کابل اور ارض مقدس میں خون خرابہ؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 19 / مئ / 2021
- 7750
دنیا میں عالمی امن کا قیام ایک دیرینہ خواب ہے جو ہنوز شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ ہماری موجودہ دنیا میں ایک طرف طاقتور اقوام ہیں جو اپنے ٹارگٹس طاقت کے ذریعے حاصل کرنا اپنا استحقاق سمجھتی ہیں جبکہ دوسری طرف کمزور اقوام یا ان کے متشدد گروہ ہیں جو اپنی جدوجہد سیاسی، جمہوری، سفارتی، اخلاقی یا انسانی بنیادوں پر کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
وہ شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں جس کا نتیجہ سوائے مزید تشدد اور جوابی تشدد کے اور کچھ نہیں نکلتا، یوں امریکا جیسی مہذب عالمی طاقت اور یو این کے ہوتے ہوئے معاملات مکالمے یا ڈائیلاگ سے نہیں بارود یا پتھروں کے استعمال سے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ رمضان کے آخری دنوں میں تشدد کے دو بدترین واقعات ہوئے ہیں۔ ایک کابل کے مغربی علاقے دشت بارچی میں جہاں شیعہ ہزارہ کمیونٹی آباد ہے، یہاں غریب ہزارہ برادری کا ایک ’’سید الشہدا‘‘ نامی سکول ہے جو تین شفٹوں میں چلتا ہے درمیانی شفٹ میں بچیاں پڑھتی ہیں۔ عین اس وقت جب یہ معصوم طالبات جن کی عمریں گیارہ سے پندرہ سال تک تھیں سکول سے نکل رہی تھیں تو گیٹ پر یکے بعد دیگرے تین خوفناک دھماکے ہوئے جن سے آہوں، چیخوں اور سسکیوں کے ساتھ بچیوں کے چیتھڑے فضا میں بلند ہوئے۔ ان کی کتابوں کے بیگ اور جوتے خون میں لت پت ہو گئے موقع پر پچاس سے زائد بچیاں اور معصوم لوگ لقمہ اجل بن گئیں۔ بتایا جا رہا تھا کہ ان بچیوں کی لاشیں ڈھیر کی صورت میں ایک دوسری کے اوپر پڑی ہوئی تھیں۔ بعد ازاں اموات کی تعداد پچاسی کا ہندسہ کراس کر گئی۔ دیگر اپاہج اور زخمی ہونے والی بچیاں ان کے علاوہ تھیں۔
درویش کا سوال یہ ہے کہ اس بدترین سفاکی کے خلاف غیر تو غیر خود عالم اسلام میں کتنا احتجاج ہوا ہے، کتنے مظاہرے یا جلوس نکلے ہیں؟ ہمارے ’’مقدس اسلامی‘‘ میڈیا نے اس کو کتنی کوریج دی ہے۔ شاید کئی لوگوں کو یہ کالم پڑھتے ہوئے معلوم ہو رہا ہو کہ ان دنوں یہاں ایسا کوئی سانحہ ہوا بھی ہے، کیوں؟ اس لئے کہ اس کے مرتکبین یہود و ہنود نہیں ہیں، اپنے کلمہ گو بھائی اور ان کے جہادی گروہ داعش، القاعدہ یا وہ ہیں جن نام لینابھی شاید بلاسفیمی کی ایک شکل ہے۔ اس سے پہلے اس علاقے کے ایک ٹیوشن سنٹر میں 24 ہلاکتیں ہوئیں۔ ایک ہسپتال کے گائنی وارڈ پر ایسا ہی سفاکانہ حملہ ہوا اور کتنی خواتین مریں، ذرا یہ بھی معلوم کرلیا جائے کہ
مظلوم شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے دکھوں کا کیاکسی کو احساس و ادراک ہے؟ کیا ان سے ہمدردی اس لیے نہیں ہے کہ وہ مظلوم شیعہ ہیں؟ اب تک ان کی جتنی شہادتیں یا ہلاکتیں ہو چکی ہیں ذرا اعداد و شمار ملاحظہ فرمائیں ، تعداد فلسطینی و کشمیری اموات سے بڑھ جائے گی۔ یہ بھی معلوم کر لیا جائے کہ ہمارے اس مخصوص خطے میں کون صاحبان ایمان ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کو غیر اخلاقی و غیر اسلامی خیال کرتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس قومی سروے سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق آج بھی ا فغانستان میں 83 فیصد خواتین چٹی ان پڑھ، یا زیور تعلیم سے محروم ہیں۔ ایسی ذہنی پسماندگی میں کون سا جہاد اور کونسی آزادیاں؟
