آئی جی پنجاب سے ایک مکالمہ
- تحریر سلمان عابد
- منگل 11 / مئ / 2021
- 4400
پولیس میں اصلاحات ہمیشہ سے ایک اہم ایجنڈا رہا ہے۔ جو بھی حکومت ہوتی ہے وہ پولیس کے نظام میں اصلاجات پر زور تو بہت دیتی ہے مگر عملی طور پر اس نظام کی بہتری میں کوئی بڑی کارکردگی دکھانے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
یہ ہی وجہ ہے کہ پولیس کا مجموعی نظام عوامی وسیاسی توقعات کے برعکس ہی رہا ہے۔ پاکستان میں اگر ہم ادارہ جاتی سطح پر لوگوں میں موجود تصورات کو جاننے یا جانچنے کی کوشش کریں تو ہمیں سب سے زیادہ شکایات پولیس کے نظام میں ہی سننے کو ملتی ہیں۔پولیس کے نظام میں دو سطحوں پر مسائل ہیں۔ اول داخلی اور دوئم خارجی محاذ پر۔عمران خان کی حکومت جو اصلاحات کے ایک بڑے ایجنڈے کے ساتھ حکومت میں آئی تھی او راس میں پولیس کا شعبہ سرفہرست تھا۔ عمران خان حکومت میں آنے سے قبل بھی پولیس ریفارمز او ربالخصوص اپنی صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ میں اپنی پولیس کی کار کردگی کو مثال بنا کر پیش کرتے تھے۔
ہم جب پولیس کے نظام کا جائز ہ لیتے ہیں تو اس میں سب سے زیادہ زیر بحث نکتہ اس نظام میں سیاسی مداخلتوں، سازگار ماحول کا نہ ہونا، پولیس تشدد، جرائم پیشہ افراد او رپولیس کے درمیان گٹھ جوڑ، جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی پر دی جاتی ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں جہاں مسائل نہ ہوں۔ مسائل کا ہونا ایک فطری امر ہوتا ہے۔ اہم بات ادارہ جاتی سطح پر مسائل کی سمجھ بوجھ، ادراک اور اسے حل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ کیونکہ جب تک ہم مسائل کو مسئلہ نہیں سمجھیں گے اصلاحات کا عمل پس پشت ہی رہتا ہے۔دنیا میں آج کل پولیس کے نظام کو موثر او راس نظام میں شفافیت کو پیدا کرنے کے لیے نئے نئے جدید طریقے اختیار کیے جارہے ہیں۔ ان میں کمیونٹی پولیس، ٹیکنالوجی کا استعمال، شہریوں او رپولیس کے نظام میں اعتماد کی بحالی کے لیے نئے طو رطریقے، مقدمہ کی تفتیش کے لیے جدید طریقہ کار، اسی طرح بے جا پولیس تشدد کی بجائے نفسیاتی طور پر ملزموں سے تفتیش کا نظام شامل ہے۔
پچھلے دنوں آئی جی پنجاب انعام غنی سے ایک فکری نشست کا موقع ملا۔ اس نشست میں دیگر صحافیوں میں منصور اعظم قاضی، شہزادہ عرفان، احسن ضیا، اسداللہ خان، دردانہ نجم، عمار چوہدری شامل تھے۔ آئی جی پنجاب انعام غنی ایک پروفیشنل پولیس افسر ہیں اور پچھلے سات ماہ سے پنجاب پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔وہ تسلیم کرتے ہیں کہ معاشرے میں پولیس او راس کے نظام کے بارے میں مجموعی طور پر اچھے تصورات موجود نہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سب سے مشکل کام بھی ہے اور چیلنج بھی رکھتا ہے۔ کیونکہ روزمرہ کے معاملات میں عام آدمی کا پولیس کے نظام سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس تعلق میں ہر فرد کی توقعات پر پورا اترانا او رجب آپ پر چاروں طرف سے تنقید بھی ہورہی ہو تو اس نظام کی ساکھ کو قائم کرنا مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔آئی جی پنجاب کے بقول ہم محض میڈیا میں اپنی تشہیر کرکے ساکھ قائم نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ہماری ساکھ براہ راست ہماری کارکردگی سے جڑی ہوتی ہے او راس کارکردگی یا عوامی توقعات پر پورا اتر کی ہی ہم اپنی ساکھ قائم کرسکتے ہیں۔
وہ تسلیم کرتے ہیں کہ پولیس کے نظا م میں خرابیاں ہیں اور ان کو دور کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔لیکن اسی پولیس کے نظام میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو عوام کی جان و مال کے تحفظ کی جنگ لڑتے ہیں اور اس میدان میں شہادت کا رتبہ بھی پاتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے لوگ پولیس کے نظام کی خرابیوں کو تو خوب اجاگر کرتے ہیں لیکن اسی نظام میں جو لوگ بہتر کارکردگی کے ساتھ پولیس شعبہ کو جو عزت واحترام دیتے ہیں یا اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے ہیں ان کی پزیرائی کرنے میں ہم کنجوسی کاپن مظاہرہ کرتے ہیں۔پولیس کے نظام پر ضرور تنقید ہونی چاہیے لیکن جب یہ ہی نظام میں موجود کوئی بھی فرد یا ادارہ اچھا کام کرے تو اس کی پزیرائی ضرور ہونی چاہیے۔کیونکہ پولیس کے لوگوں میں یہ گلہ پایا جاتا ہے کہ پورے پولیس نظا م کو ایک ہی انداز میں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے پولیس میں اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
