ہم اور ہماری مائیں

ہم کون؟ میر نے ہم کی تعریف بڑے قلندرانہ اسلوب میں کی ہے:

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے

اُن کی زُلفوں کے سب اسیر ہوئے

یہ زمین خُدا کی ہے،  ساری مخلوق خُدا کا کُنبہ ہے۔ ہر  چہرا خُدا کا بنایا  ہوا چہرا ہے اور اُس پر رب کے دستخط ہیں۔  وہ ہندو ہو، عیسائی ہو، یہودی ہو، بُدھ ہو  یا  ملحد ہو، وہ  سارے کے  سارے خُدا کے فیکٹری کے تراشے ہوئے صنم ہیں۔ خُدا ہر ماں کے پیٹ  میں بچے کی  تصویر بناتا ہے۔  خُدا کے  قانون میں چوہڑی، چماری، کمہاری، شودرانی، بھیل،  طوائف، دولت مند  عورت اور  شہزادی ایک  جیسی ہیں۔ خُدا یہ کہہ کر کسی چماری کو اولاد سے محروم نہیں کرتا کہ تو گھٹیا ذات کی ہے۔ جا تجھے اولاد سے محروم کیا لیکن ہم نے اس زمین پر خُدا کی مخلوق کو خانوں میں بانٹ رکھا ہے۔ ہم مسلمان  خُود کو اُمتِ خیر کہتے نہیں تھکتے مگر اپنے کرتوت نہیں دیکھتے۔ اقبال نے ہمیں  آئینہ دکھایا مگر دیکھنا نہیں چاہتے ۔  اُنہوں نے کہا:

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

تم مسلماں ہو، جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

اور یہ مسلمان جو  جدید وضع قطع اور روایتی  تمدن کا اسیر ہے عورت کو اُس کے حقوق  نہیں دیتا۔  ہمارے یہاں کاروکاری، وٹہ سٹہ اور عورت کو گھر کی ملازم  بنا کر رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ جدید تعلیم نے بڑے شہروں میں جہالت کی اس روایت کو تبدیل  کرنے کی طرف پیش رفت کی ہے مگر دیہی  علاقوں کے  پنچایتی نظام  کے قیدیوں اور مذہب کے روایتی پیروکاروں نے عورت کو دوسرے درجے کا انسان بنا رکھا ہے۔  اور کبھی مسلمانوں نے اس بات کو  سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی انسانی معاشرے میں عورت کا کیا مقام ہے، اور جو ماں ہے، بہن ہے، بیٹی ہے ، خالہ ہے، پھوپھی ہے،  ساس ہے، نند ہے  اور بیوی ہے۔ یہ سارے رشتے اُس خاندانی نظام کے ہیں جس کو خود خُدا نے  بنایا ہے۔ قرآن میں رقم ہے:

 اور ہم نے کہا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو  اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ پیو  لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔

 (حوالہ:(البقر  ۵۳)

لیکن وہ کون سا درخت تھا جس کے پاس جانے سے منع کیا گیا تھا؟ صوفیا کے علوم کے مطابق وہ درخت لاقانونیت کا تھا اور اُنہیں کہا گیا تھا کہ یہاں رہو مگر قانون نہ توڑنا۔ یہ قانون آج بھی لاگو ہے کہ اپنے اپنے گھر وں میں جو  ہر خاندان کی  اپنی اپنی جنت  ہوتی ہے ، آدم اور حوا کی طرح رہو مگر لاقانونیت کے درخت کے پاس نہ جاؤ  ورنہ جنت سے نکالے جاؤ گے۔  ہر گھر کا قانون محبت  ہے ۔ ایک دوسرے سے محبت کرنا  اور جب تک محبت کے قانون کی حکمرانی رہتی ہے، گھر ایک جنت ہوتا ہے اور جب  محبت کی جگہ نفرت لے لے تو گھر جہنم بن جاتا ہے۔  گھر کے جنت ہونے کی ایک تلمیح یہ ہے کہ جنّت ماں کے قدموں تلے ہے اور حقیقی زندگی میں ہر بچہ ماں کے قدموں میں جنم لیتا ہے، جہاں اُسے ممتا کا شہد اور دودھ کی دو نہریں  ملتی ہیں۔  یہ اُس کی جیتی جاگتی، ہنستی مسکراتی جنت ہے اور  جب تک انسان  بچوں کی طرح معصوم رہتا ہے وہ جنّت میں ہوتا ہے اور جب وہ انسانی رشتوں کی سیاست کرنے لگتا ہے تو جہنم کا دروازہ کھل جاتا ہے۔

 حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تو واشگاف بتا دیا تھا کہ جنت میں معصوم بچے ہی داخل ہو سکیں گے۔  اور آج جب پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں  ماؤں کا دن منایا جا رہا ہے ۔ ماں جو پیغمبروں، ولیوں،  پروفیسروں، سائنس دانوں، محققوں ،فلسفیوں اور دانشوروں کو جنم دیتی ہے در اصل ساری تعلیم اور دانش وری کی ماں ہے۔   اسی لیے یہ ضرب المثل وجود میں آئی کہ جو ہاتھ جھولا جھلاتا ہے وہ  دنیا پر حکومت کرتا ہے۔ وہ بیٹا جو ماں کے وجود میں نو مہینے بسر کرتا ہے، جنم لینے سے پہلے اپنی ماں کی آواز سے واقف ہوتا ہے کیونکہ ماہرینِ حتایات و نفسیات نے تحقیق کر کے بتایا ہے کہ بچہ پیدا ہونے سے پہلے ماں کی آواز سے واقف ہوتا ہے  کیونکہ رحمِ مادر میں سب سے پہلے اُس کے کان بنتے ہیں۔

 ماں جب پیار سے اپنے نومولود سے باتیں کرتی ہے تو اُس میں  وہ سارے خواب شامل ہوتے ہیں جو وہ اپنے بچوں  کے بارے میں دیکھتی ہے۔  زبان اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ سورہ  روم میں رقم ہے کہ تمہاری جلد کی رنگت اور تمہاری  زبان اللہ کی نشانیاں ہیں ۔ چنانچہ جو زبان ماں کے دودھ کے ساتھ بچے کو  ودیعت کی جاتی ہے وہ اللہ کی نشانی ہے جسے ماں بولی، مادری زبان، مدر ٹنگ  یا مورشمول کہتے ہیں۔ ساری زبانیں خُدا کی زبانیں ہیں  اور اتنی ہی محترم ہیں جتنی صحیفوں کی زبانیں۔ چنانچہ زبان کی صورت میں ہر بچے میں ماں بولتی ہے۔  اور ایک روایت کے مطابق حشر کے روز ہر بچے کو اُس کی ماں کے حوالے سے پکارا جائے گا۔ حضرت  موسیٰ نے جب اپنے بھائی ہاروں کو پکارا تو اُسے اپنی ماں کا بیٹا کہہ کر پکارا۔  چنانچہ ماں اپنی اولاد کو محبت کا جو تحفہ اپنے  خون کو دودھ میں تبدیل کر کے پلاتی ہے وہ انسانی معاشرتوں میں محبت  کے رویوں کو پروان چڑھاتا ہے۔

ایک کوالیفائیڈ ماں ایک پورا انسٹی چیوشن ہوتا ہے، ایک مکتب ہوتی ہے، ایک  کنڈرگارٹن ہوتی ہے اور اپنی نسل کو پروان چڑھانے کا تعلیمی نصاب ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ بہت ضروری ہے کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق ہر بیٹی اور بہن کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے  کیونکہ بیٹی کی تعلیم پرآنے والی نسلوں کی  تعلیم  اور پرورش کا دارومدار ہوتا ہے۔  مجھے آج  اپنے مرحومہ ماں یاد آ رہی ہیں جو چنیوٹ میں حافظ دیوان قبرستان میں دفن ہے۔ وہ میری پہلی استانی تھی جس نے مجھے نماز سکھائی اور قرآن کی دس سورتیں زبانی یاد کروائیں۔  آج  ماؤں کے عالمی دن پر  میں اپنی مرحومہ ماں کو اقبال کی زبان میں اس دعا کے ساتھ یاد کرتا ہوں کہ:

آسماں تیری لحد پر شبنم  افشانی کرے

سبزہ  نورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے۔

میں ماؤں کے عالمی دن پر دنیا بھر کی ماؤں کو جو بقیدِ حیات ہیں یا خالقِ حقیقی سے جا ملی ہیں، سلام پیش کرتا ہوں۔