جرمِ ضعیفی کی سزا اور فلسطین
- تحریر خالد محمود رسول
- اتوار 16 / مئ / 2021
- 8750
ٹوِسٹ چاہے نیا ہے لیکن اصل کہانی تو وہی پرانی ہے۔ ایک صدی قبل شروع ہوئی کہانی جس نے 1967 کے بعد ایک نیا راستہ اختیار کر لیا۔ باہمی سلامتی اور سفارت کاری کی بجائے بزورزمین پر قبضے کا راستہ۔
مہم جوئی کا یہ راستہ اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کو مکمل یقین تھا اور ہے کہ امریکہ اسے دامے، درمے اور ملٹری سپورٹ دیتا رہے گا۔ معروف امریکی دانشور نوم چومسکی نے حالیہ تصادم میں اسرائیل کی جانب سے اندھی طاقت کے استعمال پر بے لاگ ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس مہم جوئی کا ایک ہی لانگ ٹرم ٹارگٹ ہے، کسی نہ کسی بہانے فلسطینیوں کو بے دخل کرنا اور ہزار سال سے زیادہ باہر رہنے والے یہودیوں کو اس سرزمین کا قانونی وارث بنا کر لا بسانا۔
رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے قبل ہی یروشلم اور بالخصوص مسجدِ اقصیٰ کے آس پاس حالات کشیدہ ہونے شروع ہو گئے تھے۔ گزشتہ ہفتے حالات اس وقت یکدم تصادم کی صورت اختیار کر گئے جب اسرائیل پولیس نے مسجد ِ اقصیٰ میں گھس پر بے رحمی سے فلسطینی نمازیوں پر تشدد کیا، ربڑ کی گولیاں اور ششدر کرنے والے گرینیڈ پھینکے۔ یروشلم سے اُٹھے اس تصادم نے سارے فلسطین کو مشتعل کردیا۔ اسی ردِ عمل میں حماس کی جانب سے راکٹ فائر کئے گئے۔ بینجمن نیتن یاہو کو تو جیسے بہانہ مل گیا، بقول اس کے ریڈلائن کراس ہو گئی ہے،۔ اس لئے اسرائیل کو اب ہر صورت پوری طاقت سے جواب دینا ہے۔ اسرائیلی طیاروں نے وحشیانہ بمباری کرکے غزہ کی شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جہاں بقول اس کے حماس کا گڑھ یا دفاتر تھے۔
اسرائیلی طیاروں کی وحشیانہ بمباری کے جواب میں حماس کی جانب سے راکٹوں کی بارش شروع ہو گئی جس کا بیشتر حصہ اینٹی راکٹ ڈیفنس سسٹم آئرن ڈوم نے روک لیا، مگر پھر بھی کئی راکٹ اسرائیل میں نشانوں پر گرے۔ اسرائیل کے آٹھ کے لگ بھگ شہری ہلا ک ہوئے جبکہ غزہ میں 140 سے زائد فلسطینی شہید اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ سینکڑوں مکانات اور پلازے زمیں بوس ہوئے، ہر طرف خون اور بارود انسانی سسکیوں اور آہوں کے ساتھ بکھرا ہوا ہے۔نقل مکانی اور پناہ ڈھونڈنے پر مجبوریاں الگ۔۔
اس کے باوجود بڑی ڈ ھٹائی سے امریکہ نے اسے اسرائیل کے دفاع کا حق قرار دیا اور ٌ فریقین ٌ کو تحمل کی تلقین کی۔ یورپی یونین نے بھی سفارتی انداز کے بنے بنائے گھڑے گھڑائے بیانات تاریخ بدل کر داغ دیے۔ سلامتی کونسل میں اس ننگی جارحیت کی مذمت کے لئے بلایا جانے والا اجلاس ملتوی کرنا پڑا کہ امریکہ قرارداد کے متن سے متفق نہ تھا۔ مسلمان ممالک کے ہاں سے بھی روایتی مذمتی بیانات کے کاغذی راکٹ چھوڑے گئے۔ صرف ترکی کے صدر طیب رجب اردوآن نے شدید تنقید کی اور فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے کا دم بھرا۔ سعودی عرب کی درخواست پر اس اتوار کو او آئی سی کا ایک آن لائن اجلاس ہوگا۔ اس میں بھی آن لائن مذمت، احتجاج اور مطالبات کئے جائیں گے۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔۔
