدم شفافیت یا بے جا مداخلتوں سے جڑا ہوا ہے۔ خود الیکشن کمیشن جسے ہم ایک خود مختار ادارہ سمجھتے ہیں اس کی اپنی صلاحیت کے سوالات بھی بنیادی نوعیت کے ہیں۔
اصولی طور پر تو حکومت، حزب اختلاف کو مشاورت کرکے آگے بڑھنا چاہیے۔ اس لیے یہاں انتخابی اصلاحات کو محض کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کی انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے اسے ایک بڑے قومی مسئلہ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ کیونکہ اگر ہم نے منصفانہ اور شفاف اصلاحات پر توجہ نہ دی تو پھر 2023کے انتخابات میں بھی ہمیں دھاندلی کا بیانیہ دیکھنے کو ملے گا او رجو بھی جماعت انتخابات میں جیت نہیں سکے گی و ہ انتخابی نتائج کو قبول نہیں کرے گی۔اس لیے جو لوگ یہ منطق دے رہے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کوئی اہم ایجنڈا نہیں یہ تجزیہ درست نہیں۔کیونکہ جس قسم کا انتخابی نظام عدم شفافیت کی بنیاد پر یہاں موجود ہے اس میں بڑی نمایاں تبدیلیوں کے ہم کچھ نہیں کرسکیں گے۔ 2014میں جو پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی اس نے ایک مفاداتی قسم کی ترمیم پیش کی جس کے تحت انتخابات لڑنے والوں پر اپنے اثاثے کو ظاہر کرنے کی پابندی ختم کردی گئی تھی۔اس پابندی کو عائد کرکے سیاسی قیادت نے موقع پرستی کی سیاست کو فروغ دیا جس کی کسی بھی سطح پر حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔
انتخابی اصلاحات میں مزید دو مسائل سرفہرست ہیں۔ انتخابی نظام دولت کے کھیل کا حصہ بن گیا ہے اور اس تناظر میں تمام انتخابی قوانین کی کوئی حیثیت نہیں او رنہ ہی ان قوانین پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ انتخابی نظام میں دولت کے کھیل کا خاتمہ اور عام آدمی کی عملی طور پر انتخابی نظام میں بطور امیدوار شرکت کو کیسے یقینی بنایا جاسکے۔ اسی طرح اسٹیبلیشمنٹ یا انتخابی نظام میں مداخلت کا کھیل ہے اس کو کیسے روکا جائے۔کیونکہ جو بھی انتخابات ہوتے ہیں ہارنے والے کا الزام بھی اسٹیبلیشمنٹ پر ہی لگتا ہے۔ہمیں یقینی طو رپر بھارت سے سبق سیکھنا ہوگا کہ کیسے وہاں انتخابات میں شکست کھانے والے نہ تو انتخابی دھاندلی کا واویلا مچاتے ہیں او رنہ ہی نتائج کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔اسی طرح سیاسی جماعتوں کی انتخابی فنڈنگ کے معاملات پر بھی قانون سازی درکار ہے او ریہ کام دیگر ممالک کی طرح ہونا چاہیے کہ براہ راست سیاسی جماعتیں انتخابی فنڈ نہ اکھٹا کریں اور یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ہی ہونی چاہیے اور وہی سیاسی جماعتوں کو ان کی سیاسی حیثیت کے مطابق انتخابی فنڈ جاری کرے۔انتخابی اصلاحات ہی کے تناظر میں ہمیں انتخابی نظام کی شفافیت کے لیے پولیٹکل پارٹیز ایکٹ میں ترمیم لانی ہوگی کیونکہ ہماری سیاسی جماعتوں کا اپنا داخلی نظام عدم جمہوریت کا شکار ہے۔
بہت سے لوگ الیٹرانک ووٹنگ کے نظام پر تنقید کررہے ہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت جو کچھ بھی کرنا چاہتی ہے اس پر تمام فریقین کو اعتماد میں لے ان کو مکمل طو رپر آگاہ کرے کہ یہ طریقہ انتخاب کیسے شفافیت کو بحال کرسکے گا۔ کیونکہ جو لوگ پرانے نظام کی دلیل دیتے ہیں ان کو یہ بھی ماننا ہوگا کی اسی پرانے نظام کی بنیاد پر ہم انتخابی دھاندلی کا ماتم کرتے ہیں۔ ہمیں یقینی طور پر باہر کے ملکوں کے تجربات سے سیکھنا ہوگا کہ انہوں نے کیسے اپنے انتخابی نظام کو شفاف بنایا اور خاص طو رپر بھارت نے اپنے الیکشن کمیشن کو کیا خود مختاری دی ہوئی ہے اس کا بھی جائزہ لے کر اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔
ہمیں انتخابات کی مدت پانچ برس کی بجائے چار برس، قومی، صوبائی او رمقامی حکومتوں کے انتخابات ایک ہی وقت میں انعقاد، جرائم پیشہ افراد کی انتخابی عمل میں عدم شمولیت، سیاسی جماعتوں کی سطح پر انتخابی نتائج کو قبول کرنے کا عہد، پیشہ وارانہ افراد کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد،الیکشن کمیشن کی صلاحیتوں میں اضافہ اور خودمختاری، سیاسی جماعتوں کے داخلی جمہوری نظام کی یقین دہانی،ٹکٹوں کی خرید وفروخت، سینیٹ کے براہ راست انتخابات، مقامی حکومتوں کے نظام کے تسلسل، ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافہ، دو سے زیادہ نشستوں پر انتخابات لڑنے پر پابندی کو ہر سطح پر یقینی بنانا ہوگا۔