آج امریکا افغانستان کے اس ہلاکت خیز گندیا دلدل سے نکل جانا چاہتا ہے۔ امریکی قوم اپنے بچوں کو جہالستان میں مروانا نہیں چاہتی تو ہم عرض کرتے ہیں مہاراج ذرا ٹھہر جائیں بیس سالہ جدوجہد پر یوں پانی نہ پھیریں۔ طالبان کی یلغار دندناتی پھر رہی ہے، وہ کمزور انسانوں بالخصوص ویمن رائٹس کو کچل ڈالے گی۔ جواب ملتاہے کہ دس کھرب امریکی ڈالروں اور 2300 جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں۔ اب افغان یا مسلمان اپنا بوجھ آپ اٹھائیں۔ کالم تو آج اس ایشو پر بنتا تھا کہ آنے والے ماہ و سال کی تصویر پیش کی جائے مگر کیا کریں القدس شریف میں مسجد اقصیٰ کے نام پر ہونے والی خونریزی اپنی طرف بلا رہی ہے۔ معصوم بچوں کی آہیں، چاہے وہ یہودیوں کے ہوں یا عربوں کے، سسکیوں کے ساتھ کانوں میں سنائی دے رہی ہیں۔ ایک طرف وہ ہیں جو اپنے بچوں کو زیر زمین بنکروں میں چھپا کر لڑتے ہیں دوسری طرف وہ ہیں جو چوری سے حاصل کردہ میزائلوں کو چھپا کر اور بچوں کو سامنے بٹھا کر راکٹس اور میزائل شہری آبادیوں پر مارتے ہیں۔ افسوس اس کے لئے اپنی آبادیوں، ہسپتالوں، سکولوں، مسجدوں اور میڈیا ہاؤسز کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔
خون تو خون ہے فلسطینی عربوں کا گرے یا یہودیوں کا، کسی کا زیادہ گرے یا تھوڑا۔ ظاہر ہے حسب استطاعت و طاقت ہی گرانا ہے، لہٰذا اصل چیز خون گرانے یا بہانے والی سوچ کا خاتمہ ہے۔
کہتے ہیں جی مکالمے یا مذاکرات سے مسئلے حل نہیں ہوتے اور نہ ہو سکتے ہیں۔ “یہود و ہنود کا ایک علاج، الجہاد الجہاد‘‘۔ ماشاء اللہ بڑا اچھا جہادی دعویٰ ہے۔ مذاکرات کی میز پر آنے کی دہائی تو کمزور لوگ دیتے ہیں، آپ صاحبان ایمان، قوت ایمانی سے سرشار ، بہادر و نڈر لوگ ہیں آپ کو مذاکراتی کمزوری دکھانے کی کیا ضرورت ہے، مصری صدر انور سادات نے جہاد کو چھوڑ کر مذاکرات کے ذریعے سینائی حاصل کیا تھا تو ہم نے اسے گولیوں سے بھون کر رکھ دیا تھا۔ اب اس انور سادات کو شہید ہوئے بھی چالیس سال بیت چکے ہیں۔ ذرا بتایئے ان کے بعد آپ نے طاقت کے زور ، دہشت کے خوف یا بل بوتے پر کتنے انچ زمین واگزار کروائی ہے؟
مت بھولیں آج آپ کو اگر غزہ میں ایک نوع کی اٹانومی حاصل ہے یا ویسٹ بنک میں فلسطینی اتھارٹی قائم ہے تو یہ خود کش حملوں کی بدولت نہیں ہے، یہ امریکی سرزمین پر یاسرعرفات، اضحاق رابن اور شمعون پیریز کی مذاکراتی جدوجہد اور امن کی خواہش کا صلہ ہے۔ اگر پی ایل او اپنا سابقہ دہشت گردانہ طرز عمل جاری رکھنے پر مصر رہتی تو القاعدہ اور داعش کی طرح کچل کر رکھ دی جاتی۔ سادات کو تو آپ نے اس کی امن پسندی کے کارن مار ڈالا آپ کے جو عظیم جنگجو مجاہد تھے احمد یٰسین، قذافی اور صدام وہ کس انجام سےگزرے اور کیونکر گزرے؟
مسئلہ افراد کا نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کس نے اپنی قوم کو کیا دیا؟ سادات نے مصریوں کو ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر کا تیل کی دولت سے مالا مال خطہ واگزار کروا کر دیا لیکن ہم راسخ العقیدہ مسلمانوں کا ولن ٹھہرا۔ جبکہ قذافی و صدام نے اپنی اقوام کو کئی دہائیوں پر محیط تباہی و بربادی بخشی، ہزاروں بے گناہ انسانوں کی بے وقعت و لاحاصل اموات کا باعث بنے لیکن آج وہ سب ہمارے ہیروز ہیں۔
آج احمد یٰسین یا اسماعیل ہانیا کی حماس کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ جو صدام کی بعث یا قذافی کی عرب سوشلسٹ پارٹی نے حاصل کیا؟ القاعدہ یا داعش کو چھوڑیے اخوان نے کیا حاصل کیا؟ عربوں کے لئے یا اپنی اقوام کیلئے؟ اور پھر حماس کی حیثیت کیاہے، وہ کس برتے پر فلسطینی قیادت کی دعویدار ہے؟جسے 2005 کے الیکشن میں خود فلسطینی عوام نے بری طرح مسترد کر دیا تھا۔ آئینی و قانونی طور پر فلسطینی قیادت کی اگر کوئی اہل یا حقدا ر ہے تو وہ فلسطینی اتھارٹی اور اس کی منتخب قیادت ہے، جس کے صدر ابو معاذن جناب محمود عباس ہیں۔ بلاشبہ الفتح ایک زمانے تک دہشت کی سرخیل رہی اور پھر یاسر عرفات کی قیادت میں ہی یہ اپنے مکروہ ماضی سے تائب ہوئی اس نے سیاسی و سفارتی جدوجد کی راہ اپنائی اور مذاکرات کے ذریعے ہی اوسلو معاہدہ ممکن ہوا۔
