غزہ پر اسرائیلی بمباری سے 14 بچوں سمیت 48 فلسطینی جاں بحق
- بدھ 12 / مئ / 2021
- 6100
غزہ میں گزشتہ شب سے اسرائیلی فورسز کی بھاری بمباری کا سلسلہ جاری ہے اس دوران اسرائیلی فضائیہ نے محصور علاقوں کے مختلف مقامات پر شدید حملے کیے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فضائی کارروائیوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 48 ہوگئی ہے جن میں 14 بچے شامل ہیں۔ حملوں میں 300 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
دوسری جانب حماس کی طرف سے پھینکےگئے راکٹوں کی وجہ سے 6 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ غزہ سے تقریباً1500 راکٹ فائر کیے گئے اور اسرائیل میں مختلف مقامات نشانہ بنایا گیا۔ 'الجزیرہ' نے غزہ کے صحت حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ پیر کی رات سے اسرائیل کے فضائی حملوں کے نتیجے میں اب تک 13 بچوں سمیت 43 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ تقریباً 300 زخمی ہیں۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے فلسطینی عسکری گروہ سے تعلق رکھنے والے مختلف مقامات کے علاہ سیکیورٹی اور پولیس کی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ ایک فلسطینی شخص اپنے 5 سالہ بیٹے حاملہ بیوی سمیت گھر پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوگیا۔
حماس کی وزارت داخلہ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ساحلی پٹی پر واقع پولیس کی تمام عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ حماس نے غزہ کے مضافات میں ایک اسرائیلی فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں ایک فوجی ہلاک ہوگیا جبکہ اس سے قبل اس حملے میں 3 فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع تھی۔
رائٹرز کے مطابق جھڑپوں کے نتیجے میں 5 اسرائیلی شہریوں کے ہلاک جبکہ 10 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ غزہ میں ایک 13 منزلہ رہائشی عمارت میں حماس کا سویلین دفتر تھا جو اسرائیل کے درجنوں فضائی حملوں میں سے ایک حملے کے بعد زمین بوس ہوگئی جبکہ اسرائیل میں غزہ سے 70 کلومیٹر دور تک سائرن اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں فضائی حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد میں سے 16 عسکریت پسند شامل ہیں۔ شہریوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکام نے غزہ میں حماس اور عسکریت پسندوں کے خلاف فضائی حملوں کی تعداد اور طاقت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب مصر کے حکام نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے لیے بات چیت کی کوشش کر رہے ہیں لیکن تشدد کی رفتار زور پکڑ رہی ہے۔ شہریوں کی ہلاکت سے پہلے ہی اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کی سرحد پر مزید دستے بھجوا رہی ہے۔ وزیر دفاع نے 5 ہزار ریزور فوجیوں کو متحرک کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
راکٹس اور فضائی حملوں کا یہ سلسلہ مسجد الاقصیٰ کمپاؤنڈ میں اسرائیلی فورسز کے دھاوا بولنے کے باعث پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد شروع ہوا۔ کشیدگی میں اضافے کے بعد اسرائیل میں رہائش پذیر ہزاروں عرب برادریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور غزہ میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر کیے جانے والے حملوں کی مذمت کی۔ یہ برسوں میں فلسطینی شہریوں کی جانب سے اسرائیل میں کیے گئے بڑے مظاہروں میں سے ایک تھا۔
خیال رہے کہ سال 2007 میں غزہ کا کنٹرول حماس کے پاس آجانے کے بعد سے اب تک حماس اور اسرائیل تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ تاہم جھڑپیں قطر، مصر اور دیگر ممالک کی ثالثی سے چند روز کے بعد ختم ہوجاتی تھیں۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ 7 سے 10 مئی تک مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز ایک ہزار فلسطینیوں کو زخمی کرچکی ہیں۔ ایک بیان میں ادارے کا کہنا تھا کہ ان میں سے 735 افراد ربر کی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 657 فلسطینیوں کو زیادہ تر جسم کے بالائی حصوں پر زخم آئے جبکہ ایک فلسطینی شہری آنکھ سے محروم ہوگیا۔
اقوامِ متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر برائے مشرق وسطیٰ امن عمل ٹور وینزلینڈ نے کہا کہ 'فائرنگ کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے'۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک مکمل جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں، تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں جنگ تباہ کن ہوگی جو عوام ادا کریں گے۔ اقوامِ متحدہ تمام فریقین کے ساتھ مل کر امن کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے۔