ای ووٹنگ پر الیکشن کمیشن کے بھی تحفظات؟
- تحریر مظہر چوہدری
- بدھ 12 / مئ / 2021
- 6710
خبریں ہیں کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے متعلق صدارتی آرڈیننس پر الیکشن کمیشن نے عید کے بعد اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کو اعتماد میں لیے بغیرصدارتی آرڈیننس جاری کیا ہے۔
انٹر نیٹ ووٹنگ اور الیکٹرانگ ووٹنگ مشینوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے تحٖفظات برقرار ہیں اور انہیں دور نہیں کیا گیا۔الیکشن کمیشن عید کے بعد ہونے والے اجلاس میں سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کا حق دینے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے متعلق جاری ہونے والے آرڈیننس کا جائزہ لے کر وفاقی حکومت کو ایک بار پھر اپنے تحفظات سے آگاہ کرے گا۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 10روز قبل بھی الیکٹرانک ووٹنگ نظام سے متعلق حکومت کو تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی استعداد پر سوالات اٹھائے تھے۔الیکشن کمیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر بریفنگ کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ الیکٹرانک بائیو میٹرک ووٹنگ مشین اور انٹرنیٹ ووٹنگ آر ٹی ایس کی طرح کام کرنا چھوڑ گئی تومتبادل کیا ہوگا۔ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ آئر لینڈ، ہالینڈ، جرمنی، فن لینڈ اور دیگر ممالک الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ناکام تجربے کے باعث دوبارہ بیلٹ پیپرز پر آگئے ہیں اور ماضی میں لاہور کے ایک حلقے کے ضمنی انتخاب کے دوران الیکٹرانک اور بائیو میٹرک ووٹنگ مشینوں کا تجربہ کامیاب نہیں رہا تھا۔
الیکشن کمیشن نے ای ووٹنگ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے متعلق اپنے خدشات حکومت کے سامنے رکھتے ہوئے آزاد کشمیر انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تجرباتی استعمال کی تجویز بھی دی تھی۔وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری کے مطابق آرڈیننس لانے کا مقصد الیکشن کمیشن کو ای وی ایم کے استعمال کے انتظامات کرنے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آئندہ انتخابات میں بطور ووٹرز بنانے کے لئے خاطر خواہ وقت فراہم کرنا ہے جب کہ الیکشن کمیشن کے ایک عہدے دار کے مطابق حکومت نے جلد بازی میں آرڈیننس جاری کیا ہے اور اس ضمن میں حکومت اور نہ ہی الیکشن کمیشن کے پاس کوئی حل دستیاب ہے۔ اس وقت ایسٹونیا کے سوا پوری دنیا میں کہیں بھی انٹرنیٹ ووٹنگ کا استعمال نہیں ہوا جہاں مجموعی نو لاکھ میں سے صرف ایک لاکھ 75ہزار ای ووٹنگ کا انتخاب کرتے ہیں۔اس کے مقابلے میں دنیابھر میں قومی شناختی کارڈ کے حامل اوور سیز پاکستانیوں کی تعدادنوے لاکھ ہے۔ واضح رہے کہ ای سی پی نے 2015میں چار ممالک (سعودی عرب، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور امریکہ)میں تجرباتی طور پر الیکٹرانک ووٹنگ کی تھی لیکن یہ مشق متعدد تکینکی اور قانونی وجوہات کی بنا پر ناکام ہو گئی تھی۔
ای ووٹنگ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر اپوزیشن جماعتوں کو بھی شدید تحفظات ہیں۔حکومت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کو انتخابی اصلاحات کی پیش کش اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ن لیگ نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ جہاں ایک حکم پر آر ٹی ایس بیٹھ جاتا ہے، وہاں الیکٹرانک مشین بے چاری کیا کرے گی۔ن لیگ کی ترجمان کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا تجربہ پوری دنیا میں ناکام ہو چکا ہے اور الیکشن کمیشن کی کرائی گئی اسٹڈی بھی پاکستان کے لیے اس نظام کو ناقابل عمل قرار دیتی ہے۔ن لیگ کے برعکس پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے حکومت کی پیش کش کو مشروط طور پر منظور کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی روکنے کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ اسٹبلشمنٹ کا رول ختم کرنا ہوگا،اگر اسٹبلشمنٹ کا رول ختم ہوجائے تو پھر انتخابی اصلاحات کے لیے تیار ہیں اور اسی صورت انتخابی اصلاحات کا فائدہ ہوگا۔
