شہباز شریف کو سفر سے روک دیا گیا، حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی
- ہفتہ 08 / مئ / 2021
- 5090
حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ بلیک لسٹ میں نام ڈالنا یا نکالنا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کا اختیار ہے۔ شہباز شریف کے وکلا کی طرف سے ان کا نام بلیک لسٹ سے نام نکلوانے کی ابھی تک کوئی درخواست ڈی جی ایف آئی اے کو نہیں دی گئی، صرف زبانی باتوں پر ریکارڈ میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو علاج کے لیے ایک بار بیرون ملک سفر کرنے کی مشروط اجازت دی تھی۔ تاہم انہیں ہفتے کی صبح لاہور ایئرپورٹ سے براستہ قطر برطانیہ جانے سے روک دیا گیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مبینہ طور پر ان کا نام ایک اور فہرست میں رکھتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے سے روک دیا۔
پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ جب شہباز شریف آج ایئرپورٹ پہنچے تو ایف آئی اے کے عہدیداروں نے انہیں روکا اور کہا کہ وہ سفر نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا نام ایک 'پرسن ناٹ اِن لسٹ' (پی این آئی ایل) فہرست میں ہے'۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کا سسٹم عدالتی حکم کے بعد بھی اپ ڈیٹ نہیں ہوا۔
مریم اورنگزیب نے اسے بدنیتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات شہریوں کو بجلی، پانی، چینی اور گندم کی فراہمی کے بجائے شہباز شریف اور سیاسی مخالفین پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر یہ بیان جاری کر رہے ہیں کہ وہ اس حکم کو قبول نہیں کرتے۔ اور وہ شہباز شریف کو روکنے کے لیے مکمل کوششیں کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے ایف آئی اے کے نوٹس کو جھوٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا۔ خیال رہے کہ شہباز شریف نے دو روز قبل لاہور ہائی کورٹ سے اپنا نام ٹریول بلیک لسٹ کی فہرست سے نکلوانے کے لیے رجوع کیا تھا اور ایک بار علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت طلب کی تھی۔
عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ ماضی کے رویے اور سفری معلومات کے پیش نظر درخواست گزار کا نام اس وقت ایگزٹ کنٹرل لسٹ (ای سی ایل) پر نہیں ہے۔ درخواست گزار کا نام بلیک لسٹ میں ہے اور موجود ہو تو بھی درخواست گزار کو ایک مرتبہ 8 مئی 2021 سے 3 جولائی 2021 تک اپنے طبی معائنے کے لیے عدالت کے سامنے کیے گئے وعدے کے تحت برطانیہ جانے سے نہیں روکا جاسکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ شہباز شریف نے نواز شریف کے باہر جانے کے لیے یہ گارنٹی عدالت میں جمع کروائی تھی۔ اب بجائے اس کے کہ شہباز شریف کو جعلی گارنٹی دینے پر نوٹس کیا جاتا اور نواز شریف کو واپس بلایا جاتا، خود شہباز شریف کو باہر بھیجا جارہا ہے۔