غزہ سے فائر ہونے والے راکٹس مزاحمت کا حصہ ہیں: بھارتی دانشور
- منگل 18 / مئ / 2021
- 4260
بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے اور نییانترز سہگل کی سربراہی میں قائم لکھاریوں اور فنکاروں کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف فائر کیے جانے والے راکٹس مزاحمت کا حصہ ہیں۔ بین الاقوامی قانون اس کی حمایت کرتا ہے۔
بھارتی اخبار دی ہندو کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایک بیان میں اجتماعی طور پر اسرائیل کو فلسطینی بچوں کے قتل اور اسرائیلی آباد کاروں کو غیر قانونی طور پر فلسطینیوں سے زمین چھیننے کا قصوروار ٹھہرایا گیا۔ گروپ میں رتنا پھاٹک شاہ، نصیر الدین شاہ، ناول نگار گیتھا ہریہرن اور معیشت دان پربھات پٹنیک شامل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں تازہ ترین لڑائی کے قصے کو فلسطینیوں کو ان کے 'وقار اور مزاحمت کے حق سے محروم نہیں رکھنا چاہیے'۔
گروپ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں موجود فلسطینیوں نے اسرائیل میں راکٹس برسائے، راکٹس اس کے بعد ہونے والے مظالم کو بیان یا اس کا آغاز نہیں کرتے۔ راکٹس غیر قانونی قبضے کے خلاف مزاحمت کا حصہ ہیں جس کی حمایت بین الاقوامی قانون کرتا ہے۔
گروپ کا کہنا تھا کہ شدید طاقت کے ساتھ اسرائیل کے ردِ عمل نے شہریوں بشمول بچوں کو قتل کیا۔ اس بھڑکے ہوئے معاملے پر بھارت نے یہ مؤقف اختیار کر کے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ غزہ کے راکٹ اندھا دھند تھے اور اسرائیلی بمباری انتقامی کارروائی تھی جو اس معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن کے تبصرے میں استعمال ہوئی زبان سے زیادہ مختلف نہیں۔
گروپ نے مصری فضائیہ پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی پر 'نو فلائی زون' فراہم کرے اور فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے عرب ممالک کے سیاسی عزم کے فقدان کی بھی نشاندہی کی۔
خیال رہے کہ 10 مئی سے غزہ کی محصور پٹی میں جاری اسرائیلی وحشیانہ بمباری اور فضائی حملوں کے نتیجے میں اب تک 61 بچوں سمیت 212 فلسطینی جاں بحق جبکہ تقریباً 1500 زخمی ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل میں 2 بچوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت اور 300 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