دوسری طرف حکومت اپوزیشن جماعتوں کے تعاون نہ کرنے کی صورت میں انتخابی اصلاحات کے بل کو ایک ترمیمی بل کی شکل میں پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے لیے یہ سوچتے ہوئے پرامید ہے کہ بل کی منظوری کے لیے اس کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے۔آئندہ انتخابات میں ای ووٹنگ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کے بارے میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کا ایک پیج پر نہ ہونا المیے سے کم نہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے نام پر ہونے والی انتخابی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہوتیں لیکن حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں اعتماد کے فقدان کے باعث یہ اہم ترین پیش رفت بھی متنازعہ ہو گئی ہے۔اس موضوع پر اب تک سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث سے دو قسم کے موقف سامنے آئے ہیں۔ایک حلقے کے مطابق ملک کے انتخابی نظام کا اصل مسئلہ غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت ہے اور جب تک اس مداخلت کی روک تھام کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے، یہاں کوئی بھی نظام انتخابات کوشفاف بنانے کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا۔دوسرے حلقے کا خیال ہے کہ اپوزیشن سمیت حکومت کی صفوں میں شامل روایتی سیاستدان الیکشن میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حق میں اس لیے نہیں کہ بیلٹ پیپرز کا روایتی نظام ان کی ہیرا پھیریوں کو زیادہ سوٹ کرتا ہے۔
تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہمارے انتخابی نظام میں نہ صرف مقتدر حلقوں کی مداخلت ہوتی آئی ہے بل کہ ہر جماعت کسی نہ کسی حد تک منظم وغیر منظم دھاندلی میں ملوث رہی ہے۔۔ای ووٹنگ اور الیکٹرانک ووٹنگ نظام پر الیکشن کمیشن اوراپوزیشن جماعتوں کے تحفظات و مطالبات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن اپوزیشن جماعتوں کو اس اہم پیش رفت پر مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی پر عمل پیرا رہنے کی بجائے مجوزہ نئے نظام کو بہتر سے بہتر شکل میں فائنل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔حکومت کو بھی اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ اپوزیشن کی حمایت کے بغیر یہ اہم پیش رفت اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ حکومت کے کرنے کے کام یہ ہونے چاہئیں کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر اسمبلی میں کھل کر بحث کرانے کا ماحول بنانے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں اور الیکشن کمیشن کو ای ووٹنگ اور الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پر جامع بریفنگ کا اہتمام کرے۔
آنے والا دور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا دور ہے۔ہمارے ہاں مینوئل ووٹنگ سسٹم کئی طرح کی خرابیوں و بے ضابطگیوں کی وجہ سے بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔مینوئل ووٹنگ سسٹم کی خرابیوں کو سامنے رکھتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ کے تجربے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کو اپنا چکے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے چند ایک ممالک میں یہ نظام کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر ناکام بھی ہوا ہے تاہم ہم ان کی ناکامیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ہاں اختیار کیے جانے والے بائیومیٹرک نظام کو زیادہ سے زیادہ محفوظ اور شفاف بنا نے کی کوشش کر سکتے ہیں۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم میں ہیکنک کے خدشے کے پیش نظر انتخابی نتائج میں غیر ملکی مداخلت کے دروازے کھلنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا تاہم خصوصی طور پر تیار کردہ سافٹ وئیر کے استعمال سے ہیکنک سمیت سیکورٹی خدشات کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