شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا، نظرثانی کی درخواست نہ دینے کا اعلان

  • ہفتہ 15 / مئ / 2021
  • 7260

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی منظوری دے دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے خلاف وزارت داخلہ کو نظر ثانی کی درخواست نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ اب نظر ثانی حکومت کو کرنی ہے اور عدالت اور سپریم کورٹ کو نوٹس لینا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت سمجھتی ہے کہ شہباز شریف اپنی مفاہمتی پالیسی کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے کر سکتے ہیں۔ لہذا ان کے تمام راستے روکے جا رہے ہیں۔ جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ شریف فیملی کے 5 افراد پہلے ہی مفرور ہیں۔ اس لئے کابینہ نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دی ہے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شہباز شریف کا کیس ای سی ایل میں ڈالا ہے، کیونکہ آرٹیکل 25 کے تحت اس کیس میں سوائے شہباز شریف کے باقی تمام 14 ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل تھے اور شریف فیملی کے 5 افراد مفرور ہیں۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کئے جانے کے خلاف وزارت داخلہ کو نظر ثانی درخواست نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی رہنما مریم اورنگزیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے کسی منصوبے میں کرپشن نہیں کی۔ عدالت نے شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی، لیکن انہیں ایئرپورٹ پر روکا گیا اور وجہ یہ بتائی کہ سسٹم اپ ڈیٹ نہیں ہوا۔ اس لئے جانے نہیں دیا جا سکتا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے یہ غیر قانونی سمری جاری کی گئی۔  عید کے دن توہین عدالت کی گئی اور یہ توہین عدالت عمران خان کے حکم پر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران شہباز شریف کے خوف میں مبتلا ہیں، چھٹی والے دن امیگریشن، ایف آئی اے، نیب کے دفاتر کھولے گئے۔ یہ معاملہ اب شہباز شریف یا مسلم لیگ (ن) کا نہیں بلکہ لاہور ہائی کورٹ اور حکومت پاکستان کا ہے۔

شہباز شریف کو لاہور ہائیکورٹ نے ایک مرتبہ علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی لیکن ان کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل ہونے کی وجہ سے انہیں روک دیا گیا تھا۔ ائیرپورٹ پر روکے جانے کے بعد نیب نے خط لکھ کر حکومت کو شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست کی تھی۔