پاک سعودی تعلقات میں نئے امکانات

وزیر اعظم عمران خان اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ سعودی عرب او راس کا مشترکہ اعلامیہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں نئے سیاسی امکانات کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

کچھ عرصہ سے سیاسی پنڈتوں کے بقول پاکستان اور سعودی عرب تعلقات میں جو سرد مہری پائی جاتی تھی اس دورہ نے اس کی عملی طور پر نفی کردی ہے۔بداعتمادی کے ماحول میں اعتماد سازی اور مستقبل میں مزید تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش سمیت کئی اہم معاہدوں پر دستخط ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک ماضی سے نکل کر مستقبل کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں۔ سب سے اہم نقطہ دو طرفہ تعلقات میں 2030کے ویژن میں دونوں ملکوں کے درمیان جیو پولیٹکس سے جیو معیشت کی طرف پیش قدمی کرنا ہے۔ اس سے قبل جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اسلام آباد سیکورٹی کانفرنس میں یہ برملا کہہ چکے ہیں کہ اب ہماری قومی اور علاقائی ترجیحات کا اہم نقطہ قومی اور علاقائی معیشت کو بنیاد بنا کر معاشی ترقی کی طرف پیش رفت کرنا ہے۔ان کے بقول ہمیں ماضی کا ماتم کرنے یا ماضی میں رہنے کی بجائے مستقبل کو دیکھنا ہے جہاں معاشی ترقی کے بیانیہ کو ایک نئی طاقت فراہم کرنی ہے۔

سولہ نکاتی مشترکہ اعلامیہ پر نظر ڈالیں تو اس میں دو طرفہ سیاسی، دفاعی او رتجارتی تعلقات، علاقائی او رعالمی معاملات میں باہمی تعاون، خطہ میں امن اور سیکورٹی کے معاملات پر مشترکہ حکمت عملی،سعودی پاکستان سپریم کوارڈنیشن کونسل، دونوں ملکوں کے مشترکہ باہمی مفادات کے لیے مشترکہ بیانیہ، بجلی، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، زراعت سمیت دیگر شعبو ں میں تعاون کو پیدا کرنا،دو طرفہ فوجی اور سیکورٹی معاملات، مسلم دنیا میں انتہا پسندی سے نمٹنا اور عالمی دنیا کو اسلام فوبیا سے آگاہ کرنا،فلسطین، کشمیر، سیریا، لبیا، افغانستان سمیت یمن کے پرامن سیاسی حل پر زور، پاک بھارت میں کشیدگی کم کرنا، کلائمٹ چینج جیسے معاملات شامل ہیں۔سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس دورہ میں سعودی قیادت کی جانب سے جو گرم جوشی او رآگے بڑھ کر معاملات کو لیڈ کرنے کا عمل دیکھنے کو ملا وہ کافی امید کے پہلو وں کو نمایاں کرتا ہے۔یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ بعض وجوہات کی بنا پر جو وطرفہ سردمہری تھی وہ بھی ختم ہوگئی ہے۔

اسی طرح مشترکہ اعلامیہ میں سعودی عرب کی جانب سے کشمیر پر پاکستان کے موقف کی ازسرنو واضح حمایت او ر تنازع کشمیر سمیت پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام باہمی اختلافات کو پرامن مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔پچھلے برس پاکستان نے کوشش کی تھی کہ مودی سرکار کی غیر منصفانہ کاروائیوں پر سعودی عرب او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں حمایت کرے تو اس میں کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ اس دورے کے نتیجے میں سعودی عرب پاکستان کو سعودی ترقیاتی فنڈ سے پا نچ سو ملین ڈالر کی رقم فراہم کرے گا، جبکہ اگلے دس برس کے دوران سعودی عرب کو قومی تعمیر وترقی کے منصوبوں کے لیے ایک کروڑ نفوس پر مشتمل جو افرادی قوت درکار ہے اس کا زیادہ حصہ بھی پاکستان سے لیا جائے گا۔اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے افغان امن معاہدہ میں پاکستان کے کردار کو نہ صرف سراہا گیا ہے بلکہ پاکستان کی معاونت کے کردا رکو تسلیم بھی کیا گیا ہے۔

