کرونا کے ساتھ دو نمبری

مختلف ممالک سے  انٹرنیشنل ائرپورٹ پشاور پہنچنے والے  مسافروں  میں سے چالیس مسافر وں  میں کووڈ19  پازیٹو پایا گیا۔ انہیں ضلعی حکومت کے سپرد کر دیا گیا ہے  جہاں پہلے ہی ایک   سو سے زائد  غیر  ممالک سے آنے والے  متاثرہ مریض زیر  نگرانی ہیں۔

 خبر کے مطابق مسافروں کے پاس  کووڈ کے سکہ بند  ٹیسٹ  کی رپورٹس  تھیں۔ امکان  ہے   ٹریولنگ کی خاطر ان  ٹیسٹ رپورٹس   میں  گڑ بڑ کی گئی۔  اس سے قبل   رواں ہفتے  کے دوران پشاور  ائرپورٹ پر  بین الاقوامی مسافروں اور ائرپورٹ اسٹاف کے درمیان اس بات پر  جھگڑا ہو تھا  کہ ٹیسٹ رپورٹس  میں جعلسازی کی گئی تھی۔   اسی ہفتے سول ایوی ایشن نے ایک نجی ائیرلائن کا اجازت نامہ اسی بنا پر منسوخ کیا تھا کہ اس  نے  دوبئی سے 24   مسافروں کو  سوار کیا جن کے  کووڈ19  ٹیسٹ پازیٹو آئے۔  یہ  انٹرنیشنل ٹریونگ  ہدایات کی  سنگین خلاف ورزی تھی۔

 اس ماہ ایسا واقعہ دوسری  بار پیش آیا  جس پر سول ایوی ایشن کو ایکشن لینا  پڑا۔  بین الاقوامی ٹریولنگ  کے لئے  حکومت کی منظور کردہ لیبارٹریز  سے ہی  کرائی گئی  ٹیسٹ رپورٹس  قابل قبول ہیں لیکن کیا کیجئے کہ عیّار ذہن ہر  حساس مسئلے میں اپنی راہ بنانے پر  تُل جاتے ہیں۔ ان واقعات میں ساتھ سفر کرنے والے مسافروں کوبھی خطرات لاحق ہوئے،  غیر ممالک سے آمدورفت پر نظر رکھنے کے نظام  کو چکمہ دینے کی مجرمانہ کوشش  کی گئی جس  سے  عالمی سطح پر پاکستان کے   ا میج  پر  شک کا ایک اور  دھبہ پڑ گیا۔

دوسری طرف عالمی سطح  پر ویکسین، سخت  لاک  ڈاؤن  اور مسلسل پابندیوں کے بعد اب دنیا دھیرے دھیرے نارمل زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔  اس ساری  کوششوں میں  ٹیسٹ رپورٹس اور ویکسین سرٹیفیکیٹ بنیادی اہمیت کے دو اہم کاغذات ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے  اسی بنیاد پر ٹریول ببل    بنایا ہے تا کہ مسافر ایک دوسرے کی موجودگی میں محفوظ ہوں۔  یورپی ممالک  نے اس ہفتے  یہ فیصلہ کیا ہے کہ ممبر ممالک کے درمیان سفر کی اجازت دے دی جائے۔ اس سے قبل  صرف انتہائی ضروری سفر  کی اجازت تھی، تاہم ممبر ریاستیں اس سارے عمل کی نگرانی کریں گی کہ  ایس او پیز کی خلاف ورزی نہ ہو اور کرونا کیسز میں اضافہ نہ ہو ورنہ مہینوں کی محنت   اور  سخت پابندیوں کے  جبر  سے حاصل شدہ  کچھ کنٹرول پھر سے آؤٹ آف کنٹرول نہ ہوجائے۔ 

 سوچیں  اگر وہاں بھی کچھ عیّار ذہن ٹیسٹ رپورٹس اور ویکسین  سرٹیفیکیٹس کے ساتھ جعلی سازی کی مہم جوئی  کر بیٹھیں تو کیا  ہو؟   کووڈ 19 کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، ابھی تک کسی کو معلوم نہیں تاہم یورپ اور امریکہ میں وسیع پیمانے پر ویکسین  کے بعد کاروبار دھیرے دھیرے کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکہ میں کئی ریاستوں نے  عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی گائڈ لائینز واپس لے لی ہیں۔  برطانیہ اور فرانس میں کئی ماہ کے سخت لاک ڈاؤن کے بعد اب  ریستوران اور تفریح گاہیں کھلنا شروع ہو گئی ہیں۔  میوزیم اور سیاحتی مقامات کھولنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ بنیاد یہی دو  اقدام ہیں: ویکیسن رپورٹ جسے اب  ویکسین پاسپورٹ بھی کہا جا رہا ہے اور دوسرے  کسی ابہام کی صورت میں  ٹیسٹ رپورٹس۔  زندگی کی طرف لوٹنے کا یہ عمل  فول پروف  سرٹیفکیٹس کے سر پر کھڑا  کیا جا رہا ہے۔ جو بھی  کرونا کے ساتھ دو نمبری کرنے کی حماقت کرے گا، اسے قرار واقعی سزا کا سامنا ہو گا۔ اگر کسی ملک میں یہ کام منظم انداز میں سامنے آیا تو وہ ملک بھی پابندیوں کی  زد میں آ جائے گا۔

