مسجدِ اقصیٰ میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز میں جھڑپیں، 205 افراد زخمی

  • ہفتہ 08 / مئ / 2021
  • 4410

مسجدِ اقصیٰ میں فلسطینیوں اور اسرائیل کی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 205 ہو گئی ہے۔ جب کہ اسرائیلی پولیس کے 17 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

رمضان کے دوران بیت المقدس اور مغربی کنارے میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ فلسطینی خاندانوں کی ان علاقوں سے بے دخلی ہے جس کے دعویدار یہودی آباد کار ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں جمعے کی شام کو ہونے والی جھڑپوں میں اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے گولے فائر کیے۔ جب کہ فلسطینیوں نے اسرائیلی پولیس پر پتھراؤ کیا۔

مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں رات کے اوقات میں جھڑپیں جاری ہیں۔ جہاں متعدد فلسطینی خاندانوں کو طویل مدت سے جاری عدالتی کیس کے سبب اپنے گھر خالی کرنے پڑیں گے۔ فلسطین کے ہلال احمر ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ 108 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جن کی اکثریت کو ربڑ کی گولیاں لگی تھیں۔

دوسری طرف پولیس کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ، آتشی اشیا اور دیگر چیزیں پھینکی گئیں جس کی وجہ سے زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ شیخ جراح سے بے دخل کیے جانے والے فلسطینیوں سے متعلق کیس کی سماعت آئندہ ہفتے پیر کو کرے گی۔ اس سے قبل ہزاروں فلسطینی مسجدِ اقصیٰ سے متصل چوٹی پر نمازِ جمعہ کے لیے جمع ہوئے تھے۔ تاہم افطار کے بعد مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں جھڑپیں شروع ہو گئیں اور شیخ جراح کے قریب فلسطینیوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

پولیس کی طرف سے بے دخل کیے جانے والے فلسطینیوں کے گھروں کے قریب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن استعمال کیے گئے۔ مسجدِ اقصیٰ کے منتظمین کی طرف سے لاؤڈ اسپیکر سے پولیس کو مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے فائر کرنے سے فوری طور پر منع کیا گیا اور نوجوانوں کو تحمل اور خاموش رہنے کی تلقین کی گئی۔

فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے ان جھڑپوں کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے فوری طور پر اس واقعے سے متعلق اجلاس بلانے کا کہا گیا ہے۔ مغربی کنارے میں بھی تشدد میں اضافہ ہوا ہے جہاں پولیس کے مطابق دو فلسطینی مسلح افراد ہلاک اور ایک اس وقت زخمی ہوا جب ان کی طرف سے اسرائیلی چوکی پر فائرنگ کی گئی۔