دونوں ملکوں نے اس پر اتفاق کیا کہ سیاسی تصفیہ کی مدد سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے اور افغان فریقین کو اس اہم امن معاہدہ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔پچھلے کچھ عرصے سے پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں پس پردہ جو کوششیں ہورہی ہیں اس کا ہر سطح پر اعتراف کیا جارہا ہے اور اس کے کچھ مثبت نتائج بھی نظر آرہے ہیں۔ ایسے میں سعودی عرب کی طرف بھی ایک مثبت کردار ادا کرنے کی خواہش دونوں ملکوں میں کشیدگی کم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔کیونکہ ایک طویل او رصبر آزما کشیدگی کے دور کے بعد اگر پاک بھارت میں جنگ بندی یا مکالمہ کی جانب پیش رفت کا امکان پیدا ہوا ہے تو اسے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے او راس میں یقینی طور پر سعودی عرب بھی کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ایک اچھی بات یہ ہے کہ خود سعودی عرب بھی تنازعات اور کشیدگی کے دور سے نکلنا چاہتا ہے۔سعودی ولی عہد نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں ایران کے ساتھ اچھے اور خاص تعلقات قائم کرنے کا عندیہ دے کراپنی پالیسی واضح کردی ہے۔اگر اس خطہ میں پاک بھارت تعلقات اور سعودی عرب او رایران تعلقات میں بہتری ہوجائے تو یہاں معاشی ترقی کے نئے امکانات کو پیدا کرنا اور ترقی کے نئے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان، سعودی عرب او رایران سمیت بھارت دو طرفہ معاملات کی طرف بڑھیں اور افغان امن معاہدہ بھی کسی مثبت منطقی انجام کی طرف بڑھے تو خطہ کی سیاست میں بہت نمایاں او رمثبت تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ لیکن اس کی اولین شرط یہ ہے کہ خطہ کے تمام ممالک تنازعات اور تناو کو کم کرکے آپس میں دو طرفہ تجارتی، سیاسی اور سماجی تعاون کے امکانات کو آگے بڑھائیں۔ پاکستان کی سیاسی اورفوجی قیادت پہلے ہی پاکستان اور خطہ کی سیاست کے تناظر میں اپنا سیاسی بیانیہ یعنی معیشت کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا اور معاشی مواقع کے حب کو پیدا کرنا پیش کرچکا ہے۔یہ جو سپریم کوارڈنیشن کونسل قائم کی گئی ہے اگر واقعی اس کو مضبوط بنیادوں پر چلایا گیا تو اس سے پاکستان اور سعودی عرب نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان بلکہ خطہ کی سیاست میں بھی ایک بڑا مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ہمارے مشکل دورمیں سعودی عرب نے ہماری ہمیشہ مدد کی ہے او راس کا اعتراف ہماری سیاسی اور عسکری قیادت بھی ہر سطح پر کرتی ہے۔بقول سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جو خود کو سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر کے طور پر پیش کرتے ہیں او ران کے اس وقت پاکستان کی سیاسی اورفوجی قیادت سے تعلقات بھی مثالی ہیں۔ اس کی ایک تازہ جھلک ہم اس دورہ میں سعودی قیادت کی ایک بڑ ی گرم جوشی پر مبنی استقبال کے طور پر دیکھ چکے ہیں۔سعودی قیادت کو بھی احساس ہوا ہے کہ پاکستان ہی اس کا بہترین دوست ہے جو کسی بھی مشکل وقت میں ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

بنیادی نکتہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد سازی او ربڑی سرمایہ کاری کا ہے۔ کیونکہ سعودی سرمایہ کاری میں اضافہ جہاں ہم پر بڑے اعتماد کا مظہر ہوگا وہیں ہماری معاشی ترقی کے امکانات کو بھی آگے بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔ایک اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت میں بھی سعودی تعلقا ت میں بہتری کے حوالے سے بڑا اتفا ق رائے موجود ہے۔ خود جنرل باجوہ کا وزیر اعظم کے دورے سے قبل سعودی عرب کا دورہ اور اہم معاملات میں گفتگو نے بھی دو طرفہ ماحول کو مثبت بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔اصل مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک سیاسی بیانیہ پر اتفاق بھی ہے، یعنی پاکستان او رسعودی عرب کو ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ گہرائی سے سمجھنا، معاملا ت کی سمجھ بوجھ کا فہم و فراست، مسائل کا ادراک اور جذباتیت کی بجائے عقلی بنیادوں پر دو طرفہ تعلقات میں تعاون کے امکان کو آگے بڑھانا ہی اصل چیلنج ہے۔ جو راستہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے ملتا ہے چاہے وہ زیادہ ہو یا کم اس سے دونوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے، ڈیڈ لاک پیدا کرنا یا بداعتمادی یا زبردستی کا ایجنڈا مسلط کرنے کی حکمت عملی موثر نہیں۔