معروف ٹی وی کردار انکل سرگم کے خالق فاروق قیصر چل بسے
- تحریر بی بی سی اردو
- ہفتہ 15 / مئ / 2021
- 9790
پاکستان میں 1970 سے 1990 کی دہائیوں میں انکل سرگم کا شہرہ تھا۔ جنہیں ٹی وی پر دیکھنے کے لیے بچے بے تاب رہتے تھے۔ اس پتلی تماشے کے خالق اور اس میں انکل سرگم کو آواز دینے والے فاروق قیصر جمعے کے دن انتقال کر گئے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق فاروق قیصر 31 اکتوبر 1945 کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ اُنہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) سے تعلیم حاصل کی اور پھر کئی جامعات میں پتلی کے آرٹ فارم کے بارے میں پڑھایا۔ اُنہیں بچوں کے ٹی وی شو کلیاں میں 1976 میں انکل سرگم کو متعارف کروانے کے لیے جانا جاتا ہے۔
انکل سرگم کے علاوہ اُن کے مشہور پتلی کرداروں میں ماسی مصیبتے، ہیگا، شرمیلی، رولا، اور نونی پا شامل ہیں۔ پی ٹی وی کے ساتھ اُنہوں نے مزید پروگرام کیے مگر سب سے مشہور پروگرام کلیاں ہی رہا۔ تمام کرداروں کی ڈیزائننگ اُنہوں نے خود ہی کی تھی اور انکل سرگم کا وائس اوور بھی وہ خود کرتے تھے۔
وہ کارٹونسٹ بھی تھے اور زندگی کے آخری دنوں تک مختلف اخبارات کے لیے کارٹونز بھی بناتے رہے۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے کالم نگاری اور مکالمہ نگاری بھی کی اور دستاویزی فلمیں بھی بنائیں۔
اُنہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے اُن کی خدمات کے اعتراف میں تیسرے اعلیٰ ترین سول اعزاز ستارہِ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا جا چکا ہے۔ اینٹرٹینمنٹ صحافی اور مصنف خرم سہیل کے مطابق کلیاں پی ٹی وی کا وہ پہلا پروگرام تھا جس میں پتلی تماشہ شروع ہوا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ٹی وی کے میڈیم میں یہ کام فاروق قیصر نے شروع کیا۔ اُنہیں معروف شاعر فیض احمد فیض کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی نے متعارف کروایا تھا۔ خرم سہیل فاروق قیصر کا ایک انٹرویو بھی کر چکے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انٹرویو کے سلسلے میں وہ اسلام آباد میں فاروق قیصر کا گھر ڈھونڈ رہے تھے مگر اُنہیں گھر مل نہیں رہا تھا۔ چلتے چلتے وہ ایک پارک میں پہنچ گئے جو گلی کے پاس ہی تھا۔
پارک میں انکل سرگم اور ماسی مصیبتے کے دو دیو قامت مجسمے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ میں صحیح جگہ ہوں، پھر کسی سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ فاروق قیصر پاس میں ہی رہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُن دنوں فاروق قیصر کے گھر میں نئی نئی ڈکیتی ہوئی تھی۔ انٹرویو کے دوران اُنہوں نے محسوس نہیں ہونے دیا کہ اُنہیں اس بات پر غصہ ہے۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ کیا آپ کو غصہ نہیں آتا؟ اس بات پر فاروق قیصر نے کہا کہ ہم سارا غصہ لکھ کر نکال دیتے ہیں۔
اُن کی وفات پر سوشل میڈیا صارفین اُس دور اور اُس پروگرام کے بارے میں اپنی یادیں اور تاثرات کا تبادلہ کرتے نظر آئے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے ٹویٹ میں لکھا کہ اُنہیں فاروق قیصر کی وفات کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ صرف ایک فنکار نہیں تھے بلکہ سماجی مسائل اور ناانصافیوں کے خلاف مسلسل آگاہی پھیلاتے تھے۔