قومی و پنجاب اسمبلی میں جہانگیر ترین گروپ کے قیام اور تردید کی خبریں
- بدھ 19 / مئ / 2021
- 5090
حکمران پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر ترین نے قومی اور پنجاب اسمبلی میں علیحدہ گروپ تشکیل دینے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ اس سے پہلے میدیا میں ایسے گروپ قائم کرنے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔
لاہور میں بیکنگ جرائم کورٹ کے احاطے کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ان میڈیا رپورٹ کو مسترد کرتا ہوں اور واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم پی ٹی آئی کا حصہ تھے، ہیں اور انشااللہ رہیں گے۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ وضاحت ضروری ہے کہ دو مسائل ہیں، پہلا مسئلہ جہانگیر اور ایف آئی اے کا، جس کے ساتھ میرے تمام دوست کھڑے ہیں۔
جب میرے دوست وزیر اعظم عمران خان سے ملے تو وہ خوش دلی سے ملے اور علی ظفر کو معاملے کی انکوائری کے لیے نامزد کیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے جس جس معاملے پر سوال اٹھایا تھا انہیں دستاویزات فراہم کردی گئیں یعنی تمام منی ٹریل دے دی۔ علی ظفر کی رپورٹ جلد منظر عام پر آجائے گی۔
جہانگیر ترین نے واضح کیا کہ لیکن اس کے ساتھ دوسرا مسئلہ شروع ہوگیا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ دوسرا مسئلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی اور انصاف ملے گا تو مجھے ان پر پورا یقین تھا۔ وزیر اعظم عمران خان انصاف پسند انسان ہیں اور انصاف کے تقاضے پورے کریں گے۔
جہانگیر ترین نے الزام لگایا کہ اس کے بعد یہ ہوا کہ پنجاب حکومت نے میرے ساتھیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کردیں۔ اس دباؤ کے پیش نظر میرے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ پنجاب میں آواز اٹھائیں گے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر تھی جو بالکل غلط رویہ تھا۔ انہوں نے افسران کے تبادلے کرنا شروع کردیے۔۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی پالیسی کے خلاف میرے ساتھیوں پر ڈباؤ ڈالا جارہا ہے اور صوبائی اسمبلی میں اس دباؤ کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ضروری تھا کہ ہم ایک رکن صوبائی اسمبلی کو نامزد کرتے تاکہ وہ رہنمائی کریں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ یہ اتنی سے بات تھی لیکن میڈیا نے اسے 'فارورڈبلاک' قرار دے دیا۔
جہانگیر ترین نے پنجاب حکومت پر زور دیا کہ وہ انتقامی کارروائی سے باز رہے کیونکہ وہ جن اراکین صوبائی اسمبلی پر دباؤ ڈال رہے ہیں دراصل وہ ہی آپ کی حکومت کا حصہ ہیں۔
واضھ رہے کہ گزشتہ روز سے میڈیا پر خبریں گردش کررہی تھیں کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اور جہانگیر ترین کی حمایت میں سب سے آگے رہنے والے راجا ریاض کو قومی اسمبلی میں گروپ کا پارلیمانی رہنما بنایا گیا ہے جبکہ پنجاب اسمبلی میں سعید اکبر اس کی سربراہی کریں گے۔
یہ اعلان جہانگیر ترین کی جانب سے منعقدہ ایک عشایئے میں سامنے آیا تھا جہاں راجا ریاض کے مطابق مزید 4 اراکین قومی اسمبلی اور اتنے ہی ایم پی ایز نے گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
علاوہ ازیں 'جہانگیر گروپ' سے متعلق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارٹی کا کوئی بھی رکن اعتماد کا ووٹ اور فنانس بل پر پارٹی کے قواعد کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا اور تمام دوست اس بات سے واقف ہیں کہ اگر انہوں نے حکومت کی حکمت عملی کو سپورٹ نہیں کیا تو ان کی رکنیت متاثر ہوسکتی ہے۔