پاکستان نارمل ریاست کیسے بنے؟
- تحریر افضال ریحان
- سوموار 10 / مئ / 2021
- 7180
ہمالہ کی چوٹی جیسی بلندی سے آواز آئی ہے کہ پاکستان کو ایک نارمل ریاست بننا چاہئے۔ اس پر اردو محاورے کے مطابق سراپا حیرت بن کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ تیری آواز مکے اور مدینے ۔
شاید مکے مدینے والوں میں وہ نظریاتی جوش وخروش یا عقیدگی غم وغصہ نہیں ہے جس قدر “یہ کافر ہندی ہے بے تیغ و سناں خونریز‘‘۔ دنیا حیران و پریشان ہے کہ جس ریگستانِ عرب سے یہ دبستان پھوٹا تھا وہاں اس کی آبیاری و ژالہ باری ایسی نہیں ہو رہی جیسی اس ملک پاکستان میں کئی دہائیوں سے جاری وساری ہے۔ دنیا ہم سے اور ہم دنیا سے خوفزدہ ہیں، جسے شک ہے وہ یورپی یونین کی تازہ قرارداد ملاحظہ فرما لے جو اتنی بھاری اکثریت سے منظور ہوئی ہے کہ اسے یورپی یونین کی تقریباً متفقہ قرارداد کہا جا سکتا ہے۔
اپنی ہمسائیگی میں “شہ رگ”کے غیر حقیقی نعروں سے ہم نے اتنے طویل دورانیے کا جو سطحی موقف اپنا رکھا ہے اور قوم کو یوں ٹرک کی جس بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے اس پر اور تو اور ہمارے قلبی قریب ترین مکے اور مدینے والے بھی ہمارا ساتھ دینے یا رسماً ساتھ کھڑے ہونے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ شکر ہے اتنی جگ ہنسائی دیکھنے کے بعد ہمارے ذہن میں یہ خیال آ ہی گیا ہے کہ اس بدنصیب ملک کو بھی ایک نارمل ریاست بننا چاہئے۔ ورنہ اپنی حالت تو اس انوکھے لاڈلے جیسی رہی ہے جو کھیلن کو مانگے چاند۔ اِس خواہش یا تمنا کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے لیکن فوری سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نیک آرزو کے تقاضے کیا ہیں؟
اصلی اور سیدھا فوری تقاضا ہے کہ پاکستان کو کسی مذہبی یا نظریاتی حوالے کی بجاۓ حقیقی معنوں میں ایک سیکولر سٹیٹ ہونا چاہیے۔ اگر سیکولرزم کو لادینیت کے معنوں میں نہ لیا جاۓ۔ اسی سے رواداری و برداشت کے اوصاف ہماری قوم میں آ سکتے ہیں، یہ ایک طویل بحث ہے کہ ہمیں بالآخر سیکولرزم کے دامن رحمت میں ہی کیونکر پناہ لینی پڑے گی۔ فی الحال تین تقاضوں پر اکتفا کرتے ہوئے انہی تک محدود رہتے ہیں۔
درویش کی نظروں میں اس مملکت اللہ داد کو نارمل بنانے کا اولین تقاضا آزادیٔ اظہار پر عائد مختلف النوع قدغنوں کا خاتمہ ہے۔ بالعموم سمجھا یہ جاتا ہے کہ یہاں حریتِ فکر اور آزادیٔ اظہار جیسے انتہائی بنیادی انسانی حق پر ساری قدغن یا بندش ’’بڑی سرکار‘‘ کی لگائی ہوئی ہے۔ اس امر میں کچھ کلام نہیں کہ اس ’’قلعہ بالاحصار ‘‘ کی تمام رکاوٹیں اوپر سے ہی نازل ہوئی ہیں۔ نیچے جتنی بھی “مادی و روحانی سرکاریں” ہیں وہ سب بڑی کی مرہون منت، خوشہ چیں دست نگر یا منظور نظر ہیں۔ لیکن مبنی بر حقائق تجزیہ کرتے ہوئے ہمیں یہ سچائی نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ کسی بھی سماج میں جب جبر کی کوئی بڑی قوت براجماں ہو جاتی ہے تو پھر اسی نظریۂ جبر پر ایمان رکھنے والی چھوٹی چھوٹی پاکٹس یا تنظیمیں بھی مافیا کی صورت گلی محلوں میں قابض گروپس کی صورت نمودار ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
