اسرائیلی شہری بھی انسان ہیں، انہیں ہلاک کرنا حق مزاحمت نہیں
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 18 / مئ / 2021
- 11670
بھارتی ناول نگار اور ترقی پسند دانشور ارون دھتی رائے نے دیگر فنکاروں اور دانشوروں کے ساتھ ایک بیان میں غزہ کے شہریوں پر اسرائیلی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے حماس کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ پھینکے کی حمایت کی ہے۔ ان دانشوروں کا کہنا ہے کہ راکٹ پھینکنے کا یہ سلسلہ مزاحمت کا حصہ ہے اور بین الاقوامی قانون بھی اس کی حمایت کرتا ہے۔
فلسطینیوں کی آزادی کے لئے دیے گئے اس بیان کو اسرائیلی مظالم اور یک طرفہ بمباری کی مذمت کرنے والے حلقوں اور مسلمان آبادیوں میں تو وسیع حمایت حاصل ہوگی لیکن اس سے نہ تو فلسطین کی آزادی کا مسئلہ حل ہوگا، نہ غزہ کے عوام کی مشکلات میں کمی ہوگی اور نہ ہی اس دلیل سے بے گناہ اسرائیلی شہریوں پر حماس کی طرف سے اندھادھند راکٹ پھینکنے کو بنیادی انسانی اصولوں کے مطابق قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ بیان اس لحاظ سے افسوسناک ہے کہ اس میں انسانوں کو انسانوں کے مقابلے میں رکھ کر ایک خاص نقطہ نظر سے ایک قوم کے حق مزاحمت کی حمایت کی گئی ہے۔ یہ وہی رویہ ہے جو اپنے طور پر اسرائیل اور اس کے حامی امریکہ و دیگر مغربی ممالک اختیار کرتے ہیں۔ ان کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ اسرائیل جوابی کارروائی کرتا ہے کیوں کہ حماس کی طرف سے اس کے شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پیدا کیا جارہا ہے اور ان کی زندگیاں خطرے میں ڈالی جارہی ہیں۔
اب بھارتی دانشوروں کے گروہ نے فلسطینیوں کی حمایت میں جاری کئے گئے سخت الفاظ پر مشتمل ایک بیان میں اپنے طور پر یہی دلیل حماس اور فلسطینی شہریوں کے حق مزاحمت کے لئے استعمال کی ہے۔ ارون دھتی رائے سمیت ان دانشوروں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کے وقار، آزادی اور حق مزاحمت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ بیان جاری کرنے والے فنکاروں اور دانشوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون بھی فلسطینیوں کےا س حق کی حمایت کرتا ہے جن کی زمینوں پر اسرائیل نے قبضہ کیا ہے اور انہیں ان کی بنیادی آزادی سے محروم کیا ہؤا ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غزہ سے پھینکے ہوئے راکٹوں کے رد عمل میں اسرائیلی حملے حجم اور انسانی ہلاکتوں کے اعتبار سے کئی گنا ہیں جن کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہئے۔ بلکہ بھارتی دانشوروں کے اس گروہ نے مصر کی فضائیہ پر زور دیا کہ وہ غزہ کو نو فلائی زون قرار دے کر فلسطینی شہریوں کی حفاظت کا اہتمام کرے۔ بھارتی فنکاروں نے فلسطین کے مسئلہ پر عرب ممالک کی بے حسی پر بھی افسوس کا اظہار کیا ۔
اس بیان میں جاری تفصیلات سے اتفاق کرنے کے باوجود یہ کہنا ضروری ہے کہ کسی انسان کو دوسرے انسان پر فوقیت دینا مسلمہ عالمی اصولوں سے متصادم ہے۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل کی غزہ پر بمباری حجم اور شدت میں بہت شدید ہے اور اس کی وجہ سے دو سوسے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 70 بچے اور 40 خواتین شامل ہیں۔ اس کے برعکس حماس نے بھی غزہ سے ہزاروں راکٹ اسرائیل کی طرف پھینکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو اسرائیل کے راڈار سسٹم نے ناکارہ بنا دیا اور متعدد غزہ میں ہی گر کر تباہ ہوگئے۔ تاہم بعض راکٹوں کی وجہ سے 10 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو بچے شامل ہیں۔ سوال صرف اتنا ہے کہ فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کو مسترد کرتے ہوئے اور ان پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کیا حماس کے ہاتھوں اسرائیلی شہریوں اور بچوں کی ہلاکت کو قبول کیا جاسکتا ہے؟ ایسا کرنے کا مقصد ایک خاص گروہ کی حمایت تو ہو سکتا ہے لیکن اس سے اس اصول کی تائد نہیں ہوسکتی کہ کسی مسلح تصادم میں کسی فوجی طاقت کو شہریوں پر حملے کرنے اور انہیں ہلاک کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
