حکومت نے شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا
- سوموار 17 / مئ / 2021
- 3990
مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔
وفاقی حکومت نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس درخواست پر فیصلے تک لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا کہ شہباز شریف کا نام پروویژنل نیشنل آئڈینٹیفکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) میں تھا، لاہورہائیکورٹ نے نوٹس جاری کیے بغیر حتمی ریلیف فراہم کردیا۔
حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ نوٹس کے بغیر لاہور ہائیکورٹ کا بیرون ملک جانے کے لیے اجازت دینے کا جواز نہیں تھا پھر بھی شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی درخواست پر اسی روز فیصلہ سنا دیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے قانونی اصولوں کے برعکس فیصلہ سنایا اور اپیل کی کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کا حکم قانون کی نظر میں برقرار نہیں رکھا جا سکتا، ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام سے جواب مانگا نہ کوئی رپورٹ۔ بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا یک طرفہ فیصلہ نہیں دیا جا سکتا، شہباز شریف کے واپس آنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز شہباز شریف کو 8 مئی سے 3 جولائی تک کے لیے علاج کی غرض سے لندن جانے کی مشروط اجازت دی تھی۔ وہ اگلے روز براستہ دوحہ لندن جانے کے لیے قطر ایئرویز کی پرواز میں سوار ہونے کے لیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ تاہم ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن حکام نے انہیں بتایا کہ چونکہ ان کا نام پروویژنل نیشلن آئڈینٹیفکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) میں ہے اس لیے وہ پرواز پر سوار نہیں ہوسکتے۔
اس دوران حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا نام سفری پابندی کی فہرست ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرلیا ہے۔