پھر اسی ذہنیت کے جو شرفاء ہوتے ہیں وہ بھی اپنے پر پرزے نکال لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی بھی اخبار یا میگزین کے دفتر میں ایڈیٹر کے نیچے بیٹھا منشی جو خود کو پی ایچ ڈی خیال کرتا ہے جب اپنی ذہنی استعداد کی مطابقت میں بے ضرر لیکن موثر لائنیں کاٹ رہا ہوتا ہے تو لازم نہیں کہ وہ کسی عسکری یا جہادی سالار کی خوشنودی یا خوف کی وجہ سے ایسے کر رہا ہو۔ وہ اپنے تئیں یہ سمجھتا ہے کہ مالکان کے حکم کی مطابقت میں یہ لازم ہے کہ کوئی بھی بات جو عام آدمی کی شعوری سطح سے بلند ہو اگر وہ چھپ گئی تو نہ جانے کون سا طوفان آ جائے گا۔ مضمون کا حلیہ بگڑتا ہے تو بگڑ جائے، لکھاری یا قلم کار کا ابلاغ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا اس کی بلا سے ۔
حریتِ فکر یا آزادیٔ اظہار کے حق میں تمام تر دلائل کے باوجود یہ امر اپنی جگہ مسلم ہے کہ خود لکھنے یا بولنے والے کے اپنے اندر ایک نوع کا سنسر شپ ہونا چاہئےکہ کون سی بات کب اور کن الفاظ میں کہنی ہے۔ کون سی تہذیبی اقدار یا قومی ترجیحات ہیں جنہیں پیش نظر رکھنا ہے۔ بات لکھنے یا بولنے سے پہلے اسے کس طرح تولنا ہے۔ لفظی تشدد نہیں کرنا، کبھی نہیں بھولنا کہ میری تقریر یا تحریر سے زیر آسماں کسی کا دل نہ دکھے۔ سچائی اور حقائق نگاری کے ساتھ ساتھ انسانیت کو توڑنا نہیں جوڑنا مقصود ہے۔کوئی بھی تہذیبی تقاضا نظرانداز نہیں ہونا چاہئے۔
پڑھنے اور سننے والوں میں بھی اتنا ظرف و حوصلہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنی روایتی سوچ کے پجاری بن کر نئے افکار و خیالات سے اپنے قلب و نظر کو جامد بنا کر نہ رکھیں۔ جس طرح آپ کو اپنا نظریہ رکھنے کا حق ہے اسی طرح دوسرے کا یہ حق بھی تسلیم کریں کہ وہ اپنی شعوری سطح کی مطابقت میں اپنی آراء پیش کرسکے۔
بڑی سرکار سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی سرکار دربار تک کوئی خود کو جابر بنانے یا دکھانے کی کوشش نہ کرے۔ اسی سوچ کے پنپنے سے آزادیٔ اظہار کی گنجائش نکلے گی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آزایٔ اظہاراور حریت فکر کے بغیر سوسائٹی میں تبدیلی آ سکتی ہے یا ہماری ریاست نارمل بن سکتی ہے تو ایں خیال است و محال است جنوں۔ ہمارے ہاں مغرب یا مغربی تہذیب کی بڑی مثالیں دی جاتی ہیں، طالبانی ذہنی سطح والے بھی دعویدار ہیں کہ ہم سے زیادہ مغرب کو کوئی نہیں جانتا لیکن وہ اتنی باریک حقیقت سمجھنے سے عاری ہیں کہ جدید مغرب کی تمام تر ترقی و سربلندی کا راز حریت فکر اور آزادی اظہار میں پنہاں ہے۔ اگر وہاں بھی معمولی باتوں پر آپ جیسی دل آزاریاں روا ہوتیں تو مغرب آج بھی آپ کی پست سطح پر ہوتا۔ ذرا سوچیے جب افکار تازہ کی سرایت نہیں ہو گی تو نئے علوم و فنون کے راستے کیسے وا ہوں گے؟ جب آپ مقدسات کی دیواریں اٹھاتے رہیں گے تو آپ کے رسل و فرائیڈ انہی سے سر ٹکراتے مر جائیں گے۔
