بھارت میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے بڑھ گئی
- بدھ 12 / مئ / 2021
- 5080
بھارت میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹے اب تک کے سب سے ہلاکت خیز ثابت ہوئے ہیں۔
بھارت میں وبا کی دوسری لہر فروری میں شروع ہوئی تھی جس کی وجہ سے ہسپتالوں، طبی عملے کے ساتھ ساتھ شمشان گھاٹوں پر حد سے زیادہ دباؤ ڈالا۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ماہرین اب تک یقینی طور پر یہ کہنے سے قاصر ہیں کہ دوسری لہر میں کیسز کا عروج کب آئے گا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مرنے والوں کی تعداد میں 4 ہزار 205 اور کیسز کی تعداد میں 3 لاکھ 48 ہزار 421 کا اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 2 کروڑ 30 لاکھ اور اموات کی تعداد 2 لاکھ 54 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کیسز اور اموات کی اصل تعداد رپورٹ ہونے والی تعداد سے 5 سے 10 گنا زائد ہے۔
شہر کے پارکنگ مقامات میں بھی آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دریائے گنگا میں بھی متعدد لاشیں پائی گئیں جنہیں ان گاؤں والوں کے رشتہ اداروں نے بہایا جنہیں چتا جلانے کے لیے لکڑیاں نہ مل سکیں۔
بستروں، ادویات اور طبی آکسیجن کی قلت کا شکار ہسپتال متاثرہ افراد کو واپس بھیجنے پر مجبور ہیں جبکہ مرنے والے عزیزوں کا علاج کرنے کے لیے کسی کو ڈھونڈنے والے مایوس رشتے داروں کی کہانیاں معمول بن گئی ہیں۔
ماہر وبائیات شاہد جمیل کا کہنا تھا کہ حالانکہ کیسز میں اضافے کی رفتار کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور نئے کیسز آہستہ آہستہ کم ہورہے ہیں، لگتا ہے ہم یومیہ 4 لاکھ کیسز کی ہموار سطح پر آجائیں گے اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم وبا کے عروج تک پہنچ چکے ہیں۔
ایک ارب 40 کروڑ نفوس کی آبادی والے ملک بھارت میں ایک ہفتے کے دوران دنیا میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی نصف جبکہ اموات کی 30 فیصد تعداد سامنے آئی۔ بڑے شہروں میں وبا کا پھیلاؤ گزشتہ ماہ کی تیزی کے بعد سست ہؤا ہے لیکن دیہی علاقوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
رواں ہفتے نصف کیسز مغربی ریاست مہاراشٹرا کے دیہی علاقوں رپورٹ ہوئے جو اس سے قبل ایک تہائی تھے جبکہ اتر پردیش کے زیادہ تر دیہی اور گنجان آبادی والے علاقوں میں یہ شرح 2 تہائی ہے۔ ٹیلی ویژن پر چلنے والی فوٹیجز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ ہسپتالوں میں اپنے پیاروں کی میتوں پر رو رہے ہیں۔ کچھ لوگ ہسپتالوں میں بیٹھے ہیں۔