پاکستان کی قومی پیداوار چار فیصد تک بڑھنے کا حکومتی دعویٰ
- تحریر بی بی سی اردو
- ہفتہ 22 / مئ / 2021
- 6270
پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے موجودہ مالی سال میں ملکی معیشت کے تقریباً چار فیصد کی شرح سے بڑھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
موجودہ مالی سال کے اختتام سے تقریباً ایک مہینہ پہلے وفاقی حکومت نے ملکی معیشت کی شرح نمو کے عبوری اعداد و شمار جاری کیے ہیں جو وفاقی سطح پر کام کرنے والی نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ ملکی معاشی ترقی کے موجودہ مالی سال میں تقریباً چار فیصد کی رفتار سے بڑھنے کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے ملکی معیشت تباہ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
حزب اختلاف کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت کے اختتام پر جی ڈی پی کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ تھی تاہم موجودہ حکومت کے پہلے دو مالی برسوں میں جی ڈی پی کی شرح میں کمی دیکھی گئی اور گزشتہ سال یہ شرح منفی چار فیصد رہی جس کی ایک وجہ کورونا وائرس سے معاشی سرگرمیوں میں تعطل اور سست روی بتائی گئی۔
تاہم اس مالی سال میں معاشی ترقی میں تقریباً چار فیصد ترقی کا دعویٰ نہ صرف حکومت اور اس کے اپنے اداروں کے مقررہ کردہ اہداف سے زیادہ ہے بلکہ اس نے عالمی مالیاتی اداروں کے تخمینوں کو بھی مات دے دی ہے۔ پاکستان میں معیشت کے ماہرین بھی معاشی ترقی میں تقریباً چار فیصد ترقی کو حیران کن قرار دیتے ہیں اور اسے ملکی معیشت کی اصل صورتحال سے متضاد بتاتے ہیں۔
ان ماہرین کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کیونکہ گزشتہ تین سالوں میں معاشی ترقی بہت نیچے چلی گئی تھی اس لیے ملکی معیشت میں ہونے والی کم ترقی کا بیس ایفکٹ بہت بڑا نظر آرہا ہے۔ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے رواں مالی سال میں جی ڈی پی کے تقریباً چار فیصد تک بڑھنے کے اعداد و شمار حکومت کی جانب سے مقرر کردہ جی ڈی پی کے ہدف سے تقریباً دوگنا ہے۔
حکومت نے مالی سال کے شروع میں جی ڈی پی کا ہدف 2.1 فیصد مقرر کیا تھا جب ملکی معیشت گزشتہ سال منفی ہو گئی تھی۔ تاہم تازہ ترین اعداد و شمار ملک کے مرکزی بینک کے اقتصادی ترقی کے تخمینے سے بھی زیادہ ہیں جس کے مطابق ملکی معیشت تین فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔
حکومت کے عبوری اعداد و شمار نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے تخمینے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جس کے مطابق شرح نمو دو فیصد رہے گی جب کہ دوسری جانب عالمی بینک کے 1.5 فیصد شرح نمو کے تخمینے سے بھی حکومتی جی ڈی پی کا نمبر بہت اوپر ہے۔
ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے جی ڈی پی کے نمبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حیران کن ہے۔ انہوں نے کہا ان کے نزدیک آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے بہت کم شرح نمو کے تخمینے بھی غلط تھے کیونکہ وہ ملکی ترقی کی شرح نمو کو تین فیصد تک دیکھ رہے تھے تاہم چار فیصد کا نمبر بہت حیران کن ہے جس کی وجہ شاید بیس ایفیکٹ بھی ہے کیونکہ پچھلے برسوں میں شرح نمو کم اور منفی ہو گئی تھی اس لیے نمبر بہت بڑا نظر آ رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے موجودہ مالی سال میں جی ڈی پی کے چار فیصد تک بڑھنے کے دعوے پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے سابقہ وزیر خزانہ اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے صحیح یا غلط ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کے بقول لوگوں کی جانب سے زیادہ خرچ کیا گیا جو رواں سال سات فیصد سے زیادہ رہا۔ اس کی وجہ سے چیزوں کی طلب بڑھی اور اسے پورا کرنے کے لیے پیداوار زیادہ ہوئی۔ ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ ایک جانب کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں سولہ فیصد اضافہ ہوا تو کیسے زیادہ خرچ کیا گیا۔
انہوں نے ایک اور پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی جانب سے زیادہ خرچ کرنے کا نمبر دس برسوں میں بلند ترین سطح پر ہے۔ جب نواز لیگ دور میں جی ڈی پی پانچ فیصد سے زیادہ کی شرح نمو پر بڑھی تھی تو اس وقت بھی لوگوں کی جانب سے خرچ کا نمبر پانچ فیصد سے کچھ زیادہ تھا جبکہ اب حکومت اسے سات فیصد سے اوپر دکھا رہی ہے۔ یہ نمبر ایک ایسے وقت میں اوپر دکھایا گیا ہے جب لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کی قوت خرید بظاہر کم ہوئی ہے۔
حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر اپنی مرضی کے اعداد و شمار جاری کر کے ملکی معیشت میں شرح ترقی کو اوپر دکھانے پر تبصرہ کرتے ہوئے حفیظ پاشا نے کہا کہ انہوں نے بتا دیا ہے کہ کس طرح لوگوں کی جانب سے کیے جانے والے اخراجات کو اوپر کی سطح پر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’اس اشارے کو کافی سمجھیں۔‘
ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اعداد و شمار کے صحیح یا غلط ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ ’اعداد و شمار کو اپنی مرضی سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے۔‘ ان کے مطابق پاکستان میں سوائے کچھ شعبوں کے دوسروں کے اعداد و شمار کو اوسط پر لے کر اسے جی ڈی پی میں ظاہر کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً لائیو سٹاک کے شعبے کا سروے دس سال پہلے ہوا تھا اور اس کا ہر سال کا اوسط نکال کر جی ڈی پی میں ظاہر کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح خدمات کے شعبے میں بینکنگ کے علاوہ دوسرے شعبوں کا شمار نہیں ہوتا ہے۔ چھوٹی صنعتوں کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر بنگالی نے کہا ٹیکس وصولی کے اعداد وشمار کے علاوہ حکومتیں معاشی اہداف میں اپنی مرضی کرتی رہتی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی حالات اور جی ڈی پی کا نمبر ان کے نزدیک مطابقت نہیں رکھتے۔