پاکستان کو نارمل ریاست بنانے کا دوسرا فوری تقاضا ہے تعلیمی نصاب کی تطہیر، جس کا جو مضمون ہے وہ اس پر فوکس کرے ۔ آپ اردو زبان پڑھا رہے ہیں تو اردو زبان پڑھائیں اس میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر مذہبیت و اسلامیت ڈالنے یا اس کے تڑکے لگانے کا آخر کیا جواز بنتا ہے؟ کیا آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اردو محض ایک مذہب کے ماننے والوں کی ہی زبان ہے؟ زبانوں پر اس نوع کی اجارہ داری کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ عربی جو خالص قرآنی یا مسلمانی زبان ہے جس کے متعلق ایسا بہت سا تاکیدی مواد بھی مل جاتا ہے، جدید عرب ذہن اس سے بھی بغاوت کر چکا ہے ۔ذرا ڈاکٹر طۂ حسین جیسے جدید عرب مفکروں کو پڑھ کر دیکھیں۔ کس طرح انہوں نے اپنی زبان کو مختلف تہذیبی و سائنٹیفک علوم سے مالا مال کرنےکی کاوشیں کی ہیں۔ آج نہیں تو کل بالآخرآپ کواپنے دینی مدارس قومی دھارے میں لانا پڑیں گےمگر اس سے پہلے خود “قومی دھارے” کو سنوارنا ہو گا ایسی کوئی گنجائش نہیں ہو گی کہ پیریڈ تو فزکس یا پولیٹکل سائنس کا چل رہا ہے اور لیکچر اسلامیات پر جھاڑا جا رہا ہے۔ آپ اپنی قوم کو اور کتنی مذہبی بد ہضمی کروائیں گے ۔ پروفیسر پیٹر جیکب کا رونا بھی سنیں جو نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین کو بلا کر رو رہے تھے کہ ہمارے بچوں پر جبری نظریے کب تک مسلط رہیں گے۔ مسئلہ محض اقلیتوں کا نہیں ہے پاکستانی عوام کی اکثریتی اپروچ لبرل ہے۔ وہ خوش عقیدگی کی پھوک یا پھونک ضرور رکھتے ہیں جو محض آزایٔ فکر پر قدغنوں کے کارن بھری گئی ہے۔ آپ ذرا اس بندش کو ڈھیلا کریں ساری پھونک دنوں میں چلتی بنے گی۔ اس کی پہلی سیڑھی قوم کے نونہالوں کو جدید تقاضوں کی مطابقت میں دی گئی تعصبات سے پاک تعلیم ہے جس میں محض یک طرفہ پروپیگنڈے کی بجائے اعلیٰ تہذیبی و لسانی بنیادوں پر تمام علوم کی سٹڈی ہے۔ آپ بشمول اسلام مذاہب عالم کو پڑھائیں لیکن دوسروں کے متعلق منفی ذہنیت کا خاتمہ کرتے ہوئے پلیز۔
ملک کو نارمل بنیادوں پر آگے بڑھانے کا تیسرا تقاضا انڈیا دشمنی پر مبنی پروپیگنڈے کا فوری خاتمہ ہے انڈین عوام اور حکومتیں خوبیوں، خامیوں اور دیگر تمامتر حوالوں سے ہمارے عوام اور حکومتوں جیسے ہی ہیں البتہ کچھ حوالوں سے وہ بوجوہ ہم سے بہتر ہو چکے ہیں، ان کے خلاف منافرتیں پھیلانے کا سلسلہ اب اختتام پذیر ہو جانا چا ہئے۔ اگر نہیں کریں گے تو وقت اور حالات بالآخر آپ کو مجبور کر دیں گے کہ آپ نے اقوام عالم میں کوئی بہتر مقام حاصل کرنا ہے تو اس مصنوعی دشمنی و منافرت کے چکر سے باہر آ جائیں۔ جو کشمیر ان کا ہے وہ ان کا ہے اور جو ہمارا ہے وہ ہمارا ہے، باقی سب مفاداتی گورکھ دھندے ہیں۔ 370 انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے اب تو عالم بالا سے بھی اس نوع کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ نہیں آئیں تو کل کلاں چیخوں کی صورت میں آنے لگیں گی۔سیدھی سی بات ہے آپ نے اپنی خارجہ پالیسی کا محور اب تک جس طرح انڈیا دشمنی کو بنا رکھا ہے جب تک آپ اس کا کلی خاتمہ نہیں کرتے پاکستان نارمل ریاست بن کر ترقی کی منازل پر آگے نہیں بڑھ سکتا، یہ ٹرین جہاں پھنسی ہے وہیں پھنسی رہے گی۔ درویش کا یہ حق اظہارِ رائے کچلنے سے باز آ جائیں تاکہ وہ ان تمام تر حوالوں سے اصل حقائق استدلال کے ساتھ اپنی بات قوم کے سامنے پیش کر سکے۔