غزہ پر ساتویں روز بھی اسرائیلی بمباری، جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد 153 ہوگئی

  • اتوار 16 / مئ / 2021
  • 5520

غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی بمباری کا سلسلہ ساتویں روز میں داخل ہوگیا اور اتوار کو کیے گئے فضائی حملوں میں مزید 15 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ مزید 2 رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔

خبررساں اداروں رائٹرز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز فضائی حملوں میں اسرائیلی فوج نے خان یونس کے مغربی غزہ سٹی کے علاقے خان یونس میں غزہ میں حماس کے سیاسی و عسکری ونگ کے سربراہ یحیٰ السنور کے گھر کو نشانہ بنایا۔ انہیں 2011 میں اسرئیل کی جیل سے رہائی ملی تھی۔ اسرائیلی میزائلوں نے پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کو بھی نشانہ بنایا جس میں 8 بچوں سمیت 10 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔

قبل ازیں ایک حملے میں ایک 12 منزلہ الجلا نامی رہائشی عمارت کو مسمار کردیا گیا تھا جہاں الجزیرہ، امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پرین (اے پی) سمیت میڈیا کے دیگر اداروں کے دفاتر موجود تھے۔ عمارت کے مالک کو پیشگی حملے کے اطلاع دینے کے بعد تباہ کیا گیا تھا۔ غزہ میں پیر کے روز سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 42 بچوں سمیت 153 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

دوسری جانب حماس کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں 2 بچوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ الجلا عمارت کی تباہی کے ردِ عمل میں حماس نے رات بھر میں اسرائیل میں 120 راکٹ داغے جس میں اکثر کو اسرائیلی دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کردیا جبکہ درجنوں غزہ میں ہی گرے۔

دوسری جانب مغربی کنارے میں بھی ہلاکت خیز جھڑپیں جاری ہیں جن میں اب تک اسرائیلی فوجیوں کے حملوں میں 12 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

اس دوران اسرائیلی وزیر اعظم بینجمنت نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ جب تک ضرورت ہے غزہ کی پٹی میں حملے جاری رہیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس عمارت میں متعدد میڈیا ہاؤسز تھے اسے حماس سمیت مختلف فلسطینی گروہ استعمال کررہے تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ پر کیے جانے والے حملوں میں بچوں اور شہریوں کی ہلاکت سے بچاؤ کے لیے احتیاط کررہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں اور حماس کے راکٹ کی وجہ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال 'وسیع پیمانے پر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے'۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر پرتشدد کارروائیوں کے بعد عالمی برداری کی جانب سے ان حملوں کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