ہائیر ایجوکیشن کو ایک اور جھٹکا

وائس چانسلر صاحبہ  2002  میں لاہور کالج فار ویمن  کو ایک آرڈینینس کے ذریعے اپ گریڈ کرکے یونی ورسٹی کا درجہ دیا گیا تھا۔  اس کے ساتھ ہی  کالج  میں پوسٹ تمام عملہ یونی ورسٹی کو منتقل ہو گیا ماسوائے ان کے جو کالج کیڈر یا ڈیپوٹیشن پر تھا۔  ان کی تنخواہیں   ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  ادا کرتا آیا ہے جب کہ یہ اسٹاف یونی ورسٹی کے لئے  مامور ہے۔ 

فنانس  ڈیپارٹمنٹ  نے نشاندہی کی ہے کہ یہ صریحاٌ  آرڈینینس کی خلاف ورزی ہے،  لہذٰا  فیصلہ کیا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں  کالج کیڈر کے ٹیچنگ اسٹاف  کو ان کے بجٹ سمیت واپس  یونی ورسٹی سے  تین ماہ کے اندر یعنی یکم جولائی تک واپس  لیا جا رہا ہے۔ 

ہائیر ایجوکیشن  پنجاب کی پُھرتی کہ اسے  19 سال بعد احساس ہوا کہ اس کے اپنے  ڈیپارٹمنٹ میں اساتذہ کی شارٹیج ہے، اور یونی ورسٹیاں ہیں کہ ان کے اسٹاف اور بجٹ پر اپنے گلشن کا کاروبار چلائے  ہوئے  ہیں۔ کہاں تو  19  سال تک  یہ  بندوبست  جاری رکھا مگر اب جلد بازی کی انتہاکہ تین ماہ کی قلیل مدت میں انہیں اپنے ڈیپارٹمنٹ میں واپس لانے کا  حکم ہے۔

 صوبائی وزیرہائیر ایجوکیشن  راجہ یاسر ہمایوں کے بقول یہ  انتظامی فیصلہ اس لئے کرنا پڑا کہ ڈیپارٹمنٹ میں ٹیچرز کی شارٹیج ہے۔  دوسری جانب متاثرہ ٹیچرز کے بقول  وزیر موصوف  کے موقف میں   ٹیچرز  بطور  اعداد و شمار  تو ہیں مگر   ان کے کیرئیر، تجربے،  یونی ورسٹی کے مطابق  تعلیمی صلاحیت بڑھانے کی سالہا سال کی مشقت،  خاندان  اور  طویل وابستگی  کے ایک جھٹکے سے بے یقینی   کی بھینٹ چڑھائے جانے کا شائبہ تک نہیں ہے۔ 

پہلے مرحلے میں گیارہ یونیورسٹیوں  سے سینکڑوں اساتذہ کو واپس کالجز   میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس فیصلے سے سب سے زیادہ دو  ویمن یونیورسٹیاں متاثر ہو ئی ہیں،  لاہور کالج فار ویمن یونی ورسٹی سے 90 کے لگ بھگ جبکہ ویمن یونی ورسٹی فیصل آباد  سے ایک سو کے لگ بھگ اساتذہ  پر یہ ہتھوڑا گرا ہے۔  تیسرے اور چوتھے نمبر پر ویمن یونی ورسٹی ملتان اور غازی یونی ورسٹی  ڈیرہ غازی خان ہیں جہاں  پچاس پچاس کے لگ بھگ اساتذہ  کو   کالج واپسی کا پروانہ تھمایا گیا ہے۔

خواتین  اساتذہ  کی داد فریاد اور  پریشانی میڈیا میں  پہنچی تو اس  فیصلے کی حسن و قبح پر   بات شروع ہوئی ہے۔ اس مسئلے کے تین قابل غور پہلو ہیں۔ اوّل:  انیس سال قبل کالج کو اپ گریڈ کرتے ہوئے یونی ورسٹی کا درجہ دیا گیا تو پہلے سے موجود خواتین اساتذہ  کی مدد سے ہی  ٹیچنگ اسٹاف کی  کمی پوری کی گئی۔ بعد ازاں یونی ورسٹی کے اپنے اسٹاف کی بھرتی کے باوجود   کالج گریڈ  میں موجود  

 ٹیچنگ  اسٹاف  پر بھی مکمل انحصار کیا گیا۔ اس دوران  ان خواتین اساتذہ  میں سے بیشتر نے ایچ ای سی کی شرائط پوری کرتے ہوئے پی ایچ ڈی اور ایم فِل بھی کر لیا۔ یونی ورسٹی طالبات  کو پڑھانے کے لئے درکار ٹیچنگ کی صلاحیتوں میں محنت کرکے اضافہ کیا۔ سب سے زیادہ متاثر  لاہور ویمن یونی  ورسٹی اور ویمن یونی ورسٹی فیصل آباد نے  کوالٹی ایجوکیشن  میں جو نام  کمایا اس میں اِن کالج گریڈ  خواتین اساتذہ کا   کلیدی کردار رہا۔ مگر اب  اس کلیدی کردار، تعلیمی  استعداد اور  طویل تجربے کا  یہ صلہ طے ہوا ہے  کہ انہیں یونی ورسٹی سے  واپس بلا کر  کالجز میں کھپایا جائے۔

