اسلام آباد ہائی کورٹ نے حافظ حمداللہ کی شہریت منسوخی کا حکم کالعدم قرار دیا
- بدھ 19 / مئ / 2021
- 3520
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کا شناختی کارڈ بلاک اور شہریت منسوخی کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور نادرا کے اس اقدام کو اختیارات سے تجاوز قرار دیاہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا یہ حکم اختیارات سے تجاوز تھا۔ حافظ حمد اللہ کو ٹی وی پر دکھانے کی پابندی سے متعلق پیمرا کاحکم نامہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے 8 مئی 2020 کو نادرا کی جانب سے حافظ حمداللہ کی شہریت معطل کرنے کے نوٹی فکیشن کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ شہریت بنیادی حق ہے۔ نادرا کے پاس کسی شہری کی شہریت ختم کرنے کا اختیار نہیں، نادرا کو کئی مرتبہ سمجھایا گیا کہ ایسا نہ کریں یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی بدترین قسم ہے۔ چیف جسٹس نے نادرا حکام سے استفسارکیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز کی کسی رپورٹ کو نادرا براہ راست کیسے دیکھ سکتا ہے؟ آپ بتائیں اس کے علاوہ کتنے کیسز میں آپ نے اس طرح کی رپورٹ پر فیصلے کیے گئے؟
انہوں نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز تو کسی وزارت یا ڈویژن کے ماتحت ہیں ان کی رپورٹ تو اس طرف سے ہی آسکتی ہے۔ آپ ایک شخص کی شہریت ہی ختم کر دیتے ہیں، ایسا تو نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس ملک میں ایک آئین اور قانون ہے، آپ کو معلوم ہے کہ ایک دن کے لیے بھی شناختی کارڈ بلاک کریں تو اس کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟
بعد ازاں دلائل سننے کے بعد محفوظ کیا گیا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے حافظ حمد اللہ کا شناختی کارڈ بلاک اور شہریت منسوخ کرنے جبکہ پیمرا کی جانب سے حافظ حمد اللہ کو ٹی وی پر دکھانے کی پابندی کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
خیال رہے کہ 26 اکتوبر کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نادرا نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کو غیرملکی شہری قرار دیتے ہوئے پاکستانی شہریت منسوخ کردی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پیمرا نے انہیں پاکستانی ٹی وی چینلز پر مہمان کے طور پر بلانے سے منع کردیا تھا۔