شہباز شریف پاکستان میں علاج کروائیں اور جرائم کا حساب دیں: فواد چوہدری
- اتوار 09 / مئ / 2021
- 4460
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد، شہباز شریف اور نواز شریف سے کہیں زیادہ بیمار ہیں لیکن ملک میں ہی علاج کروارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور نواز شریف کو بھی ملک میں رہ کر ہی اپنا علاج کروانا چاہیے تھا۔ اسلام آباد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ و احتساب مرزا شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ قومی احتساب بیورو نے 400 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرایا جو قابل تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری عدالتوں نے پاناما کیس کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں یہ تاثر بنا کہ عدالتی نظام کرپشن کے خلاف جنگ میں حصہ ہے لیکن کچھ معاملات میں عوام کی سوچ ہے کہ نظام تاحال تبدیل نہیں ہوسکا۔ حقیقت بھی یہ ہی ہے کہ نظام تبدیل نہیں ہوسکا، ہم نے حکومت لی ہے لیکن نظام کے خلاف ہمارے جنگ تاحال جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر کی جانب سے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی درخواست پیش کی گئی اور درخواست کی اگلی ہی سماعت میں انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تاہم اس تمام معاملات میں حکومت سے کوئی مؤقف شامل نہیں رہا۔ شہباز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان ہزاروں قیدیوں کو حقوق کو ایک طرف رکھ دیں اور انہیں بھول جائیں۔
پاکستان میں طبقاتی نظام کو تسلیم کرلیں، قیدیوں کو جیل سے باہر علاج کرانے کا حق بھی نہیں ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اس طرح ہمارا معاشرہ تباہ ہوجائے گا۔ حکومت کے علاوہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کو کہا تھا کہ تحریک چلانا چاہتے ہیں کہ نواز شریف کو وطن واپس لائیں کیونکہ خود اپوزیشن سمجھتی ہے کہ نواز شریف مفرور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا واضح مؤقف ہے کہ قانون کی بالادستی یکساں ہو جس میں نواز شریف خاندان کے لیے الگ اور غریب کے لیے الگ قانون نہ ہو۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ و احتساب مرزا شہزاد اکبر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف کے خلاف دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں جنہیں صرف نظر کردیا گیا اور اسی منی لانڈرنگ کی وجہ سے پاکستان آج فیٹف کی گرے لسٹ میں ہے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت شہباز شریف کی ضمانت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا سوچ رہی ہے۔
خیال رہے کہ شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ سے اپنا نام ٹریول بلیک لسٹ کی فہرست سے نکلوانے کے لیے رجوع کیا تھا اور ایک بار علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت طلب کی تھی۔ جس پر عدالت نے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کے لیے نام بلیک لسٹ سے نکلوانے سے متعلق دائر درخواست منظور کرتے ہوئے مشروط طور پر باہر جانے کی اجازت دی تھی۔
تاہم وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ان کا نام 'ایک اور فہرست میں' رکھتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے سے روک دیا تھا۔