غزہ میں جنگ بندی، امریکی صدر کا خیر مقدم
- جمعہ 21 / مئ / 2021
- 3630
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے بعد فریقین کے درمیان غزہ میں گیارہ روز تک جاری رہنے والی لڑائی اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر سے جمعرات کی شب دیر گئے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔ اس میں مصر کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق ہوا تھا۔
مصر کی ثالثی میں ہونے والی اس جنگ بندی کے اعلان کے بعد غزہ کی پٹی میں جشن کا ماحول دیکھا گیا جہاں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے ریلیاں بھی نکالیں۔ فلسطینیوں کے عسکریت پسند گروپ حماس نے بھی فوری ردعمل میں کہا ہے کہ وہ بھی جنگ بندی معاہدے کا احترام کریں گے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے دفاعی عہدیداروں، ملٹری چیف آف سٹاف اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے مصر کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو اس دعوے کے ساتھ منظور کر لیا ہے کہ اس آپریشن میں ’عظیم کامیابیاں‘ حاصل کر لی گئی ہیں۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور مصری ہم منصب عبدالفتح السیسی سے رابطہ کیا ہے۔ صدر بائیڈن کے بقول نیتن یاہو نے انہیں بتایا ہے کہ اسرائیل نے دوطرفہ اور غیر مشروط جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جب کہ مصر نے بھی آگاہ کیا ہے کہ حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہ بھی لڑائی ختم کرنے پر راضی ہیں۔
صدر بائیڈن نے اس بات کو پھر دہرایا کہ امریکہ حماس کی جانب سے فائر کیے جانے والے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل کے حقِ دفاع کی حمایت کرتا ہے۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ لگ بھگ گیارہ روز تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں انہوں نے چھ مرتبہ اسرائیلی وزیرِ اعظم اور ایک سے زائد مرتبہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے رابطہ کیا تھا۔
صدر بائیڈن نے لڑائی کے خاتمے کی کوششوں میں حصہ لینے والے ممالک کو سراہا اور کہا کہ ان کی ہمدردیاں ان تمام اسرائیلی اور فلسطینی خاندانوں کے ساتھ ہیں جو اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں۔