آج اگر صدر محمود عباس انتخابات ملتوی کرنے پر مجبور ہیں تو اس کی وجہ حماس کی وحشت و دہشت ہے۔ آپ اپنے ان نام نہادجہادی یا فسادی ڈراموں سے اتنی مقبولیت حاصل کرنا چاہتے ہیں جس سے آپ الفتح اور اس کی قیادت کو بیدخل کر کے ویسٹ بینک کا جبری کنٹرول بھی اس طرح حاصل کر سکیں جو نظریہ جبر پر غزہ میں حاصل کر رکھا ہے اور جو چھ سو بے گناہ لاشوں پر استوار ہے۔ آپ کو کن نادان دوستوں نے یہ مشورہ دیا ہے اگر آپ ہزاروں راکٹس اور میزائل یہودی آبادیوں یا شہریوں پر بلاتمیز گرائیں گے تو اسرائیلی قیادت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی یہ تماشا دیکھتی رہے گی۔ یا محض اپنے حفاظتی گنبد پر اکتفا کرے گی؟
دہشت کے ان ہتھکنڈوں سے بلاشبہ آپ نے یہودی عوام کو خوفزدہ کر دیا ہے وہ ان حملوں کے خوف سے کانپ رہے ہیں اور اپنے زیر زمین بنکروں میں چھپنے یا پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ آپ سچ کہتے ہیں کہ وہ بزدل چوہوں کی طرح بلوں میں چھپے ہوئے ہیں کیونکہ وہ شہادتوں کے خواستگار نہیں ہیں۔ یہ بزدل موت سے ڈرتے اور زندگی سے پیار کرتے ہیں۔ اپنے ایک نوجوان کی موت پر عوام تو کیا اس کےساتھی فوجی بھی آہوں اور سسکیوں کے ساتھ رو رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ ڈرپوک ہیں اور آپ بہادر ہیں۔ آپ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے کھیلتے ہیں آپ کی نظروں میں یہ دنیاوی زندگی حقیر ہے آپ کو ابدی راحت بہشت بریں میں دکھتی ہے جبکہ اولاد یعقوب ؑ (بنی اسرائیل) کو جنت میں گھر بنانے کی کوئی ایسی جلدی نہیں وہ فی الوقت اپنی اسی جنت پر اکتفا کرناچاہتی ہے جسے خوبصورت بنانے میں ان کے سائنسدانوں اور مدبروں نے زندگی بھر عرق ریزیاں کی ہیں۔
اب اصل بات پر آتے ہیں کہ یہ جھگڑا شروع کیوں اور کیسے ہوا ہے؟ اصل جھگڑا تو اگرچہ بالفور ڈکلیئریشن کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا لیکن موجودہ تناؤ اس وقت شروع ہوا جب مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ الجراح میں فلسطینی مکانات کا تنازع کھڑا ہوا۔ معاملہ عدالت میں گیا اور عدالت نے ان مکانات کو غیر قانونی قرار دینے کی دو وجوہات بیان کیں ایک حق ملکیت یا ملکیت کے کاغذات اور دوسرے کارپوریشن سے نقشے وغیرہ کی منظوری۔ جس پر یہودی خریداروں کے اپنے دلائل ہیں جبکہ عرب آباد کاروں کا اپنا استدلال ہے کہ وہ قانونی موشگافیاں پوری کرنے سے قاصر ہیں، اس بے دخلی کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا جو القدس تک پہنچ گیا۔
پورا رمضان مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے مذہبی اجتماعات بشمول نماز جمعۃ المبارک وغیرہ ہوتے چلے آ رہے تھے جو ہزاروں سے لاکھوں تک ہوئے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ تو پھر رمضان کے اختتام پر بالخصوص ستائیسویں کی رات ایسا کیا ایشو ہوا کہ نوبت مسجدمیں ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کے گولوں تک پہنچ گئی؟ یوں مسجد کی بے حرمتی ہی نہیں ہوئی سینکڑوں کو چوٹیں بھی آئیں۔ الحمدللہ کہ کسی ایک کی جان نہیں گئی ورنہ ایسی صورتحال میں بھگڈر کے باعث کئی اموات ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف ٹمپل ماؤنٹ سے نیچے دیوار گریہ کے ساتھ پانچ لاکھ کے قریب یہودی یوم یروشلم منا رہے تھے وہاں ایک تنگ گزرگاہ میں تختے گرنے سے چوالیس یہودی اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔
(جاری ہے)