ارض مقدس میں خون خرابہ (2)

گزشتہ سے پیوستہ)

آپ کو کن نادان دوستوں نے یہ مشورہ دیا ہے اگر آپ ہزاروں راکٹس اور میزائل یہودی آبادیوں یا شہریوں پر بلاتمیز گرائیں گے تو اسرائیلی قیادت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی یہ تماشا دیکھتی رہے گی یا محض اپنے حفاظتی گنبد پر اکتفا کرے گی؟

دہشت کے ان ہتھکنڈوں سے بلاشبہ آپ نے یہودی عوام کو خوفزدہ کر دیا ہے، وہ ان حملوں کے خوف سے کانپ رہے ہیں اور اپنے زیر زمین بنکروں میں چھپنے یا پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ آپ سچ کہتے ہیں کہ وہ بزدل چوہوں کی طرح بلوں میں چھپے ہوئے ہیں کیونکہ وہ شہادتوں کے خواستگار نہیں ہیں۔ یہ بزدل موت سے ڈرتے اور زندگی سے پیار کرتے ہیں۔ اپنے ایک نوجوان کی موت پر عوام تو کیا اس کےساتھی فوجی بھی آہوں اور سسکیوں کے ساتھ رو رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ ڈرپوک ہیں اور آپ بہادر ہیں آپ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے کھیلتے ہیں آپ کی نظروں میں یہ دنیاوی زندگی حقیر ہے آپ کو ابدی راحت بہشت بریں میں دکھتی ہے جبکہ اولاد یعقوب ؑ (بنی اسرائیل) کو جنت میں گھر بنانے کی کوئی ایسی جلدی نہیں وہ فی الوقت اپنی اسی جنت پر اکتفا کرناچاہتی ہے جسے خوبصورت بنانے میں ان کے سائنسدانوں اور مدبروں نے زندگی بھر عرق ریزیاں کی ہیں۔

اب اصل بات پر آتے ہیں کہ یہ جھگڑا شروع کیوں اور کیسے ہوا ہے؟ اصل جھگڑا تو اگرچہ بالفور ڈکلیئریشن کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا لیکن موجودہ تناؤ اس وقت شروع ہوا جب مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں فلسطینی مکانات کا تنازع کھڑا ہوا۔ معاملہ عدالت میں گیا اور عدالت نے ان مکانات کو غیر قانونی قرار دینے کی دو وجوہات بیان کیں ایک حق ملکیت یا ملکیت کے کاغذات اور دوسرے کارپوریشن سے نقشے وغیرہ کی منظوری۔ جس پر یہودی خریداروں کے اپنے دلائل ہیں جبکہ عرب آباد کاروں کا اپنا استدلال ہے کہ وہ قانونی موشگافیاں پوری کرنے سے قاصر ہیں، اس بے دخلی کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا جو القدس تک پہنچ گیا۔

پورا رمضان مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے مذہبی اجتماعات بشمول نماز جمعۃ المبارک وغیرہ ہوتے چلے آ رہے تھے جو ہزاروں سے لاکھوں تک ہوئے کوئی مسئلہ نہیں ہوا تو پھر رمضان کے اختتام پر بالخصوص ستائیسویں کی رات ایسا کیا ایشو ہوا کہ نوبت مسجدمیں ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کے گولوں تک پہنچ گئی؟ یوں مسجد کی بے حرمتی ہی نہیں ہوئی سینکڑوں کو چوٹیں بھی آئیں الحمدللہ کہ کسی ایک کی جان نہیں گئی ورنہ ایسی صورتحال میں بھگڈر کے باعث کئی اموات ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف ٹمپل مائونٹ سے نیچے دیوار گریہ کے ساتھ پانچ لاکھ کے قریب یہودی یوم یروشلم منا رہے تھے وہاں ایک تنگ گزرگاہ میں تختے گرنے سے چوالیس یہودی اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔

یہ بھی شکر ہے کہ یہودیوں کی اتنی ہلاکتیں اتفاقی حادثے یا سانحے کی وجہ سے ہوئیں ورنہ اگر یہ سب فلسطینیوں کی وجہ سے ہوا ہوتا تو ایک کہرام برپا ہو جانا تھا۔ دراصل اسی نوع کے کسی کہرام یا سانحہ سے بچنے کے لئے پیش بندی کے طور پر اسرائیلی پولیس نے مسلمانوں کے اقصیٰ میں بڑے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے شیل پھینکے یا ربڑ کی گولیاں چلائیں جن کے متعلق ان کی انٹیلی جنس رپورٹس تھیں کہ ان ہزاروں نمازیوں کی وسیع تعداد کے شیلٹر میں حماس کے جنگجو نیچے دیوار گریہ کے پاس اپنا قومی تہوار منانے والے یہودیوں کے ساتھ چھیڑ خانی کریں گے۔ اس حوالے سے مسجد میں پہنچائے گئے بارود اور پتھروں کے ڈھیر کو بھی دکھایا گیا۔ بالفرض اسرائیلی پولیس کے اس دعوے کو درست مان بھی لیاجائے کہ حماس مقدس اجتماع کے شیلٹر میں شیخ جراح کے احتجاج کو اسرائیلی عوام کے ساتھ تصادم میں بدلنا چاہتی تھی تب بھی اس کا ایک محفوظ راستہ یہ تھا کہ وہ یوم یروشلم کی تقریبات کو منسوخ کرتے ہوئے اپنے پانچ لاکھ یہودیوں کو وہاں جمع ہونے سے روک دیتے۔

بہرحال جو ہوا غلط ہوا مگر مسجد کی بے حرمتی کو جواز بنا کر حماس نے غزہ سے یہودی شہری آبادیوں پر اندھا دھند ہزاروں راکٹس برسانے کا جو سلسلہ شروع کر دیا, وہ اس سے بھی غلط تھا۔ اسرائیلی ڈیفنس سسٹم آئیرن ڈوم نے ا گرچہ اس کا کوئی بھاری نقصان نہیں ہونے دیا مگر پھر بھی جہاں کئی اسرائیلی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے وہیں ان کی بعض تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ ردعمل میں اسرائیل نے غزہ پر جو بمباری کی بشمول امریکہ پوری مہذیب دنیا نے اسی تناظر میں اسے اسرائیل کا حق دفاع یا حفاظت خود اختیاری قرار دیا۔ اسرائیل ایک مدت ہوئی غزہ کے معاملات سے بڑی حد تک لاتعلق ہو چکا تھا۔ اور پچھلے پندرہ سال سے حماس نے فلسطینی اتھارٹی کو بھی یہاں سے مار بھگایا تھا جس کا حماس کو فائدہ پہنچا اور اس نے اپنے اثاثے بالخصوص غیر قانونی طور پر حاصل کردہ اسلحہ و بارود محفوظ رکھا ہوا تھا۔

اسرائیل اپنی گیارہ روزہ کارروائیوں کے باوجود غزہ میں حماس کا کوئی اصل نقصان نہیں کر پایا اور نہ ہی کوئی بڑا ٹارگٹ اس کے قابو میں آ یا ، البتہ انفراسٹرکچر کو خاصا نقصان پہنچایا۔ پھر احتیاط کے باوجود بہت سی بے گناہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں، جس پر عالمی احتجاجی آواز یں اٹھنی ہی تھیں سو اٹھیں۔ صدر جوبائیڈن کو بھی یہ کہنا پڑا کہ اسرائیل اپنے حق دفاع کے باوجود سیز فائر کرے۔ یوں مصر کی مداخلت سے جس کی سرحدیں غزہ اور اسرائیل کے ساتھ ملتی ہیں اور جس کے ہر دو فریقین سے اچھے تعلقات ہیں۔ گیارہ روز شیلنگ کے بعد سیز فائر ہوئی ہے۔ اس فائر بندی کے باوجود خدشات موجود ہیں کہ آئیندہ اسرائیلی غزہ کےمعاملات پرنظر رکھیں گے اور جنہیں وہ حماس، یا اسلامی جہاد کے دہشت گرد سمجھتے ہیں، شیخ احمد یسین کی طرح انہیں ٹارگٹ کریں گے۔

