پاکستان اور سعودی عرب نے پاک سعودی سپریم کوآرڈینیشن کونسل قائم کردی
- ہفتہ 08 / مئ / 2021
- 4900
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون اور تعلقات کو منظم اور مربوط کرنے کے لیے سعودی پاکستانی سپریم کوآرڈینیشن کونسل قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
پاکستان کی کابینہ دو روز پہلے ہی اس کونسل کے قیام کی منظوری دے چکی ہے۔ اس کونسل کا مقصد دونوں ممالک کے دو طرفہ تعاون کو بہتر اور ہموار کرنا ہے تاکہ فروری 2019 کے سعودی ولی عہد کے پاکستان کے دورے کے دوران جو سرمایہ کاری کے معاہدے طے پائے تھے ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر راساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق، دونوں ملکوں کے نمائیندوں نے غیر قانونی منشیات، جدید نشہ آور ادویات اور ان کے کیمیائی عناصر کی سمگلنگ روکنے کے لیے ایک یاد داشت پر دستخط کیے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے درمیان ملاقات کے دوران انہوں نے دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کی گہرائی کا اعادہ کیا اور دوطرفہ تعاون اور کوآرڈینیشن کے پہلوؤں کو وسعت دینے اور تیز کرنے اور مختلف شعبوں میں ان کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
اس کے علاوہ فریقین نے علاقائی اور بین الاقوامی میدانوں میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دلچسپی کے امور پر ایک ایسے انداز میں تبادلہ خیال کیا جس سے سلامتی اور استحکام کی تائید اور توسیع میں مدد مل سکے۔
پاکستانی وزیر اعظم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی اسلامی اتحاد کو فروغ دینے اور اسلامی اقوام کو درپیش مسائل کے حل میں سعودی عرب مملکت کے مثبت کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے سعودی عرب کی علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے کوششوں کو بھی سراہا۔
فریقین نے سعودی عرب کے وژن 2030 اور پاکستان میں ترقی کی ترجیحات کی روشنی میں سرمایہ کاری کے مواقع اور ان کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین معاشی اور تجارتی تعلقات کو بڑھانے اور مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ دو طرفہ فوجی اور سیکیورٹی تعلقات کی مضبوطی پر اپنے اطمینان کی تصدیق کی اور دونوں ممالک کے مابین مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے مزید تعاون پر اتفاق کیا۔
فریقین نے عالم اسلام کی طرف سے انتہا پسندی اور تشدد کا مقابلہ کرنے اور فرقہ واریت کو مسترد کرنے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے حصول کے لئے بھرپور کوششوں پر زور دیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے دہشت گردی کے اس رجحان سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کوششوں کو جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا جس کا کسی مذہب، نسل یا رنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور اس کی تمام شکلوں اور تصویروں کا مقابلہ کریں، چاہے اس کا کوئی بھی ذریعہ ہو۔
ایک سعودی ویب سائیٹ العربیہ کے مطابق سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیاان توانائی کے شعبے، انفرسٹرکچر، ٹرنسپورٹ، پانی اور کمیونیکیشن کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ایک اور مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کا تین روزہ دورہ جمعۃ الوادع کے دن سے شروع ہوا ہے جو نو مئی تک جاری رہے گا۔ جبکہ اِس دوران پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ بھی شہزادے سے ملاقات کر چکے ہیں۔
سعودی عرب کے نجی شعبے کہ انگریزی اخبار عرب نیوز کے مطابق گزشتہ شب وزیر اعظم عمران خان کا استقبال ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے وزیر اطلاعات اور وزیر تجارت اور دیگر حکام کے ہمراہ کیا جدہ میں کیا تھا۔
اس دوران پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس دورے کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی جن میں اقتصادی، امور، باہمی تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیات، توانائی، پاکستانیوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع، پاکستانیوں کی فلاح و بہبود جیسے معاملات شامل ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کی طرف سے اعلامیے جاری کیے گئے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ہر شعبے میں مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ سعودی عرب پر پاکستان میں سرمایہ کاری پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی اپنے اعلامیے میں اس کی تصدیق کی ہے۔ پاکستانی اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے قومی معاشی ترقی کے لیے پرامن ہمسائیگی سے متعلق بات کی۔ پاکستان اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نےجموں اور کشمیر تنازع کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔
وزیر اعظم نے خطے میں امن اور سیکورٹی کے فروغ کے لیے سعودی ولی عہد کی کوششوں کی تعریف بھی کی ہے۔ اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے افغانستان میں بھی امن اور مصالحت میں پاکستان کی مستقل کوششوں کا ذکر کیا ہے۔ دونوں ممالک نے فلسطینیوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے شام اور لیبیا میں تنازعات کے سیاسی حل سے متعلق اپنی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی طرف سے جاری کردہ بیان میں یمن کے تنازع پر بھی تفصیلات شامل ہیں اور سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرونز حملے کی مذمت بھی شامل ہے۔ اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے ولی عہد کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