احتجاج کا لہجہ بدل کہ دیکھیے

یہ تو طے ہے کہ انسانی تاریخ میں زندگی، ترقی اور اچھائی کی بات جب بھی ہوئی وہ جنگ کے میدان نہیں تھے۔ جنگ کے میدانوں میں ہار جیت انسانی ڈھانچوں اور تباہ شدہ اسلحے کا ملبہ دیکھ کہ ماپی جاتی ہے۔

’طاقت ور کون‘ یہ فیصلہ تو جنگیں کرسکتی ہیں مگر بقا اور دوام کسے ملی گی یہ جاننا میدان جنگ کی مٹی کے مقدر میں نہیں۔ اب معاملہ فلسطین کا ہو یا کشمیر کا۔ یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ حل جنگ نہیں۔ ویسے بھی ان بیچارے کشمیریوں اور فلسطینوں کے لیے کون سی کوئی جنگ لڑنے کو تیار ہے۔ اس لیے یہ خوش فہمی بھی فی الحال رہنے دیں۔

عوام کے پاس جنگ لڑنے کی طاقت نہیں ہوتی، ہاں ایک سٹریٹ پاور ہوتی ہے جو جارح کی نیندیں اڑا سکتی ہے۔ سڑکوں پہ ظالم کی مخالفت میں چیختے ہزاروں لاکھوں افراد یہ جتانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ مظلوم تنہا نہیں۔

یہاں اس سٹریٹ پاور کا تذکرہ مقصود نہیں جس میں مذہبی جماعت کے نعروں میں ایک فرقہ کافر ہو، جس میں سول سوسائٹی کا مقصد پریس کلب کے باہر موم بتی سلگا کر لایعنی مباحث کو ہوا دینا ہو۔ احتجاج  وہ بھی ناقابل قبول تھا جس میں مظاہرین کا فوکس پہلے سے مسلمان پولیس اہلکاروں کو تشدد کے بعد کلمے پڑھوانا تھا۔ اور وہ پاور شو بھی ناقابل قبول ہے جہاں اپنے پیٹی بھائیوں کی خاطر احتجاج کے نام پہ غنڈہ گردی ہو۔

وہ افراد جنہیں بریانی کی پلیٹ، مدرسے کے مولوی کی ڈانٹ یا پارٹی ذمے داروں کی جانب سے ملی چھوٹی موٹی رقم سڑکوں پہ لائے انہیں آپ سٹریٹ پاور نہیں کہہ سکتے۔ حقیقی عوامی ردعمل جب سڑکوں پہ آتا ہے تو بلاجھجھک اور بےدھڑک ہوتا ہے۔ مظاہرین کو پلے کارڈز بانٹنا نہیں پڑتے، انہیں نعرے سکھانے نہیں ہوتے۔ انہیں مقصد کا علم اور نتائج کا ادراک ہوتا ہے۔ وہ بار بار ٹائم پورا ہونے پر بسیں بھر بھر کے لانے والے کی جانب نہیں دیکھتے کہ ہاں بھئی یہ دیہاڑی کب ختم ہوگی؟

فلسطین کے معاملے پہ دنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں کو دیکھیں۔ مظاہرین کی تصاویر کو زوم کریں، ویڈیوز جو سوشل میڈیا پہ گردش کر رہی ہیں انہیں بار بار دیکھیں۔ دیکھیں کہ آرگینک پروٹیسٹ یعنی فطری احتجاج کس بلا کا نام ہے۔ فلسطین کے مظلوموں سے ہمدردی کرنے والوں میں کوئی بےنام سے قصبے میں مسائی قبیلے سے تعلق رکھنے والا افریقی  ہوگا تو کوئی یورپ کے کسی چھوٹے شہر کے بڑے گرجا گھر کے قریب رہنے والی لڑکی۔ اور جن سے چلا بھی نہیں جا رہا وہ بوڑھی خاتون امریکہ کے مصروف شہر کے مضافات سے آئی ہوں گی۔

نہ انہیں عربوں سے کوئی پیار امڈ کر آ رہا ہے نہ ہی مسلمانوں کی حسن اخلاق سے ایسے متاثر ہوئے ہیں کہ کھنچے چلے آئے۔ اور یہ بھی واضح ہو کہ ان افراد کی یہودیوں سے کوئی جانی دشمنی نہیں جس کی خار نکالنے کو مظاہروں میں شریک ہوگئے۔ آج اگر آپ یورپ، لندن، امریکہ کی سڑکوں پہ فلسطینوں کے حق میں ہزاروں افراد کے مظاہرے دیکھ رہے ہیں تو یہ اسی آزادی کا استعمال ہے جو انہیں فریڈم آف سپیچ کے نام پہ ملتی نہیں مگر یہ چھین کے لیتے ہیں۔

کوئی بڑی سیاسی جماعت پیسہ پانی کی طرح نہیں بہا رہی مگر پھر بھی سوشل میڈیا پہ پیغام سینہ بہ سینہ پہنچے اور ہزاروں کا مجمع احتجاج کے لیے اکٹھا ہوجائے۔ یہ سب اچانک سے نہیں ہوگیا۔ یہ اس جمہوری تربیت کا ثمر ہے جو یہ غیرمحسوس طریقے سےبرسوں سے لے رہے ہیں۔ ’بلیک لائیوز میٹر‘ جیسی تحریکیں جب چلتی ہیں تو نتائج فوری نہ بھی ملیں مگر قوموں کو بہت آگے تک کے لیے تیار کر دیتی ہیں۔

جب پبلک گھیر گھیر کہ لائی نہیں جاتی بلکہ خود ایک مقصد کی خاطر نکل کر آتی ہے تو تحریک کے کارکنوں کو میڈیا پہ چڑھائی نہیں کرنی پڑتی۔ اور یہ شکوہ بھی نہیں کرنا پڑتا کہ میڈیا نے ہمارے 75 افراد کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کو نو بجے خبرنامے میں کیوں نہیں دکھایا۔

ہم عوام سے جنگ ونگ ہونی کوئی نہیں یہ ہمارے بس کا کام نہیں۔ لے دے کے دو ہاتھ ہیں پلے کارڈ اٹھانے کو، دو پاؤں ہیں انجان مظلوموں کے لیے میلوں پیدل چلنے کو اور ایک زبان ہے شور مچانے کو۔ اگر چاہتے ہیں کہ یہ مظاہرے پراثر ہوں تو احتجاج کا لہجہ بدل کر دیکھیں، انقلاب کا راستہ وہی ایک ہے، بے ہنگم ہجوم کا راستہ بدل کر دیکھیں۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)