اسرائیل کے شہریوں کو مارنے کے لئے یہ دلیل کافی نہیں ہے کہ اسرائیل زیادہ بڑی فوجی طاقت ہے یا اس نے کئی گنا زیادہ فلسطینی شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ جب شہریوں کے حق زندگی کی بات کی جائے گی تو اس کا اطلاق بلا تخصیص سب لوگوں پر ہونا چاہئے خواہ وہ کہیں رہتے ہوں اور کسی بھی عقیدہ یا سیاسی نظریہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ موجودہ تنازعہ
کا آغاز مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی املاک پر اسرائیلی شہریوں کے دعوے اور ایک عدالت کی طرف سے اس حق کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی کے حکم سے ہؤا تھا۔ فلسطینی شہریوں نے اس پر احتجاج کیا تو اسرائیلی پولیس اور سیکورٹی فورسز نے مسجد اقصی کے قرب و جوار میں انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور رمضان المبارک کے دوران مسلمانوں کے حق عبادت کی خلاف ورزی کی۔ حماس نے اس جھگڑے کا حصہ بن کر اسرائیل پر راکٹ پھینکنے کا سلسلہ شروع کیا جس کے جواب میں اسرائیل نے پہلے غزہ پر فضائی حملے کئے ، اس کے بعد بحریہ اور بری افواج کو بھی غزہ پر بمباری کرنے اور املاک تباہ کرنے پر مامور کردیا۔ غزہ کی پٹی ایک چھوٹی سی جغرافیائی اکائی ہے جس میں بیس لاکھ سے زائد فلسطینی رہتے ہیں۔ اس چھوٹے سے علاقے میں جدید اسلحہ سے ہونے والی بمباری سے شہری ہلاکتوں کے خطرے کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود اسرائیل اپنے سیاسی و عسکری اہداف حاصل کرنے اور فلسطینیوں کو دبانے کے لئے اپنی بے پناہ فوجی طاقت استعمال کرتا ہے۔ حالانکہ اسے اچھی طرح خبر ہوتی ہے کہ ان حملوں میں شہری ہلاکتیں بھی ہوں گی۔
اس کے باوجود اسرائیلی حملوں اور حماس کے پھینکے گئے راکٹوں کے ایک فرق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلاشبہ عملی طور سے اسرائیل کے حملے بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں اور ان حملوں میں شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے والی املاک کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیلی حکومت یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ وہ شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس کا دعویٰ ہوتا ہے کہ حماس کی قیادت، عسکری قوت، اسرائیل پر حملہ کے لئے استعمال ہونے والی سرنگوں اور انٹیلی جنس تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اس میں شہری بھی جاں بحق ہوتے ہیں۔ اسرائیلی فوج اپنے بیانات میں مسلسل یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ حماس کی فوجی قوت کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ بحث اپنی جگہ موجود رہے گی کہ اسرائیل اور حماس کی فوجی طاقت میں توازن تلاش نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس دلیل کو مانا جاسکتا ہے کہ اسرائیلی فوج شہریوں پر براہ راست حملے نہیں کرتی۔ اس جھوٹ کی قلعی کئی واقعات اور رپورٹوں میں کھل چکی ہے۔ اسرائیلی فوجوں نے ہمیشہ فلسطینی شہریوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا ہے۔ اسی لئے عالمی سطح پر ہر باضمیر انسان اسرائیل کو غلط اور فلسطینیوں کے حق آزادی اور اس کے لئے مزاحمت کو جائز و درست سمجھتا ہے۔
اس کے برعکس حماس اگرچہ فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی دعوے دار ہے لیکن وہ فوجی طور سے اسرائیلی فوج کو نقصان پہنچانے یا اس کے حملوں کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ فلسطینیوں کو جلد یا بدیر یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ راکٹ پھینکنے کی موجودہ حکمت عملی سے فلسطینی کاز کو نقصان پہنچتا ہے یا اس سے مسئلہ حل ہونے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ لیکن موجودہ تناظر میں قابل غور اور اہم نکتہ یہ ہے کہ حماس اسرائیل کے برعکس کبھی یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ اس کا نشانہ اسرائیلی شہری نہیں ہیں۔ بلکہ اسرائیلی آبادیوں پر ہی راکٹ پھینکے جاتے ہیں تاکہ اسرائیل کو حملے روکنے پر مجبور کیا جاسکے۔ جیسے حماس کے ایک ترجمان نے آج ہی ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر اسرائیلی جارحیت ختم نہ ہوئی تو اگلے مرحلےمیں اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر راکٹ پھینکے جائیں گے۔ سوال ہے کہ کیا کسی کمزور فوجی طاقت کو محض اس لئے شہریوں کو نشانہ بنانے کا حق دیا جاسکتا ہے کہ اس کی فوجی طاقت مدمقابل کے برعکس بہت کم یامعمولی ہے۔ بھارتی دانشوروں نے اس اصول کی تائد کی ہے۔ یہ رویہ اختیار کرنے سے اندیشہ ہے کہ فلسطینی کاز کا اخلاقی جواز کمزور پڑے گا۔
حماس کے راکٹ اگر اسرائیلی فوج پر پھینکے جائیں یا ا ن کا نشانہ اسرائیلی عسکری تنصیبات ہوں تو انہیں جائز کہا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر فلسطینیوں یا دنیا بھر میں ظلم و استبداد کا نشانہ بننے والے لوگوں کی تائد و حمایت مقصود ہے تو شہری آبادیوں پر راکٹ پھینکنے اور بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے یا انہیں ہلاک کرنے کا ارادہ کرنے کےمقصد کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ اس کے مقابلے میں وہ نوجوان جو اسرائیلی ٹینکوں پر پتھر پھینکتے ہیں یا وہ نہتی خاتون جو اسرائیلی فوجیوں کے سامنے ڈٹ جاتی ہے مزاحمت، شجاعت و بہادری کا حقیقی نمونہ ہے۔ واضح ہونا چاہئے کہ اس تنازعہ میں اسرائیلی فوج پر حملہ جائز اور حق آزادی کی جنگ میں درست طریقہ ہے لیکن شہریوں کو نشانہ بنانا غلط اور ناجائز طریقہ ہے۔ اس کی حمایت کرنے سے آزادی کی تمام تحریکوں کا اخلاقی جواز کمزور ہوگا اور دنیا بھر میں جبر کرنے والی حکومتوں کو اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کا لائسنس دینے کے مترادف ہوگا۔
اس کی مثال مقبوضہ کشمیر میں بھی تلاش کی جاسکتی ہے۔ وہاں کے شہری بھارتی فوج کو قابض فوج سمجھ کر اگر اس کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں اور اسے نقصان پہنچاتے ہیں تو اسے مزاحمت کہا جائے گا لیکن اگر یہی کشمیری اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے بھارتی شہروں میں سول آبادی کو نشانہ بنا کر اسے مزاحمت کہیں گے تو اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ افغانستان میں طالبان کا طرز عمل بھی اس ضمن میں اہم اور قابل غور ہے۔ طالبان کو اسی لئے دہشت گرد گروہ کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ عسکری مقابلہ کرنے کے علاوہ شہریوں کو نشانہ بنا کر اپنی کامیابی کا راستہ ہموار کرنے کو جائز جنگی طریقہ سمجھتےہیں۔ عالمی قوانین اور انسانی اخلاقیات اس کی تائد نہیں کرتی۔
فلسطینی شہری دنیا کی واحد محکوم قوم نہیں ہے۔ کشمیریوں کو بھی اپنے ہی وطن میں آزادی سے محروم کیا گیا ہے۔ چین کے صوبہ سنکیانگ میں لاکھوں ایغور باشندوں کو حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے اور مسلمانوں کو اپنے بنیادی شعائر پر عمل کرنے کا بھی حق حاصل نہیں ہے۔ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی بھی ریاستی استبداد کی ایک دوسری مثال ہے لیکن فلسطین میں ہونے والے مظالم پر تو متعدد ممالک اور حکومتیں بھی سرگرم ہوتی ہیں، میڈیا بھی کسی حد تک رپورٹنگ کرتا ہے اور اقوام متحدہ بھی متحرک ہونے کی کوشش کرتی ہے جبکہ باقی تنازعات میں ایسی کوئی عجلت دیکھنے میں نہیں آتی۔ نہ ہی مذمتی بیانات ضروری سمجھے جاتے ہیں۔
اسرائیل بلاشبہ جارحیت کا مرتکب ہورہا ہے اور فلسطینیوں کو اپنے وطن میں آزادی سے رہنے کا حق حاصل ہے لیکن دنیا کے باقی حصوں میں بھی متعددمسلمان گروہوں کو صرف عقیدہ کی وجہ سے جبر و استبداد کا سامنا ہے۔ ان پر بھی یکساں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فلسطین اپنے محل وقوع اور سیاسی حیثیت کی وجہ سے توجہ حاصل کرتا ہے۔ فلسطینیوں کے دکھ پر آنسو بہانے سے البتہ دنیا کے سب ملکوں میں ہونے والے مظالم کا حساب چکتا نہیں ہوسکتا۔