دنیا اور اسلامی ممالک کے اس ردِ عمل کی موجودگی میں اسرائیل مزید شیر ہوگیا۔ زمینی فوج بھی حملے کے لئے جمع ہو رہی ہے۔ اسرائیل کی آبادی میں مقامی عرب آبادی کا تناسب 20% کے لگ بھگ ہے، تمام تر کشیدگی اور مسلسل تعصب کے باوجود بہت سے شہروں میں دونوں مذاہب کے لوگ گذشتہ بیس سال سے قدرے امن کے ساتھ رہ رہے تھے۔ مگر حالات کی تلخی اور کچھ مہینوں سے بڑھتے ہوئے خلفشار کا لاوا وہاں بھی یکدم پھوٹ پڑا۔ انتہا پسند یہودیوں نے کئی عرب مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور عرب باشندوں نے یہ سلوک یہودیوں کے ساتھ کیا۔ ویڈیو کلپس کے مناظر دل دہلا دینے والے ہیں۔ اسرائیل کے لئے اپنی ہی سرزمین پر سول وار کا یہ وار غیر متوقع تھا۔ اس پر مستزاد لبنان اور اردن کے ساتھ سرحد پر احتجاجی مظاہرین کی اسرائیل میں داخلے کی کوشش سے معاملہ مزید پھیلنے کا اندیشہ ہے۔
نیتن یاہو بارہ سال سے اقتدار میں ہے۔ گزشتہ دو سال میں چار انتخابات کے باوجود سیاسی عدم استحکام بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین کوشش میں نیتن یاہو دائیں بازو کی انتہائپسند جماعتوں کی حمایت کے باوجود حکومت بنانے میں ناکام رہا۔ صدر اسرائیل نے اپوزیشن لیڈریائر لیپڈ کو حکومت بنانے کی دعوت دی۔ اعتدال پسند، بائیں بازو اور پہلی بار مقامی عرب باشندوں کی مدد سے نئی حکومت بنانے کا کٹھن کام پر کام جاری تھا، اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاتی تو نیتن یاہو کے خلاف انکوائری تیزی سے اپنے منطقی انجام کی طرف جا سکتی تھی مگر اس دوران مسجد اقصیٰ میں تصادم اور بعد ازاں حماس سے بدلے کے نام پر نیتن یاہو نے اپنے لئے ایک اور موقع ڈھونڈ نکالا۔ اپوزیشن لیڈر کو عرب باشندوں کی حمایت حاصل کرنے اور حکومتی اتحادی بنانے پر پہلے ہی انتہا پسندوں نے دشنام طرازی کی حدکر دی تھی۔ حالات کی اس نئی کروٹ نے اس کوشش کو بھی روند ڈالا۔ نیتن یاہو کمال عیاری اور سفاکی سے ایک بار پھر اپنے اقتدار کے لئے موقع کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے۔
تصادم کا حالیہ سلسلہ الشیخ الجراح سے درجنوں فلسطینیوں کو ایک یکطرفہ قانون کی آڑ میں بے دخل کرنے کی مہم جوئی سے شروع ہوا۔ پچاس سالہ پرانے اسرائیل کے اس قانون کے مطابق کوئی بھی اسرائیلی یہودی اگر کسی بھی جائداد پر 1948 قبل اپنے قبضے یا ملکیت کا قانونی ثبوت دے سکے تو اس جائیداد سے فلسطینیوں کو بے دخل کیا جا سکتا ہے لیکن تعصب کی انتہا یہ ہے کہ فلسطینیوں کے لئے قانون میں یہ گنجائش نہیں۔ اس قانون کی آڑ میں مشرقی یروشلم میں درجنوں فلسطینی خاندانوں کو بظاہر ٌ قانونی ٌ طور پر بے دخل کرنے کی مہم جاری ہے۔ اس قانون کی چھتری میں سینکڑوں کیسز دائر ہو چکے ہیں جن میں سے ایک کا فیصلہ اس سوموار کو سپریم کورٹ نے سنانا تھا جسے حالات کی کشیدگی کی وجہ سے ملتوی کیا گیا۔
بقول نوم چومسکی ٹوسٹ چاہے نیا ہے مگر اصل کہانی تو وہی پرانی ہے، ایک صدی قبل شروع ہوئی کہانی۔ مگر اس دوران مسلم ممالک اور مسلم امہ کے جرم ضعیفی کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانے کے بعد اسرائیل کو مرگِ مفاجات بانٹنے سے بھلا کون روکے!