زبانی جمع خرچ کا اِسلام
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 17 / مئ / 2021
- 12150
اِسلام کے سورج کو طلوع ہوئے چودہ قمری صدیاں بیت چکیں بلکہ چودہ سو پو تنتالیس برس اوپر ہو چکے لیکن وہ متقی معاشرہ جسے خلفائے راشدین نے منظم کیا تھا، میدانِ کربلا میں امویوں کے ہاتھوں تہ تیغ ہوگیا جس سے اسلامی خلافت کا عہد تمام ہوا اور اُس کی جگہ ملوکیت، پادشاہی، سلطانی ، قیصری اور جعلی جموریت نے اسلامی کہلوانے والے معاشروں کو اغوا کرلیا۔
ان بادشاہوں اور حکمرانوں نے اسلام کے نظامِ حکومت کی جو نئی نئی شکلیں متعارف کروائیں ، وہ خلفائے راشدین کے وضع کردہ اسلام سے واضح اور دانستہ گریز اور بلکہ اُس کی تردید کی بد ترین مثالیں تھیں۔ ان بادشاہوں نے اپنی اپنی سیاسی مصلحتوں کے مطابق اپنی اپنی طرز کے سیاسی اسلام کو متعارف کروایا ، خود کو ظِلِ الٰہی قرار دیا، کبھی دینِ الٰہی ایجاد کیا اور اس طرح اپنی حکمرانی کو قائم رکھنے اور طول دینے کے لیے دنیا بھر کے معاشروں کو داخلی خلفشار اور اور باطنی ہیجان سے دوچار اور بیمار کردیا۔ چنانچہ قرآن نے مذاہبِ عالم کے ضمن میں جو حکمتیہ پیش کیا ، وہ کوئی نظریہ نہیں بلکہ حکمت و دانش کا کُلیہ تھا جسے نظریے کے بجائے حکمتیہ کہنا موزوں ہوگا۔ اور وہ اس لیے کہ انسانی معاشرے اللہ کی حکمت سے چلتے ہیں ۔ تمام دینی احکامات حکمت پر مبنی ہوتے ہیں جن کا راز لشکر کشائی کرنے والوں اور دوسری اُمتوں کی املاک اور زمین چھیننے والوں پر افشا نہیں ہوتا۔
قرآنِ حکیم اُم الکتاب ہے۔ سارے مذہبی صحیفوں کی ماں ہے اور دنیا بھر کے ادیان کی کتابیں اور صحیفے اُس کے بچوں کی طرح ہیں جنہیں وہ اپنے پروں تلے چھپا کر اُن کی حفاظت کرتی ہے اور تمام صحیفوں کے مصدقہ ہونے کی گواہی پیش کرتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے دین کے بارے میں جو حتمی کلیہ وضع کیا وہ تمام مذاہب کو دانوں کی طرح ایک ہی تسبیح میں پرونے کا کلیہ ہے۔ قرآن ھدی اللناس ہے۔ اولادِ آدم کے لیے ہدایت اور رحمت کا پیغام ہے اس پیغام پر کسی انسانی گروہ کی اجارہ داری نہیں ۔ چونکہ یہ رب العالمین اور رحمت اللعالمین ﷺ کا دین ہے اس لیے رب العالمینی اور رحمت اللعالمینی کی سرحدیں دونوں جہانوں پر محیط ہیں ۔ وہ اتنی مختصر ہر گز نہیں چودہ صدیوں میں دنیا کی کل آبادی کے چوتھے حصے تک محدود ہوں اور وہ عالمِ اسلام جو خود بہتر ٹُکڑوں میں بٹا ہوا ہے اور آپس کے جھگڑوں کو ہی نمٹا نہیں پایا اسلام کی حقیقی صورت نہیں ہوسکتا۔ قرآن تو مذاہبِ عالم کو ایک ہی پیغام کے مختلف ایڈیشن قرار دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو اُمت بھی خُدا اور یومِ حساب پر ایمان لا کر نیک عمل کرے گی اُس کو اُس کی جزا اور اجر ملے گا۔ ذرا و سورہ بقر کی باسٹھویں آیت ملاحظہ فرمائیں:
جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی ہیں یا عیسائی یا ستارہ پرست ہیں (یعنی کوئی شخص کسی بھی قوم یا مذہب کا ہو) اگر خپدا اور روزِ قیمات پر ایمان لائے گا تو ایسے لوگوں کو صلہ خُدا کے ہاں ملے گا اور قیامت کے دن اُن کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔ (البقرہ ۲۶)
یہ وہ پیغام ہے جس کو مسخ کیا گیا اور اپنی ملک گیری کی ہوس پوری کرنے کے لیے لوگوں کو لشکر کشی کی چیرہ دستیوں کا نشانہ بنایا گیا جب کہ اصل بات رب کے احکامت کے مطابق زندگی بسر کرنے اور نیک اعمال انجام دینے کی تھی، جس میں لوگوں کی منفعت ہو مگر دنیا پرست حکمرانوں نے دین کو اپنی مرضی سے دنیا بنا لیا اور اُن کو دین کو دُنیانے کا یہ عمل خالص سیسی تھا، مذہبی ہر گز نہیں۔ مذہب تو لکم دینکم ولی دین کے کلیے میں ہے کیونکہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔ لیکن ہماری بدقسمتی کہ سیاسی طالع آزماؤں نے اپنی اپنی مصلحت کے تحت جبر سے نافذ کیا اور لا اکراہ فی الدین کے حکم کی دانستہ خلاف ورزی کی۔ اور ساتھ ہی یہ پراپیگنڈہ بھی کیا گیا کہ دین صوفیا نے پھیلایا حالاکہ کئی صوفیا حکمرانوں کی سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ منصور بن حلاج کو بغداد میں سرِ عام دار پر کھینچ کر عبرت کا نشانہ بنایا گیا ۔ خواجہ شہاب الدین سہروردی کو صلاح الدین ایوبی کے حکم پر شہید کردیا گیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیریں انسانی گروہوں کے درمیان دیواریں کھڑی کرنے کا موجب بنی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان دنیا بھر میں اخوت کے اصول کے مطابق امن و سلامتی کے رشتوں میں منسلک نہیں ہوسکے۔ جس کی جدید تریں مثال ہماری اپنی تاریخ کر کلنک کا ٹیکہ ہے کہ اسلام کا رشتہ مشرقی اور مغربی پاکستان کو متحد نہیں رکھ سکا اور ہمیں سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیے سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کی تازہ ترین مثال یمن اور سعودی عرب کا تنازعہ ہے۔ یہ دو پڑوسی مسلمان ملک ہیں اور ہمسائیگی کے بارے میں اسلام کے احکامات بہت واضح ہیں مگر ہم اپنے سارے ہمسایوں سے تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ اور وہ اس لیے کہ اسلام ہمارے لیے زبانی جمع خرچ سے کچھ زیادہ نہیں۔ بہت پہلے اقبال نے اس طرف اشارہ کیا تھا اور کہا تھا کہ:
اقبال بڑا اپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا غازی بن تو گیا، کردار کا غازی بن نہ سکا
گفتار کے غازی منبر و محراب سے طرح طرح کے پھلجھڑیاں چھوڑتے رہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوا چودہ صدیوں میں بھی اسلامی دنیا میں وہ متقی معاشرہ وجود میں نہیں آسکا جو اخوت، مساوات، رواداری، انصاف اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔ کیا یہ ہمارے لیے اس بڑھ کر ہماری جہالت کا کوئی اور ثبوت بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک نیم ہندو معاشرہ ہے جس میں چھوت چھات کر طرز پر چودھری اور کمی کی ہندوانہ تقسیم موجود ہے۔ اسی لیے اقبال نے یہ بھی کہا تھا کہ:
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
تم مسلماں ہو جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
اور یہی ہے دین کے زبانی جمع خرچ کا انجام ۔ اور ہم سب اپنی بد عملیوں اور کوتاہ بینیوں کے اذیت خانوں اور زندانوں میں اپنی اپنی قید کاٹ رہے ہیں اور یہ جاننا ہی نہیں چاہتے کہ کشمیر اور فلسطین کی گلیوں میں بہتا خون اور بٹتی موت ہماری نالائقیوں کی واضح گواہی ہے ۔ ہم سب اپنی اپنی ذات اور اپنی اپنے فرقہ وارانہ ذہنیتوں کے غلام ہیں اور اس نفسانی غلامی نے ہمیں عمل سے محرام کردیا ہے۔ اسی لیے ہم پچھلے بہتر برس سے اپنی شہ رگ کو مودی جیسے موذیوں کے پنجہ ء استباد سے نہیں چھڑا سکے۔ ہم اپنی خارجہ پالیسی کے کشکول میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردایں لیے دنیا بھر کے گلی کوچوں میں رُسوا ہو رہے ہیں۔ اور یہ بات سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ جن قٖضیوں کا تصفیہ ہم سے پون صدی میں نہیں ہوا، وہ سچ مچ کبھی ہو بھی سکے گا یہ نہیں۔ اس سارے معاملے میں عوام ہی گھاٹے میں رہتے ہیں۔
حکمران طبقوں کا کیا ہے۔ وہ اقتدار میں ہوں یا حزبِ اختلاف میں ان کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوتا ہے۔ وہ د نیا میں جہاں چاہیں اپنے دولت کے بل بوتے پر اپنی بارگاہ بنا لیتے ہیں ۔ اس جدید عہد کے ہوٹل کے کلچر میں امیر لوگوں کا کوئی وطن نہیں ہوتا بلکہ سیاسی کاروبار ہوتا ہے، وہ جہاں سے چاہیں بیٹھ کر چاہیں کریں ۔ اور میں جو غریب الوطن ہو ں میرے پاس آنسوؤں کے سوا کیا ہے؟