ہمیں برا لگتا ہے مگر  حقیقت یہی ہے کہ ہم میں سے  کچھ عیّار،  دو نمبری پر ہمہ وقت کمر بستہ  لوگوں نے  ماضی میں پاکستانی پاسپورٹ کو بدنام کرنے میں کسر نہیں چھوڑی۔ اب اندیشہ ہے کہ یہ دو نمبری کرونا کو اپنا اگلا دھندہ بنائے گی۔ یہ رپورٹس منظر عام پر آ چکیں کہ کس طرح با اثر فیمیلیز نے  گھروں میں بیٹھ کر  وقت  سے پہلے  آؤٹ آف ٹرن ہی ویکسین لگوا لی،   لاہور  میں  پی کے ایل آئی سنٹر میں ایک درجن سے زائد لوگوں کو برطرف کیا گیا کہ وہ پیسے لے کر  ان لوگوں کو  ویکسین لگا رہے تھے جن کی ابھی حکومت نے اجاز ت نہیں دی۔ اس سے قبل  جب حکومت نے صرف  ساٹھ  یا پچاس سال  تک کے شہریوں کو ویکسین لگانے کی اجازت دی تھی۔  یہ شکایا ت بھی سامنے آئیں کہ   پیسے یا سفارش پر  دھوکہ دہی سے  لوگوں کو ہیلتھ ورکرز  بنا کر ویکسین لگا دی گئی۔

ہمارے ہاں  ویکسین لگانے کی  رفتار اور  اس پروگرام  میں خاطر خواہ وسعت آئی ہے مگر ابھی تک  تناسب کے اعتبار سے  صرف چند فیصد لوگوں کو ہی ویکسین لگائی جا سکی ہے۔  ویکسین  کے بارے میں پروپیگنڈا  اور افواہوں کا بازار ویکسین سے زیادہ گرم ہے۔  ایسے میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا  کام  بہت نازک  ہے۔ ایک طرف وہ عوام کو  باور کروانے کی کوشش میں ہیں کہ کرونا پر ان کی پالیسیوں کی وجہ سے کنٹرول ہے، دوسری طرف  وہ عوام سے  ایس او پیز پر عمل درآمد اپیل بھی کر رہے ہیں۔  کاروبار کھولنے کی مجبوریوں سے بھی نبردآزما ہیں مگر دوسری طرف  کیسز  دوبارہ بڑھنے کا خوف بھی دامن گیر ہے۔

کرونا کا خطرہ ابھی تک ٹلا نہیں۔  اس وبا سے نارمل زندگی کی طرف لوٹنے کے لئے  آبادی کے بیشتر حصے کو ویکسین لگوانا ہی حل ہے تاکہ ہرڈ امیونٹی  حاصل ہو سکے  جو کہنا آسان اور کرنا مشکل  اور طویل  سفر کی مانند  ہے۔  ہمارے ہاں  کرونا   کے آغاز سے لے کر ماسک، ٹمپریچر گن اور ہیلتھ کئیر کے نام پر  بہت سی دو نمبریاں ہوئیں۔   ٹریولنگ کے لئے ٹیسٹ رپورٹوں میں دو نمبری اور آن لائن کے نام پر بند شٹرز کے نام  پر دو نمبریاں۔   وہ تو شکر ہے  کہ ویکسین ابھی تک سخت سرکاری کنٹرول میں لگائی جا رہی ہے ورنہ شاید ابھی تک اس میں  کچھ دو نمبری ہو چکی ہوتی۔

اس ہفتے دو انٹرنیشنل فلائٹس پر  ٹیسٹ رپورٹس میں ممکنہ جعل سازی  خطرے کی گھنٹی ہے۔  نارمل زندگی کی طرف لوٹتی دنیا  میں  ٹریولنگ  کے نام پر کرونا سے دو نمبری  پر کنٹرول نہ ہوا تو  انٹرنیشنل ٹریولنگ کے لئے پاکستانیوں کو کرونا  سے ہونے والا نقصان دوہرا ہو سکتا ہے۔