دوم:  ہم  اکثر شکوہ کناں رہتے ہیں کہ  سماج اور معیشت میں خواتین کی شرکت بہت کم ہے۔  مسابقت کی دوڑ میں  صلاحیت  اور کارکردگی  کا پیمانہ مسلسل عبور کرنا  پروفیشنل خواتین کے لئے  ضروری ہے، دوسری  جانب فیملی اور گھر سنبھالنا، عمر بھر  اس دوہرے رول میں خواتین کی اکثریت کی کمر دوہری ہو جاتی ہے۔ حکومت کو اگرآرڈی نینس کی خلاف ورزی کا انیس سال بعد انکشاف ہو ہی گیا ہے تو  ان  خواتین اساتذہ کو صرف  پوسٹوں کی تعداد  یعنی  صرف نمبر  میں  گننے کا  رویہ  نامناسب  ہے۔   یہ سینکڑوں خواتین اساتذہ ہیں، مائیں ہیں،  بہنیں ہیں،  خاندانوں  کا مرکز ہیں۔ کسی نے یہ انتظامی  فیصلہ کرتے ہوئے انسانی اور خواتین کے حقوق اور  ان  کے کام کاج کے ماحول کی باریکیوں کو بھی جانچنے کی کوشش  کی؟

سوم:  فیصلے کے بعد خواتین ٹیچرز کے سیکریٹیریٹ کے چکر لگنا شروع ہوئے تو انہیں   اندازہ ہوا کہ انہیں واپس بلانے کا  نوٹیفیکیشن تو ہو گیا ہے،  کس جگہ لگانا ہے اس کی فکر وہاں کسی کو نہیں۔ کسی نے بہت  کرید کر پوچھا کہ حضور لاہور اور فیصل آباد جیسے شہروں  کے کالجز میں اتنی پوسٹیں ہی نہیں کہ ہمیں اپنے شہروں میں لگائیں۔  بقول متاثرہ ٹیچرز بے نیازی سے جواب ملا،  آپ فکر نہ کریں، یہ ہمارا مسئلہ ہے، ابھی دو مہینے پڑے ہیں، آپ ریلیکس کریں۔  حالانکہ اس جواب کے بعد کون کم بخت ریلیکس رہ سکتا ہے۔

 یونی ورسٹیوں سے واپس بلائی جانے والی  کئی خواتین ٹیچرز  کی ریٹائرمنٹ میں دو چار سال رہ گئے ہیں۔ اس عمر اور ملازمت کے پچھلے پہر بے یقینی اور  یونیورسٹی سے کالج کی طرف مراجعت  سے  ہونے والی ذہنی کوفت کا  مداوا کرنے کی بجائے  روایتی دفتری طفل تسلیاں  متاثرہ خواتین ٹیچرز کے لئے اذیت ناک تجربہ ہے۔ یونی ورسٹی کی  ملازمت میں جانے کا فیصلہ کریں تو سینیارٹی گئی، اور اگر کالج گریڈ میں  شہر  میں واقع کسی  نزدیکی کالج میں تبادلہ کی نوبت آ بھی گئی تو اکاوئنٹس ڈیپارٹمنٹ  نئی پوسٹ  کی تنخواہ جاری کرنے کی  روٹین میں کئی کئی ماہ لگا دیتا ہے۔  اگر نزدیک اور مناسب کالج میسر نہ آیا  تو تب تک تنخواہ رکے  رہنے کا اندیشہ۔ کورونا کی وبا کے دنوں میں مالی تنگدستی کا خوف ہی سوہانِ روح ہے۔

 اس انتظامی فیصلے کو انسانی  اور خواتین کے حقوق کی نظر سے بھی دیکھنے کی ضرورت  ہے۔ ان اساتذہ کو ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  اور  یونی ورسٹیوں کے مابین  بجٹ  اور سینیارٹی  معاملات طے کرکے یونی ورسٹی  بدری سے بچا یاجا سکتا ہے۔  طویل کیرئیر کے باوجود خواتین ٹیچرزکے ساتھ یہ سلوک مناسب نہیں، گورنر  پنجاب جو  سرکاری یونیورسٹیوں کے سرپرست  بھی ہیں، انہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس مسئلے کا  موزوں حل نکالنے کے لئے رول   ادا کرنا چاہئے۔  ٹائمنگ اور جواز کے اعتبار سے بھی   یہ  فیصلہ  انتظامی اور سیاسی طور پر  بلا جواز اور نا عاقبت اندیشی  پر مبنی ہے۔