ہمارے لوگ اپنے مخصوص مقاصد کے تحت الزام تراشیاں کرتے ہوئے حقائق کو مرڑوتے ہی نہیں ہیں بلکہ پروپیگنڈے کو موثر بنانے کے لئے اس میں خالص جھوٹ کی آمیزش کر دیتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے یہودی مظلوم فلسطینیوں کے بچوں کو ٹارگٹ کر کے مار رہے ہیں۔ خدا کے بندو دشمنی میں بھی ایمان کے لیے بے ایمانی کرتے ہوئے جھوٹ تو نہ بولو۔

اگر اسرائیلیوں نے غزہ کے فلسطینیوں کو ختم کرنا ہو تا تو کیا ان کے پاس وسائل کی کمی تھی، البتہ بہت سے ایسے جذباتی مسلمان ضرور مل جائیں گے جو کھلے بندوں یہ کہتے پائے جائیں گے کہ اگر ان کے پاس امریکا یا اسرائیل جیسی ٹیکنالوجی یا طاقت ہو تو وہ اسرائیل کے ناپاک وجود کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ کوئی یہودی زندہ نہ چھوڑیں۔ اس حوالے سے احادیث بھی پیش کی جاتی ہیں کہ پتھر بھی پکارے گا کہ اے مسلمان میرے پیچھے یہودی چھپا ہے تُو اسے قتل کر دے۔ ایرانی صدر احمدی نژاد نے اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی اپنی اس خواہش کا اظہار عالمی میڈیا کے سامنے کھلے بندوں کیا تھا۔ آج کی مہذب دنیا ایسی غیر انسانی سوچ کو کیسے قبول کر سکتی ہے؟

کتنی اہم بات ہے کہ جس رات یروشلم میں ٹمپل ماؤنٹ کے اوپر نیچے اتنے بڑے ہجوم جمع تھے اور کسی بڑی شرارت یا بڑے تصادم کی بو سونگھتے ہوئے اسرائیلی پولیس نے پیش بندی کے طور پر پتھر جمع کرنے والوں کو مسجد سے نکال باہر کیا، اس حساس آپریشن کے باوجود وہاں کوئی ایک ہلاکت نہیں ہوئی حالانکہ اپنی کوتاہی سے 44اسرائیلی مرے۔ اس کے بالمقابل حماس نے جو راکٹس پھینکے ان کا ٹارگٹ ہی اسرائیلی شہری یا یہودی آبادیاں تھیں، جائیزہ لیتے ہوئے اقوام دیگر کے خلاف محض ا ندھی منافرت پھیلانے کی بجائے سچائی اور حقائق پسندی سے کام لیا جانا چاہیے۔

اسرائیل فلسطین تنازع کا اگر ہم واقعی پرامن حل چاہتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ارض مقدس کا احترام ہو، یہاں دنگا فساد اور خون خرابہ نہ ہو تو پھر مسلم معاشروں میں اس ایشو پر کھلے اور بے لاگ مباحثوں کی اجازت مرحمت فرمائیں۔ یہاں جس قدر اسرائیل اور یہود کے خلاف بولنے اور لکھنے کی آزادی ہے جس میں منافرت پھیلانے کے لئے ٹنوں کے حساب سے جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ حماس، اسلامی جہاد اور حزب اللہ جیسی دہشت گرداور شدت پسندتنظیموں کے متعلق بھی حقائق بیان کرنے دیں۔درویش صاف کہتا ہے کہ دو ریاستی سوچ بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس سے پاکستان اور انڈیا جیسی نہ ختم ہونے والی منافرت ہر دو کے ساتھ چمٹ کر رہ جائے گی۔ ہر دو اطراف موجود منافرت کو کیسے ختم کرنا ہے پہلے اس پر مباحث کا آغاز فرمائیں تاکہ جیو اور جینے دو کی سوچ پروان چڑھے۔