میثاقِ یک جہتی

  • اتوار 16 / مئ / 2021
  • 5770

(17مئی کا ڈھولا)

ناروے زادو، شمالی سرزمیں کے باسیو!!

ہم مسافر پنجند کے، ہم وطن ہیں آپ کے

آؤ، مل جل کر بُنیں ہم

ارضِ نَو کے سُرخ خواب

عشق کی سیپی سے  چھلکے

من کے موتی کا شباب

ٹھٹھرے میدانوں سے گزرے

دل کا دریائے چناب

عصرِ نو کی پَو پھٹے

مغرب سے نکلے آفتاب

اِک قرینے سے اُٹھا دیں، کل کے چہرے سے نقاب

ایک ہو تعلیم سب کی

ایک ہی سب کا نصاب

متفق ہوں ایک نُکتے پر

یہ سب اہلِ کتاب

رنگ ہیں جتنے دھنک کے

سب بہم ہوں بالحساب

ناروے اے ناروے، اے امنِ عالم کے گلاب!!

عشق ہے مسلک ہمارا

عشق ہے دینِ مبین

اُمتِ ایجاب و دعوت

ناروے سے تا بہ چین

آدمیت کا نگر ہے،

یہ سمن زارِ تُراب

امنِ عالم میں نہاں ہے

 جنگ کا شافی جواب

ناروے اے ناروے،  اے امنِ عالم کے گلاب

محترم ہے یہ زمیں بھی

جتنا پاکستان ہے

ایک جیسے سب مدینے

حق کا یہ فرمان ہے

ناروے سے عشق بھی

مسعود کا ایمان ہے

اک محبت ہے فقط

دنیا کی نفرت کا جواب

ناروے اے ناروے، اے امنِ عالم کے گلاب!!