وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا بیان واپس لے لیا

  • منگل 11 / مئ / 2021
  • 4720

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بارے میں تبصرے کے دو روز بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے بارے میں کچھ بھی بھارت کا داخلی معاملہ نہیں ہوسکتا ہے۔

ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ 'میں یہ واضح کردوں کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔ اس تنازع کا حتمی تصفیہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کی قرارداد میں ہے جس میں اقوام متحدہ کے تعاون سے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران اپنے متنازع ریمارکس میں شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے انٹرویو کے ایک کلپ کے مطابق شاہ محمود قریشی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان کو بھارت کے آرٹیکل 370 کے فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کو بھارت کی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ بھارت میں ایک بہت بڑا طبقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ اقدام بھارت کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہؤا۔ وزیر خارجہ نے یہ بھی زور دیا کہ تمام معاملات صرف بات چیت کے ذریعے ہی طے پاسکتے ہیں کیونکہ جنگ خودکشی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال میں آرٹیکل 370 اہم نہیں ہے'۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کے لیے کیا ضروری ہے تو انہوں نے کہا آرٹیکل 35 اے، 1954 میں صدارتی حکم کے ذریعے آئین میں شامل آرٹیکل 35 اے کے تحت جموں وکشمیر کے قانون سازوں کو ریاست کے مستقل رہائشیوں، ان کے خصوصی حقوق اور مراعات کی وضاحت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

یہ ریمارکس ایسے موقع پر سامنے آئے تھے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک چینل رابطوں کا آغاز ہوچکا ہے جسے اپوزیشن نے پاکستان کے مستقل مؤقف کے برعکس قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ  وزیر خارجہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو کس طرح بھارت کا داخلی معاملہ قرار دے سکتے ہیں؟

پاکستان اسے تسلیم نہیں کرتا، کشمیر سے متعلق کوئی بھی معاملہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کا الحاق کرنے کی مودی کی کوشش پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق یہ ایک منقسم خطہ ہے۔ اس طرح کے الجھن کو پارلیمنٹ میں واضح کرنا ہوگا۔

پیپلز پارٹی کی لیڈر شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو ایک تبدیلی پر اعتراض ہے تو آپ کو دوسری پر بھی ہونا چاہیے، دونوں ہی حالات کشمیر اور پاکستان کے عوام کے لیے مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ امن کے لیے شرائط منصفانہ ہونی چاہئیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے وزیر خارجہ کو ان ریمارکس پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے آرٹیکل 370 کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دینا کیا تاریخی یوٹرن نہیں ہے؟ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ پاکستان کو بھارت کے آرٹیکل 370 کے فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، شاہ محمود کہتے ہیں یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