آئی جی پنجاب انعام غنی نے بتایا کہ اس وقت ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم پولیس اور عوا م میں جو فاصلے ہر سطح پر کم کئے جائیں۔ پولیس اور شہریوں کے درمیان باہمی رابطوں کو موثر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے اور ایسی ایپس متعارف کروائی جائیں جو لوگوں کی پولیس نظام میں رسائی کے عمل کو زیادہ سے زیادہ آسان اور قابل قبول بنائے۔ آ پ اب اگر پولیس اسٹیشن کا دورہ کریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ہم ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس میں تواتر کے ساتھ نئی نئی اصلاحات متعارف کروائی جارہی ہیں۔ اب پوری دنیا میں پولیس کے نظام میں جو بڑی مثبت تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں ان میں ٹیکنالوجی کا بڑا حصہ ہے ہمیں پورے پولیس کے مجموعی نظام کو آئی ٹی سے جوڑنا ہوگا او راس کے لیے پولیس کو بھی جدید ٹیکنالوجی کی طرف لانا ہوگا۔
آئی جی پنجاب انعام غنی نے پچھلے دنوں ایک بڑ ے قدم کے طور پرایسے افسران کو جن کے خلاف کسی بھی قسم کے کریمنل مقدمات ہیں ان کو کسی تھانے کا ایس ایچ او نہ لگایا جائے کا قدم اٹھایا۔ یہ واقعی ایک بڑی پیش رفت ہے ان کے بقول اس پر ان کو اپنے داخلی نظام میں کافی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔اسے آپ پولیس کے داخلی احتسابی نظام کی طرف ایک بڑا قدم کہہ سکتے ہیں اور یہ محض ایس ایچ او ز تک ہی محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ دیگر افسران تک بھی اس کا اطلاق بڑھنا چاہیے۔پولیس کے نظام کی نچلی سطح پر شفافیت کے سوال پرپولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے او رہمارا نظام نچلی سطح تک یعنی گاؤں او رمحلہ کی سطح پر موجود ہے۔ لیکن اس کے لیے ہمیں بہت زیادہ وسائل، جدید تربیت سے جڑے معاملات، پولیس کی نگرانی کا شفافیت پر مبنی نظام درکار ہے۔کیونکہ محض لاہور سے بیٹھ کر پورے صوبہ کی نگرانی ایک چیلنج ہے۔ لیکن اب جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تھانوں کی سطح پر اس سے یقینی طو رپر لوگوں کا پولیس پر اعتماد بڑھ رہا ہے لیکن یہ ایک مشکل کام ہے جسے ہم نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے۔
تحریک لبیک کے حالیہ اجتجاج میں پولیس نے بہت زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا او رلوگوں کو اس بات کا انداز ہ ہے کہ ہم نے اس انداز میں اپنی حکمت عملی ترتیب دی جس سے لاہو رکے نظام کو مکمل طو رپر مفلوج کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر بلاوجہ ہراس کی کیفیت پیدا کی گئی مگر عملی طور پر پولیس کی مجموعی کارکردگی اس بحران سے نمٹنے میں کامیاب رہی او رہم نے کسی بھی سطح پر ریاست کی رٹ کو چیلنج نہیں ہونے دیا۔ آئی جی پنجاب نے اعتراف کیا کہ پولیس میں جو نئی بھرتیاں اور نئے افسران آرہے ہیں وہ بہت زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں او رکچھ کرنے کا جذبہ بھی ان میں موجود ہے۔ اس لیے آپ اگلے چند برسوں میں دیکھیں گے کے پولیس کے نظام میں آپ کو او رزیادہ مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کو واقعی عملی طو رپر محسوس ہوکہ آنے والے دنوں میں پولیس افسران اور ادارہ بھی لوگوں میں دی جانی والی سہولیات کے تناظر میں خود کو مثالی ادار ہ کے طور پر پیش کرسکے۔پولیس کا کام پالیسی بنانا نہیں بلکہ ان پالیسیوں پر عمل درآمد کے نظام کو شفاف بنانا ہے۔ اگر ہم بطور پولیس ادارہ اس شفافیت کو قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو اس سے پولیس اور شہریوں کے درمیان نئے تعلقات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